عمران خان ایک اور سیاسی غلطی کر گئے

حامد خان، علی محمد خان اور بیرسٹر علی ظفر جیسے رہنماؤں کو انٹرا پارٹی الیکشن میں موقع نہ دے کر عمران خان نے بچے کچھے وفادار ساتھیوں کو وہ پیغام دیا، جو اس مرحلے پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا۔

عمران خان 15 مارچ، 2023 کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر اے ایف پی کو انٹرویو دے رہے ہیں (اے ایف پی/ عامر قریشی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج جس حالت میں بطور سیاسی جماعت کھڑی ہے، اس میں نو مئی اور اس سے پہلے کیے گئے پارٹی سربراہ عمران خان کے ان فیصلوں کا کردار ہے، جنہوں نے ریاست کی پروان چڑھائی ایک سیاسی جماعت کو ریاست کے سامنے لا کھڑا کیا۔

چاہے وہ سائفر معاملے پر کھڑا کیا گیا بیانیہ تھا، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں ختم کرنا، نو مئی کے واقعات یا اس کے بعد اپنائی گئی سیاسی حکمت عملی، ان تمام معاملات میں سیاسی سوجھ بوجھ اور دوراندیشی نہ ہونے کے برابر تھی۔

نتیجتاً ایک معروف سیاسی جماعت سکڑتی رہی اور نو مئی کے بعد ریاست کے سامنے ایسے کھڑی ہو گئی، جس میں ریاست کے پاس ردعمل دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

اس تمام عرصے میں شاہ محمود قریشی، حامد خان، علی محمد خان اور بیرسٹر علی ظفر جیسے رہنما منظرعام سے غائب ہوئے بغیر نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ عمران خان کو تصادم کی راہ سے بچنے کے مشورے بھی دیتے رہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ سیاسی رہنما جو تصادم کی پالیسی پر نہ صرف عمل پیرا رہے بلکہ جماعت کے اندر اس پالیسی سے اختلاف رائے رکھنے والے رہنماؤں کو سائیڈ لائن کرواتے گئے، ان کے نام سب سے پہلے پارٹی چھوڑنے والوں میں سرفہرست رہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں جو رہنما اور کارکنان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے اور آج بھی کھڑے ہیں، انٹرا پارٹی انتخابات میں سینیئر قیادت کو نظرانداز کرنے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے دو رہنماؤں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخاب کے فیصلے ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں اور ان میں بددلی پیدا ہوئی ہے۔

بیرسٹر علیٰ گوہر کو چیئرمین بنانے کے پیچھے حکمت عملی یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ جیل میں بھی نہیں اور عمران خان سے بلاروک ٹوک ملاقات کر کے ان کا پیغام پارٹی کارکنان کو پہنچا سکتے ہیں۔

اس حکمت عملی کے تحت پابند سلاسل شاہ محمود قریشی کو نظر انداز کرنے کی وجہ تو سمجھ آ سکتی ہے لیکن ایسے میں حامد خان، بیرسٹر علی ظفر اور علی محمد خان جیسے پارٹی کے دیرینہ رہنما جو وکیل بھی ہیں اور عمران خان سے بلا روک ٹوک مل بھی سکتے ہیں، انہیں نظر انداز کرنے سے پارٹی کارکنان کو پیغام یہ گیا کہ بہترین آپشنز ہونے کے باوجود بیرسٹر علی گوہر کو چیئرمین شپ سونپنے سے تحریک انصاف ہائی جیک ہو چکی ہے۔

بیرسٹر علی گوہر انتہائی ذہین وکیل ہیں لیکن وہ 2021 تک باقاعدہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل رہے۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتوں نے یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ صرف خواجہ آصف کے اس بیان سے اندازہ لگا لیں کہ تحریک انصاف کا نیا چیئرمین آصف زرداری کے ہاتھ کا تراشا ہوا ہیرو ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سطور کا مقصد بیرسٹر علی گوہر کی قابلیت یا ذہانت پر سوال اٹھانا قطعاً نہیں لیکن موجودہ حالات میں جب تحریک انصاف سکڑ چکی ہے اور چند ماہ بعد اسے بغیر قیادت کے انتخابات میں اترنا ہے، شاید عمران خان کے پاس بہترین آپشن موجود تھے۔

کالم کی ابتدا سے اب تک رقم کی گئی سطور تک مختلف واقعات کے تذکرے کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان نے کہاں کہاں بڑی سیاسی غلطیاں کیں، لیکن اب بہت کچھ کھونے کے باوجود بھی انٹرا پارٹی انتخابات میں ایک اور سیاسی غلطی کر گئے۔

اس وقت پی ٹی آئی کے کارکنان کو فرنٹ سے لیڈ کرنے والے ایسے رہنما کی ضرورت ہے، جو نہ صرف ان کے درمیان ہو بلکہ سیاسی طور پر تحریک انصاف کا ہی برانڈ اور چہرہ ہو۔

حامد خان شاید خود پارٹی کی سربراہی نہ چاہ رہے ہوں اور بیرسٹر علی ظفر بھی شاید قانونی مصروفیات کی وجہ سے کترا رہے ہوں لیکن ان رہنماؤں کو انٹرا پارٹی انتخابات میں موقع نہ دے کر خان صاحب نے بچے کچھے اپنے وفادار ساتھیوں کو وہ پیغام دیا، جو اس مرحلے پر سیاسی طور پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا۔

علی محمد خان ایک نوجوان سیاسی رہنما ہیں، دو دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، سات مرتبہ رہا ہو کر ہر بار خوشی سے گرفتاری دیتے رہے اور آج بھی میڈیا پر تحریک انصاف کی بات کرنے والے چند رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

ایسے لوگوں کو مکمل نظر انداز کرنے سے تاثر یہی ابھرا کہ اس پورے عرصے میں قربانیاں دینے والے کارکنان اور رہنما کل اچھے وقت میں ایک دفعہ پھر ان لوگوں کا متبادل نہیں ثابت ہوں گے، جنہیں آخری چند دنوں میں جہازوں پر لاد کر پارٹی پر پر حاوی کروا دیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر