امریکہ کی 50 ریاستوں میں میراتھان ریس مکمل کرنے والے پاکستانی

آغا حسنین نے نیویارک، شکاگو، فلوریڈ کے علاوہ نیواڈا اور کیلی فورنیا میں ہونے والی کئی ریسز میں بھی حصہ لیا ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر برک میں گذشتہ 30 سال سے مقیم آغا حسنین قزلباش اپنے دن کا آغاز تین سے چار گھنٹے ورزش سے کرتے ہیں۔

آغا حسنین کے مطابق انہیں امریکہ کی 50 ریاستوں میں ہونے والی مختلف میراتھان ریسز میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، جہاں ان کے ہمراہ پاکستانی پرچم بھی ہوتا ہے۔

وہ ایک پروفیشنل رنر ہیں جن کی کہانی پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب سے اس وقت شروع ہوئی، جب وہ کالج کی تعلیم کے لیے لاہور آئے۔

یہاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ انہوں نے پروفیشنل رنز کی تربیت لی اور 1990 کی دہائی میں پاکستان میں قومی سطح پر ہونے والی ریسز میں حصہ لیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے آغا حسنین نے بتایا کہ امریکہ منتقلی کے بعد وہ ریس میں حصہ لینے کا ارادہ ترک کر چکے تھے، لیکن 9/11 کے تناظر میں جس طرح پاکستان کو انتہا پسند ریاست کے طور پر پیش کیا جانے لگا تو وہ انفردی طور پر اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے۔

آغا کے مطابق تب ہی انہیں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اہم میراتھان ریسز میں بطور پاکستانی نژاد امریکی شرکت کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتائیں کہ پاکستانی امن پسند اور مثبت سوچ رکھنے والے عوام ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آغا حسنین نے نیویارک، شکاگو، فلوریڈ کے علاوہ نیواڈا اور کیلی فورنیا میں ہونے والی کئی ریسز میں بھی حصہ لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کام شاید سننے میں آسان لگے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ نہ صرف اس شوق پر خرچ ہونے والی رقم ہے بلکہ وقت بھی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کی ایک بڑی تعداد تو ان میراتھان ریسز کے بنیادی قواعد و ضوابط سے بھی واقف نہیں ہوتی۔‘

آغا حسنین کے مطابق وہ ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو ریس مکمل کرتے ہیں اور جس کا سرٹیفیکیٹ انہیں ان ریسوں کی انتظامیہ سے دیا جاتا ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ امریکہ کی 50 ریاستوں میں ریس مکمل کرنے میں انہیں 11 سال لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں تمام توجہ صرف کرکٹ پر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان کسی بھی اور کھیل میں دلچسپی نہیں لیتے۔‘

آغا حسنین کا ارادہ ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر ایک اکیڈمی بنائیں گے، جہاں ریس میں حصہ لینے سے لے کر نوجوانوں کو میراتھان میں شرکت کرنے تک کی تربیت دی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی بیٹیاں بھی مقامی سطح کی ریسوں میں حصہ لیتی ہیں، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سکول کی سطح پر ہی طلبہ جسمانی فٹنس پر توجہ دینے لگتے ہیں۔

آغا حسنین نے یہ بھی بتایا کہ وہ آنے والے دنوں میں پاناما میں ہونے والی ایک بین الاقوامی میراتھان میں شرکت کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل