ٹک ٹاکر عالیان پر قتل کا جرم ثابت، عدالت نے موت کی سزا سنا دی

جج طاہرعباس سِپرا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’عالیان نے جائے وقوعہ کی خود نشاندہی کی ہے، اس کے علاوہ مجرم عالیان سے 30 بور پستول بھی برآمد ہو چکی ہے۔‘

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 29 نومبر 2023 کو عالیان کے خلاف فیصلہ سنایا (تصویر: ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد ویب سائٹ)

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے بدھ کو ٹک ٹاکر عالیان کو ’ثبوتوں اور گواہان‘ کی روشنی میں قتل اور چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنا دی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں 29 نومبر 2023 کو سنائے جانے والے فیصلے کے مطابق مجرم کو قتل کے جرم میں سزائے موت، پانچ لاکھ روپے جبکہ چوری کے جرم میں مجرم عالیان کو سات سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔‘

تحریری حکم نامے میں درج تفصیل کے مطابق ’گذشتہ برس مئی میں ٹک ٹاکر محمد نیاز عرف عالیان نے مدعی مقدمہ کے بیٹے کو قتل کیا۔ مقتول خرم اکبر رات گئے گجرانوالہ سے اسلام آباد کی طرف آ رہے تھے، اسی دوران مجرم عالیان نے 28 سالہ خرم اکبر سے گاڑی چھینی اور قتل کر کے فرار ہو گیا۔‘

جج طاہرعباس سِپرا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’عالیان نے جائے وقوعہ کی خود نشاندہی کی ہے، اس کے علاوہ مجرم عالیان سے 30 بور پستول بھی برآمد ہو چکی ہے۔‘

انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے مزید کہا کہ ’مجرم نے آلہ قتل کو جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔ مجرم عالیان نے جو بیان دیا اس میں کہا تھا کہ جب قتل کی خبر ملی تو وہ پشاور میں موجود تھے لیکن پشاور سے کسی گواہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ مجرم اس وقت پشاور میں موجود تھا۔

’مجرم نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مقتول کے ساتھ ان کا لین دین کا معاملہ تھا لیکن بینک اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج طاہر سپرا نے فیصلے میں مزید کہا کہ ’مجرم عالیان کے استعمال میں 30 بور پستول کا فارینزک میچ ہوا ہے، مجرم کی گواہان نے شناخت بھی کی کہ لوٹنے کے دوران ایک جوان شخص کو بےدردی سے قتل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ ایک اندھا قتل نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا قتل تھا۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟

اس واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ’وقوعہ گذشتہ برس چھ مئی کو پیش آیا تھا جب مقتول خرم اکبر جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور پراپرٹی کا کام بھی کرتے تھے، وہ گوجرانوالہ سے اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ اسلام آباد کی حدود میں ان کے ساتھ یہ واردات پیش آئی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’ان (خرم اکبر) کی گاڑی زبردستی روک کر گاڑی، موبائل فون اور نقدی بھی چھین لی گئی۔ اسی دوران مزاحمت پر انہیں قتل کیا گیا، جس کے بعد مئی 2022 میں مجرم عالیان کے خلاف تھانہ گولڑہ میں قتل، چوری کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔‘

ٹرائل کورٹ کو تھانہ گولڑہ کی جانب سے سات مئی 2022 کو مقدمہ بھجوایا گیا تھا۔ گولڑہ تھانے میں مقدمہ مقتول کے والد اکبر منیر کی مدعیت میں درج کیا گیا اور ملزم کو پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل