ماضی میں کن جماعتوں کے سربراہوں کو پارٹی صدارت چھوڑنی پڑی؟

تحریک انصاف نے 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جو کسی صورت دانشمندی نہیں تھی شاید اسی وجہ سے دوبارہ انٹر پارٹی انتخابات کرائے تاکہ وہ انتخابی سیاست میں حصہ لے سکے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان دو نومبر 2018 کو چین کے دورے کے دوران بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ایک تقریب کے دوران (روئٹرز) 

سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی پہلی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے بانی سربراہ عارضی بنیادوں پر جماعت کی سربراہی سے الگ ہوئے ہیں اور اپنی جگہ ایک نگران مدت کے لیے نیا سربراہ چننے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان نے چیئرمین شپ کے لیے اپنے وکیل  بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین شب سونپی ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ ن اس عمل سے دو مرتبہ گزری ہے۔

تحریک انصاف سمیت ملک کی چھ بڑی جماعتوں کو اسی طرح کے عمل سے گزرنا پڑا جب سیاسی جماعت کے سربراہ کی جگہ کسی اور یہ ذمہ داری ادا کی۔

کسی جماعت کے سربراہ نے قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے کیا تو کسی رضاکارانہ طور اپنی جماعت کی صدارت سے دستبرداری کی۔

کچھ سیاسی جماعتوں نے نئے سربراہ کو منتخب کرلیا تو کسی نے نئی جماعت بنالی اور اس سب سے بڑھ کسی نے اپنے قائد سے ہی لاتعلقی ظاہر کر دی۔

تحریک انصاف نے بھی قانونی مسائل سے بچنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراض اٹھایا تھا اور انٹر پارٹی انتخاب کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20 دنوں میں پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا اور ساتھ یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان ’بلے‘ سے محروم ہو جائے گی۔

انتخابی نشان کسی بھی سیاسی جماعت کی پہچان ہوتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں سیاسی جماعتیں قانونی چارہ جوئی بھی کرتی رہیں ہیں۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر دوبارہ ہونے والے انٹر پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر خان پارٹی کو بلامقابلہ نیا چیئرمین تحریک انصاف چن لیا گیا تاہم بیرسٹر گوہر خان کا چناؤ عارضی نوعیت کا ہے۔

خود بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے انتخاب کے بعد واضح کیا کہ وہ عمران خان کے ’جانشین اور نمائندے کی حیثیت سے یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور اس وقت تک یہ منصب اُن کے پاس امانت کی طرح ہے جب تک خان صاحب واپس نہیں آجاتے۔

بیرسٹر گوہر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عمران خان چیئرمین تھے، آج بھی چیئرمین ہیں اور تاحیات چیئرمین رہیں گے۔

بیرسٹر گوہرعلی خان تحریک انصاف کے قیام کے بعد پارٹی کے  پہلے چیئرمین ہیں جن کو عمران خان کی جگہ چنا گیا البتہ اس دوران کئی سیکریٹری جنرل رہے۔

جہاں عمران خان کی چیئرمین شپ کو کچھ اور سیاسی رنگ دیے جا رہے ہیں وہیں تحریک انصاف کے سربراہ کے اس قدم کو دانشمندی سے تعبیر کیا گیا۔ اس طرح اُن کی جماعت عام انتخابات میں حصہ لے سکے گی اور یہ اقدام کوئی انہونی نہیں ہے۔

2002 کے انتخابات کا اعلان ہوا تو پیپلز پارٹی کو خدشہ محسوس ہوا کہ بینظیر بھٹو کی سزا کی وجہ سے پیپلز پارٹی انتخابات سے دور ہوسکتی ہے۔ اسی اندیشے کی بنیاد پر 2002  میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پیپلز پارٹی نے انوکھی حکمت عملی مرتب کی۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے دوران پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی گئی جس کی سربراہی بھٹو فیملی کے بجائے سندھ سے  تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت مخدوم امین فہیم کو دی گئی۔

پھر اسی تین ’پی‘ کی جگہ چار ’پی‘ والی نئی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی سیاست اسی چار’پی‘ یعنی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینرز کے نام سے ہی ہو رہی ہے۔

سابق فوجی صدر جنرل  پرویز مشرف کے اسی دور میں مسلم لیگ ن بھی زیر عتاب تھی اور شریف فیملی کے رکن حمزہ شہباز کے  سوا تمام ارکان کو جلاوطنی میں سعودی عرب بھیج دیا گیا اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان سے مخدوم جاوید ہاشمی کے حصے میں آئی ہے جنہیں قائم مقام صدر بنایا گیا اور وہ اُس وقت تک پارٹی کے سربراہ رہے جب تک شریف فیملی کی واپسی نہیں ہوئی۔

2016 میں نواز شریف کو نااہلی کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنی جماعت کی صدارت چھوڑنی پڑی اور ان کی جگہ ان کے بھائی شہباز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنایا گیا اور وہ ابھی تک اس عہدے پر برقرار ہیں۔

2002 کے انتخابات میں اُس وقت کی کنگز پارٹی مسلم لیگ ق کو اقتدار ملا جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں اپوزیشن بینچز پر بیٹھے لیکن انہیں دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف 2002 کے انتخابات سے باہر تھے۔

1988 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دو دو مرتبہ وزیر اعظم  رہنے والے سیاسی رہنما کی جماعتیں قومی اسمبلی کا تو حصہ تھیں لیکن ان دونوں سابق وزرائے اعظم  نے انتخابات میں حصہ نہیں لے لیا۔

1975 میں جب نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پیپلز پارٹی کے رہنما حیات شیر پاؤ کی بم دھماکے میں موت واقع ہوئی تو نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں اس پر پابندی لگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ وہی وقت تھا جب پارٹی کے سربراہ ولی خان سمیت مرکزی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا تو ولی خان کی اہلیہ نسیم ولی خان نے ایک طرح پارٹی کے سربراہی کا بیڑا اٹھایا۔

اپنے دور کی اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان عملی سیاست سے دستبردار ہوئے اور اپنی جماعت کی قیادت بھی چھوڑ دی لیکن پھر دوبارہ جماعت کی باگ ڈور سنبھالی اور کچھ عرصہ اس کے چیئرمین رہے۔

اصغر خان نے اپنی زندگی میں ہی تحریک استقلال کو عمران خان کی جماعت تحریک انصاف میں ضم کر دیا اور پھر دوبارہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

اصغر خان ملک کے واحد سیاست دان تھے جنہوں نے دو مختلف سیاسی جماعتیں تشکیل دی۔

ان کی پہلی سیاسی جماعت جسٹس پارٹی اور دوسری استقلال پارٹی تھی۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کو ملکی سیاست میں ممتاز مقام حاصل رہا لیکن انتخابات لڑنے کے باوجود کبھی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے۔

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور اس کے سربراہ بنے لیکن اپنی بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر سیاسی جماعت کی صدارت سے الگ ہو گئے۔

ایم کیو ایم بھی اسی کڑی میں شامل سیاسی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر کے بعد یہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اس طرح ایک ایم کیو ایم لندن اور دوسری اہم کیو ایم پاکستان کہلائی۔ ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت نے اپنے قائد سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔

پیپلز پارٹی نے اپنے قیام سے لے کر 56 برسوں میں ایک انتخاب کے علاوہ تمام انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں ہونے والے عام انتخابات بائیکاٹ کیا تھا جس کا اسے آج تک افسوس ہے۔

ایم کیو ایم نے بھی 1993 میں قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن دو دن بعد ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔

کسی سیاسی جماعت اور خاص طور پر انتخابات میں حصہ لینے والی کسی سیاسی جماعت کے لیے یہ نیک شگون نہیں ہے کہ وہ خود کو انتخابات سے دور رکھے۔ اس لیے کیسے بھی حالات ہوں وہ انتخابات میں حصہ ضرور لیتی ہے۔ اس کی مثال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنی سربراہ بینظیر بھٹو کی موت کے باوجود انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا۔

تحریک انصاف نے 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جو کسی صورت دانشمندی نہیں تھی شائد اسی وجہ سے دوبارہ انٹر پارٹی انتخابات کرائے تاکہ وہ انتخابی سیاست میں حصہ لے سکے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ