لاہور: بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کی گرفتاری قانونی ہے؟

لاہور میں بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑیاں چلانے والے یا کم عمر ڈرائیورز کی گرفتاریوں کی مہم پر قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔

12 مئی 2020 کی اس تصویر میں پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کی ایک مصروف شاہراہ دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی) 

پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم 21 سالہ علی میزان اتوار کی شام لاہور میں لائسنس بنوانے موٹر سایئکل پر گھر سے نکلے۔ مزنگ چونگی کے قریب ٹریفک وارڈن نے انہیں روکا اور لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کو گرفتار کر لیا۔

علی میزان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میں نے انہیں بتایا کہ لائسنس بنوانے ہی جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئیں ہم آپ کو لائسنس بنوا کر دیتے ہیں۔ وہ مجھے مزنگ تھانے لے گئے جہاں میرے خلاف ون وہیلنگ کا پرچہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ تھانے کی حوالات میں درجنوں دوسرے نوجوان بھی موجود تھے، جن کے خلاف اسی طرح کے پرچے کاٹے جا رہے تھے۔  

لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر پولیس نے کم عمر ڈرائیورز اور بغیر ڈرائیونگ کرنے والوں کو گرفتار کرنا شروع کیا ہے، جس سے ایک نئی قانونی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا لائسنس نہ ہونے کی صورت میں کسی کی گرفتاری ممکن بھی ہے یا نہیں؟

لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان رانا عارف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گزشتہ 14 روز کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ ایسے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ 

معروف ماہر قانون فرہاد علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والے افراد کو گرفتار کرنے کا کسی قانون میں ذکر نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پولیس بغیر لائسنس والے ڈرائیورز کے خلاف تعزیرات پاکستان کے سیکشن 279 کے تحت مقدمہ درج کر رہی ہے، جو دراصل ایسے ڈروائیورز کے خلاف استعمال ہوتا ہے جن کی ڈرائیونگ سے کسی کو خطرہ لاحق ہو۔

’لیکن ایسے لوگ جو درست ڈرائیونگ کر رہے ہیں اور ان کے پاس لائسنس نہیں ہے ان کے خلاف یہ دفعہ نہیں لگتی۔ ان کا صرف چالان ہونا چاہیے۔‘

فرہاد علی شاہ نے کہا کہ بغیر لائسنس ڈرائیورز کو گرفتار کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا ہو گی، جس کے لیے اگلی پارلیمنٹ کا انتظار کرنا ہو گا۔

علی میزان کے خلاف درج ایف آئی آر میں صوبائی موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 کی دفعہ 99 لگائی گئی ہے، جو لاپرواہی یا خطرناک طریقے سے گاڑی چلانا سے متعلق ہے، جب کہ ون وہیلنگ کے لیے دفعہ 99 اے کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ ایف آئی آر میں سرے سے درج نہیں ہے۔ 

علی میزان کے خلاف دفعہ 102 بھی لگایا گیا ہے جو بعض جرائم کے لیے اکسانے کی سزا ہے۔

سٹی ٹریفک پولیس کے ترجمان رانا عارف کا کہنا تھا کہ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں گرفتاری کی سزا قانون میں موجود ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے صوبائی موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 کی دفعہ 99 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279 کا حوالہ دیا۔ 

پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے مطابق ’جو شخص کسی بھی عوامی راستے پر کسی بھی گاڑی، یا سواری کو اس قدر تیز رفتاری یا غفلت سے چلاتا ہے، جس سے انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو یا کسی دوسرے شخص کو چوٹ یا چوٹ پہنچانے کا خدشہ ہو، اسے ایک مدت کے لیے کسی بھی وضاحت کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت دو سے تین سال ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔‘ 

پاکستان پینل کوڈ کی یہ شق قطعاً ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے سے متعلق نہیں ہے۔ 

لاہور پولیس کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان دفعات کے تحت اس لیے گرفتاریاں کی جارہی ہیں کیونکہ لائسنس نہ ہونے پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے علاوہ پولیس کے پاس کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبائی موٹر وہیکل آرڈینینس 1965 میں دفعہ تین بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کے متعلق موجود ہے جس میں کہا گیا ہے: ’لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے پر پابندی ہے کوئی بھی شخص کسی عوامی جگہ پر موٹر گاڑی نہیں چلا سکتا جب تک کہ اس کے پاس گاڑی چلانے کا اختیار دینے والا مؤثر لائسنس نہ ہو اور کوئی شخص موٹر گاڑی کو بطور تنخواہ دار ملازم نہیں چلا سکتا یا عوامی خدمت کی گاڑی نہیں چلا سکتا جب تک کہ اس کا لائسنس اسے خاص طور پر ایسا کرنے کا حق نہ دے۔۔۔‘

اس پورے سیکشن میں لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والے کو گرفتار کرنے کا قطعاً کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ 

ماہر قانون فرہاد علی شاہ کا صوبائی موٹر وہیکل آرڈینینس کی دفعہ 99 کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے اس پر ایف آئی آر بنتی ہی نہیں۔‘ 

فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں اب تک ہزاروں ایسی ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ 

انہوں نے کہا: ’میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ بہت بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔ جن بچوں پر یہ مقدمے درج ہو رہے ہیں ان کا کریمینل ریکارڈ بنایا جا رہا ہے جو ان کے مسقبل شروع ہونے سے پہلے ختم کر رہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف رٹ ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب کم عمر ڈرائیورز کا کریمینل ریکارڈ بنانے کے اقدام کو ایڈوکیٹ رانا سکندر نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ 

رانا سکندر کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی آڑ میں کم عمر بچوں کا نام کریمینل ریکارڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان