مشاورت کے لیے تین امریکی عہدیداروں کا دسمبر میں دورہ پاکستان: دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سٹیٹ سیکریٹری جولیٹا والس، ٹام ویسٹ اور الزبیتھ ہورسٹ چار سے 12 دسمبر کے دوران پاکستان آ رہے ہیں۔

امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے آبادی، پناہ گزین و نقل مکانی بیورو جولیٹا والس نوئس 12 دسمبر 2022 کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہی ہیں ( اے ایف پی)

سال کے اختتام سے قبل رواں ماہ تین اعلی امریکی عہدے دار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جن کی آمد کی پیر کو سرکاری سطح پر تصدیق بھی ہو چکی ہے۔

سٹیٹ سیکریٹری جولیٹا والس، ٹام ویسٹ اور الزبیتھ ہورسٹ چار سے 12 دسمبر کے دوران پاکستان آ رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ان دوروں کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان کئی معاملات پر مشاورت جاری ہے یہ دورے اسی تناظر میں ہیں۔‘

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ جولیٹا والس نوئیس برائے بیورو آف پاپولیشن، مہاجرین اور ہجرت چار سے سات دسمبر 2023 تک اسلام آباد کا سفر کریں گی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد میں، اسسٹنٹ سیکریٹری نوئیس سینیئر سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری اور بین الاقوامی تنظیم کے شراکت داروں سے ملاقات کریں گی تاکہ غیر محفوظ افراد کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور امریکی امیگریشن پائپ لائن میں افغان مہاجرین کی محفوظ، موثر نقل مکانی اور دوبارہ آبادکاری کو تیز کیا جا سکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ پاکستان ممتاز زہرا بلوچ نے اس دورے کی تصدیق کی ہے اور ساتھ ہی بتایا کہ جولیٹا کے دورے کے فوراً بعد افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی ٹام ویسٹ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان کئی معاملات پر مشاورت جاری ہے اور مشاورت کو آگے بڑھانے کے لیے دوروں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، لہذا اسی تناظر میں آنے والے دنوں میں اہم دورے شیڈول میں ہیں۔‘

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ’افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی ٹام ویسٹ سات تا نو دسمبر 2023 پاکستان کا دورہ کریں گے، جب کہ پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری الزبتھ ہورسٹ نو تا 12 دسمبر پاکستان کا دورہ کریں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکی عہدیداروں کے یہ دورے صرف افغان صورت حال تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ دورے امریکا کے ساتھ افغان صورت حال سمیت متعدد مسائل پر مذاکرات کا حصہ ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان