بیرسٹر گوہر خان پی ٹی آئی چیئرمین منتخب، اپوزیشن کی تنقید

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بیرسٹر گوہر پارٹی کے بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب خان سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان نو اگست 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک سماعت میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں (عامر قریشی/ اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آج پشاور میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتیجے میں بیرسٹر گوہر خان بلامقابلہ پارٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔

الیکشن کمیشن نے گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 20 دنوں میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا، بصورت دیگر جماعت کو فروری 2023 کے عام انتخابات میں ’بلے‘ کے انتخابی نشان سے محروم ہونا پڑتا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بیرسٹر گوہر پارٹی کے بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب خان سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق بلوچستان کے صدر کے لیے منیر احمد بلوچ، سندھ کے صدر کے لیے حلیم عادل شیخ، پنجاب کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد اور خیبر پختونخوا کے لیے علی امین گنڈاپور صدر منتخب ہوئے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زبانی یقین دہانی اور غلطیوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کے باوجود الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کروایا گیا تاکہ حکام کو پارٹی سے انتخابی نشان واپس لینے سے روکا جا سکے۔

پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد جماعت کے الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی نے پشاور میں میڈیا کو بتایا کہ تمام امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے ’ہمارے انتخابات کو مسترد کر دیا اور 20 روز دیے۔ ہم نے مختصر وقت میں الیکشن کروا کر ثابت کیا کہ پی ٹی آئی جمہوری پارٹی ہے۔ ملک میں جب قانون کی بالادستی ہوگی تو ملک قائم ہوگا۔‘

نیاز اللہ نیازی نے الیکشن کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے صدور کے نام آئے، جبکہ تمام سرگرمی ہم نے الیکشن رولز کے تحت کیں۔ تمام صوبوں سے حتمی نام مجھے موصول ہوئے۔‘

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن ’فراڈ‘ ہیں، ای سی پی میں چیلنج کریں گے: اکبر ایس بابر

پاکستان تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے ہفتے کو کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو چیلنج کرتے ہیں اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا: ’یہ کیسا الیکشن تھا جس میں کوئی بانی ممبر شامل نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی میں وہ یہ معاملہ لے جائیں گے اور امید کرتے ہیں کہ مزید بانی ممبران ان کا ساتھ دیں گے، اس کے بعد ’ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دے۔‘

اکبر بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے پرانے ممبران کو اہمیت نہیں دیتی جبکہ یہ انٹرا پارٹی الیکشن ’فراڈ اور دھوکہ‘ ہیں۔

انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہر جماعت کی فنڈنگ کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا انتخاب ’سلیکشن‘ ہے: مریم اورنگزیب

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ہفتے کو کہا کہ تحریک انصاف کو بانی رہنماؤں اور کارکنان کا اتنا خوف تھا کہ انہیں الیکشن کے عمل سے ہی باہر کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کا انتخاب کرنے والی مسلم لیگ ن پہلی جماعت ہے۔

ان کے بقول: ’مسلم لیگ ن پہلی جماعت ہے جس نے سب سے پہلے منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ تشکیل دیے۔‘

بیرسٹر گوہر خان کی نامزدگی

بیرسٹر گوہر خان کی بطور قائم مقام چیئرمین نامزدگی عمران خان کی جانب سے کی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے گذشتہ روز کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

اس سے قبل اپنی نامزدگی پر بیرسٹر گوہر خان نے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی وہی ہے، جو عمران خان کی ہے۔ خان صاحب لیڈر ہیں، چاہے وہ جیل کے اندر ہیں یا جیل سے باہر ہیں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر شیر افضل مروت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’موجودہ حالات میں تحریک انصاف کو دوبارہ پارٹی انتخابات مجبوری میں کروانا پڑ رہے ہیں۔‘

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ’وقت کم ہے اس لیے ہم نے دو دسمبر کو جو پارٹی انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں چیئرمین کے امیدوار عمران خان کی منظوری سے بیرسٹر گوہر علی خان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ مرکزی عہدوں اور صوبائی صدور کا انتخاب کیا جائے گا۔‘

بقول شیر افضل مروت: ’یہ بلا مقابلہ انتخاب ہوگا کیونکہ پارٹی کے تمام رہنما اور کارکن چیئرمین عمران خان کی قیادت پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ان کے تجویز کردہ امیدواروں کے مقابلے میں کوئی انتخاب میں حصہ نہیں لینا چایتا۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے نئے پی ٹی آئی چیئرمین کی تقرری مسترد اور انٹرا پارٹی الیکشن کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ الیکشن نہیں سراسر سلیکشن ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں اپنے آزاد مبصرین مقرر کرے۔‘

بیرسٹر گوہر خان کون ہیں؟

ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گوہر خان سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2004 سے وکالت کا باقاعدہ آغاز کرنے والے گوہر خان نے جولائی 2022 سے عمران خان کی عدالتوں میں نمائندگی شروع کی۔

بیرسٹر گوہر خان پہلے پی ٹی آئی رہنماؤں کے مقدمات کے لیے معاوضہ لیا کرتے تھے، تاہم 2022 سے وہ بغیر کسی معاوضے کے جماعت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گوہر خان پہلے ایسے وکیل ہیں، جنہوں نے غیرملکی فنڈنگ کیس میں سب سے پہلے رٹ پٹیشن دائر کی اور توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان کی نمائندگی کی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ ایسا تاریخی کیس تھا، جس نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

گوہر خان کہنا تھا کہ ’تبدیلی اور اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، میں جدوجہد کے ساتھ ہوں۔ ہمیں یہ پرانا نظام ختم کرنا ہے جس کے لیے اصلاحات لانا ضروری ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان