الیکشن کمیشن کی مالی ضروریات پوری کریں گے: وزیراطلاعات

نگران وزیر اطلاعات مرتضٰی سولنگی کے مطابق انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو جو بھی بجٹ درکار ہو گا وہ ضرورت کے مطابق جاری کر دیا جائے گا۔

ایک سکیورٹی اہلکار 21 ستمبر، 2023 کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر کھڑا ہے (اے ایف پی/ عامر قریشی)

پاکستان کے نگران وزیر اطلاعات مرتضٰی سولنگی نے پیر کو واضح کیا کہ آئندہ عام انتخابات منعقد کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کی مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے ’کوئی بحران نہیں۔‘ 

ملکی میڈیا پر آج دن بھر خبریں گردش کرتی رہیں کہ حکومت نے آئندہ عام انتخابات کے لیے کمیشن کو درکار مالی وسائل فراہم نہیں کیے اور الیکشن کمیشن نے آج وزارت خزانہ کو اپنی مالی ضروریات سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

نگران وزیر اطلاعات نے آج ایک بیان میں کہا کہ ’وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بجٹ ضروریات کے لیے 42 ارب روپے کی منظوری دی تھی۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ’10 ارب روپے کی رقم پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔‘ 

مرتضٰی سولنگی نے بتایا کہ کمیشن نے منظور شدہ بجٹ کی رقم میں سے 17.4 ارب روپے جاری کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے اور کمیشن کو جو بھی بجٹ درکار ہو گا وہ ضرورت کے مطابق جاری کیا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ہم آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے سیکریڑی داخلہ آفتاب اکبر درانی کو ایک مراسلے میں کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی نازک صورت حال  کے پیش نظر پولنگ سٹیشنز پر فوج تعینات کی جائے۔

مراسلے کے مطابق الیکشن کے دوران پاکستان آرمی اور سول آرمڈ فورسز کی بطور سٹیٹک اور کوئیک رسپانس فورس تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

مراسلے میں کہا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت تین لاکھ 28 ہزار 510 اہلکار دستیاب ہیں جبکہ کُل دو لاکھ 77 ہزار 558 اہلکاروں کی کمی ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اہلکاروں کی کمی کو پاکستان آرمی اور سول آرمڈ فورسز کے ذریعے پورا کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے آٹھ فروری کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ 

گذشتہ ہفتے کمیشن نے انتخابات کے لیے ضروری حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستیں جاری کی تھیں۔ وزیر اطلاعات اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کہہ چکے ہیں کہ انتخابات طے شدہ وقت پر ہی ہوں گے۔  

سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی انتخابات کی تیاریوں میں تیزی ہے اور ملک بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں پر غور کے لیے اجلاس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست