ڈیفنس حادثہ: ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے لاہور میں رش

لاہور میں ایک کم عمر ڈرائیور کی گاڑی کی ٹکر سے سات افراد کی جان چلی گئی جس کے بعد ایک عدالت نے بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد سے لائسنس بنانے والوں کا رش لگ گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد کہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، شہر میں لائسنس بنوانے کے لیے لوگوں کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔

لاہور ٹریفک پولیس نے مختلف مقامات پر نئے ناکے لگا کر بغیر لائسنس ڈرائیورز کو پکڑنا بھی تیز کر دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لاہور شہر میں قائم پولیس خدمت مراکز اس وقت لائسنس بنوانے والے افراد سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔

لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان عارف رانا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ 14 روز میں مجموعی طور پر خدمت مراکز پر ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق اڑھائی لاکھ سے زائد سروسز فراہم کی گئیں ہیں جن میں ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد نئے لرنر پرمٹس بنائے گئے، گیارہ ہزار سے زائد نئے لائسنس جاری ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد لائسنسوں کی ازسرے ہو تجدید ہوئی جبکہ 46 ہزار سے زائد لرنر پرمٹ کی دوبارہ تجدید ہوئی۔

عارف نے بتایا کہ لاہور میں صبح آٹھ سے رات بارہ بجے تک لائسنسنگ سروسز فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر قائم پولیس خدمت مراکز کی تعداد 34 ہے۔ جبکہ آٹھ خدمت مراکز ایسے ہیں جہاں شہری ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

اس مدت کے دوران 175 گمشدہ، 204 انڈورسمنٹ اور 1200 انٹرنیشنل لائسنس بھی جاری کیے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بھی لاہور لبرٹی مارکیٹ میں بنے پولیس خدمت سینٹر کا دورہ کیا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

عمران فراز انچارج لبرٹی پولیس خدمت سینٹر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’جب سے لائسنسنگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا ہے اس وقت سے بڑی تعداد میں لوگ ہر روز خدمت مراکز میں آ رہے ہیں اور اپنے لائسنس یہاں سے بنوا رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: 'ہم لوگ ایک شفٹ میں تقریباً اڑھائی سے تین ہزار لوگوں کو روزانہ دیکھ رہے ہیں جو نیا لائسنس بنوانے بھی آتے ہیں، دوبارہ تجدید بھی کرواتے ہیں اور لرنر بھی بنوا رہے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا نظام کیومیٹک پر چل رہا ہے، یہ ڈیجیٹلائزڈ نظام ہے۔ جو بھی آتا ہے وہ اپنا ایک کیومیٹک کا نمبر لیتا ہے اور قطار میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی اس کا نمبر آتا ہے وہ اپنا کام کرواتا ہے۔ اس وقت ہمارے گراؤنڈ فلور پر 23 کاؤنٹرز کام کر رہے ہیں اور فرسٹ فلور پر ہمارے سات کاؤنٹرز ہیں جو کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ہماری تین عدد موبائل وینز ہیں، چار کلٹس گاڑیاں بھی اضافی یہاں سی ٹی لاہور مستنصر فیروز کی ہدایت سے کھڑی ہیں جو کہ 24 گھنٹے لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں۔'

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ لوگ جن کے پاس پرانا کتابی صورت والا لائسنس ہوتا تھا اور وہ گم ہوچکا ہے تو وہ نیا لائسنس کیسے بنوائیں گے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو زیرو سے شروع کرنا پڑے گا۔ ’وہ پہلے لرنر بنوائیں گے، اس کے بعد پھر باقائدہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لبرٹی مارکیٹ میں قائم خدمت مرکز میں ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی ساتھ ساتھ لیے جا رہے تھے جنہیں ویڈیو پر ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

لائسنس کے حصول کے لیے وہاں موجود جند افراد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اپنی ملی جلی رائے کا اظہار کیا۔

ایک بزرگ شہری کمال حمید بھٹی نے اس نئے نظام کی بہت تعریف کی اور کہا: 'میں یہاں لائسنس بنوانے آیا ہوں۔ جو اچھی بات میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ یہاں دی جانے والی سہولیات بہترین ہیں۔ انہوں نے مجھے سینیئر شہری جانتے ہوئے ترجیحی بنیاد پر میرا کام کیا اور میں اپنا کام کروا کر پانچ منٹ میں باہر آگیا جو کہ بہت اچھا ہے اللہ کرے یہ ایسا ہی رہے۔'

ایک اور شہری عبدالاسلام نے جو کئی گھنٹوں سے وہاں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: میں آیا ہوں یہاں پر، یہاں ابھی رش ہے۔ کام تو ہو رہا ہے لیکن تھورا سست ہو رہا ہے۔ میری باری 981 ویں نمبر پر ہے اور ابھی 800 کے نمبر چل رہے ہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں ابھی جب ہماری باری آئے گی تو اندرج ائیں گے۔'

لوگوں کے رش کی وجہ سے خدمت مرکز کا کمپیوٹر سسٹم بھی کچھ دیر کے لیے جواب دے گیا جسے صحیح کرنے میں کچھ وقت لگا اور لوگوں کا انتظار بھی لمبا ہو گیا۔

لاہور ڈیفینس میں روں ماہ ہونے والے ایک ٹریفک حادثے میں ایک کم عمر ڈرائیور کی گاڑی کی ٹکر سے سات افراد کی جان چلی گئی تھی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر کم عمر اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روکیں اور ان کے ڈرائیورز کے خلاف مقدمہ درج کریں اور انہیں حراست میں لیں۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد سے لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان عارف رانا کے مطابق دس روز میں پانچ ہزار 902 بغیر لائسنس ڈرائیورز کے خلاف مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔

عام شہریوں کے خیال میں اس قسم کی مہم عام طور پر بدقسمتی سے کسی بڑے سانحے کے بعد شروع کی جاتی ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ گاڑی کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن کے وقت بھی ڈارئیونگ لائسنس کا ہونا لازمی قرار دیا جائے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل