ہماری جمہوریت اور موروثی سیاست

اگر باریاں ہی لگائی ہوئی ہیں تو معیشت بدحالی کے شکار ملک میں 286 ملین روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ یہی رقم معیشت میں ڈالیں اور معیشت بہتر کرنے کی کوشش کریں تاکہ عوام کے لیے مشکلات کم ہوں۔

شہباز شریف اور مریم نواز مسلم لیگ ن کی مرکزی کونسل کے اجلاس کے دوران کارکنوں کی تالیوں کا جواب دیتے ہوئے (مسلم لیگ ن میڈیا)

بہت عجیب لگا۔ ایک سیاستدان جن کو سیاسیات کی یونیورسٹی کہا جاتا ہے انھوں نے حال ہی میں کہا کہ پچھلی بار دوسری جماعت کو حکومت بنانے دی، اب ہماری باری ہے ہمیں حکومت بنانے دی جائے۔

اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر 286 ملین روپے سے زیادہ خرچ کر کے الیکشن کرانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر باریاں ہی لگائی ہوئی ہیں تو معیشت بدحالی کے شکار ملک میں 286 ملین روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ یہی رقم معیشت میں ڈالیں اور معیشت بہتر کرنے کی کوشش کریں تاکہ عوام کے لیے مشکلات کم ہوں۔

کسی کو سیاسیات کی یونیورسٹی کہا جاتا ہے تو کسی کو کیا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس سیاسیات کی یونیورسٹی کے چانسلر بنے ہوئے ہیں اس یونیورسٹی میں صرف ان کے اہل خانہ ہی پڑھتے ہیں۔ جماعت میں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا سیاستدان بیٹھا ہے لیکن بڑی کرسیاں اپنے ہی اہل خانہ کے لیے مختص ہیں۔

ایک جانب تو موروثیت جس نے ملک میں جڑیں مضبوط کر لی ہیں اس نے جمہوریت کو صحیح معنوں میں پنپنے نہیں دیا اور دوسری جانب اس قسم کی الیکٹورل معاہدے کہ ’ایک باری تمہاری ایک ہماری‘ یہ سب جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے لیے کافی ہیں۔

آئندہ ہونے والے انتخابات کے حوالے سے تقریباً تمام ہی سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر انتخابات صاف اور شفاف ہوتے ہیں تو اس بار ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ ہو گا کیونکہ نئی نسل کو الیکشن میں ان کی آواز اور ان کے حق کا صحیح استعمال ہوتا نظر آئے گا۔ لیکن شاید یہ کرن بھی بجھتی نظر آ رہی ہے۔

موروثی سیاست دنیا میں کوئی انہونی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف پاکستان یا جنوبی ایشیا تک محدود ہے۔ ہسٹوریکل سوشل ریسرچ جرنل نے ایشیا، یورپ، نارتھ امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ایک ہزار سے زیادہ سیاسی رہنماؤں پر ایک تحقیق کی اور یہ بات سامنے آئی کہ 12 فیصد عالمی رہنما موروثی سیاست کا حصہ ہیں۔ 

ہمارے خطے ہی میں دیکھ لیں تو نہرو خاندان نے کئی دہائی انڈیا میں حکومت کی اور اس خاندان کی سیاسی موروثیت کو اس وقت دھچکا لگا جب 2014 میں نریندر مودی برسراقتدار آئے۔ جواہر لعل نہرو نے 17 سال، ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے 16 سال پھر راجیو گاندھی نے پانچ سال حکومت کی۔

فلپائن میں اکینو اور مارکوس فیملی تھی۔ بدعنوانی کے الزامات پر فرڈیننڈ مارکوس کو 21 سال صدر رہنے کے بعد نکال دیا گیا لیکن ان کے بچے پھر بھی سیاست میں ہیں اور نہ صرف سیاست میں ہیں بلکہ ان کا بیٹا تو صدر بھی منتخب ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری لنکا کو ہی دیکھ لیں۔ مہندراجاپکسے دس سال تک صدر رہے اور پھر وزیر اعظم۔ کچھ عرصے پہلے تک ان کے ایک بھائی صدر، دوسرے وزیر اعظم، تیسرے وزیر دفاع اور چوتھے وزیر خزانہ تھے۔ ان سے پہلے بندرا نائیکے خاندان تھا۔

عالمی تحقیق کے مطابق فلپائن میں سیاسی موروثیت سب سے زیادہ ہے جو کہ 60 فیصد ہے جبکہ پاکستان 52 فیصد کے ساتھ دوسرے اور انڈیا میں یہ شرح 29 فیصد ہے جبکہ امریکہ میں چھ اور کینیڈا میں تین فیصد ہے۔ مشہور جریدے ہیرلڈ کے مئی 2013 کے ایڈیشن میں کہا گیا ہے کہ 70 کی دہائی سے 597 خاندانوں کا پاکستان کی سیاست پر قبضہ ہے۔

52 فیصد سیاسی موروثیت اور 597 خاندانوں کا سیاست پر قبضہ جمہوریت میں کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ جمہوریت کا مطلب اور مقصد سب کے لیے برابر کے مواقع دینا ہے، اس سے قطع نظر کہ خاندان کون سا ہے اور سیاسی وابستگی کیا ہے۔

سیاسی موروثیت کے سیاسی اور معاشی اداروں پر سنگین اثرات ہوتے ہیں، یہ بات تحقیق میں ثابت ہو چکی ہے کہ کسی بھی ملک میں اس قسم کی موروثیت نہ صرف حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ حکومت کی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہے، اقربا پروری اور بدعنوانی کو فروغ دیتی ہے۔

کسی بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے مضبوط انتخابی مقابلہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ لوگ جو عوام کے حقیقی نمائندے ہیں وہ پارلیمان میں پہنچیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ