افغان امن مذاکرات: 2001 سے 2019 تک کی کہانی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوحہ میں جاری مذاکرات کو یہ کہہ کر معطل کردیا ہے کہ طالبان افغانستان میں امریکی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔

28 مئی 2019 کو  ماسکو  میں افغان امن مذاکرات کے موقع پر لی گئی تصویر، درمیان میں سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی موجود ہیں (اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے امن مذاکرات اچانک معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ گذشتہ ماہ 22  اگست سے جاری ان مذاکرات کے نویں دور کے حوالے سے کہا جارہا تھا کہ کہ اپنی خودمختاری کے لیے کوشاں افغان عوام کو بہت جلد خوش خبری ملے گی، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

ماضی میں بھی مختلف ادوار میں افغان طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان اُس وقت سے شورش اور بدامنی کا شکار ہے، جب طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے وہاں اپنی افواج بھیجیں۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کا زیادہ تر حصہ اب بھی طالبان کے کنٹرول میں ہے اور وہ وقتاً فوقتاً امریکہ اور اس کی اتحادی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے حالیہ مذاکرات کی معطلی کے لیے بھی یہی دلیل دی گئی کہ مذاکرات اس لیے ختم کیے گئے کیونکہ طالبان حملے کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے مختلف ادوار میں افغان امن مذاکرات کے حوالے سے کی گئی کوششوں کو دیکھا اور جائزہ لیا کہ یہ مذاکراتی عمل کب، کیسے اور کہاں شروع ہوا اور اس کا اختتام کس طرح ہوا۔

بون کانفرنس، جرمنی (2001)

تقریباً 19 سال قبل جب امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا اور وہاں پر اپنی افواج بھیجیں تو جرمنی کے شہر بون میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں جرمنی سمیت امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے ایک مقالے کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں امن عامہ اور وہاں سویلین حکومت کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائے۔

اس کانفرنس میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ امریکہ کے حمایت یافتہ نیٹو فورسز کو سپورٹ کیا جائے۔ اس کانفرنس میں افغان وفد نے بھی شرکت کی تھی لیکن طالبان کی کسی قسم کی نمائندگی موجود نہیں تھی۔

کانفرنس کے بعد چھ مہینوں کے لیے عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا گیا جس کے لیے حامد کرزئی کو صدر چنا گیا۔ یہ طالبان دور  کے بعد افغانستان میں پہلی عبوری  حکومت تھی جسے بین الاقوامی سطح پر  تسلیم کیا گیا۔

عبوری حکومت تو قائم ہوگئی لیکن طالبان نے اسے تسلیم نہیں کیا اور انہوں نے ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کا مطالبہ برقرار رکھا۔

بون کانفرنس دوم (2011)

2001 میں ہونے والی پہلی کانفرنس کے دس سال تک  باقاعدہ طور پر ایسی کوئی کانفرنس معنقد نہیں کی گئی، جس میں بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز شریک ہو کر افغانستان کی صورتحال پر بات کرسکیں اور پھر 2011 میں جرمنی کے شہر بون میں ہی دوبارہ ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن دفتر سے اُس وقت شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق دس دسمبر کو بون میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں افغانستان کے اُس وقت کے صدر حامد کرزئی افغان وفد کی نمائندگی کر رہے تھے۔

اعلامیے کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ سول ذمہ داریاں 2014 تک افغان حکومت کے حوالے کیے جانے کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے، جب غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہو جائے۔

کانفرنس میں اس حوالے سے بھی بات کی گئی تھی کہ کس طرح ایسے طویل المدت اقدامات کیے جائیں کہ بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز افغانستا ن کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ملک میں امن قائم ہو جائے۔

اس کانفرنس میں 100 سے زائد وفود نے شرکت کی۔ امریکہ کی جانب سے اس وقت کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن  کانفرنس میں شریک ہوئیں جبکہ اقوام متحدہ کے اُس وقت کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

پاکستان نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اُس وقت کی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان بطور احتجاج کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ نیٹو فورسز کی جانب سے اُس وقت پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند میں حملے کے گئے تھے جبکہ اس سے پہلے ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے نتیجے میں امریکہ نے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کا افتتاح (2013)

افغان طالبان کی جانب سے جون 2013  میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنا سیاسی دفتر کھولنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی اور افغانستان میں یہ امید پیدا ہوگئی کہ طالبان اب مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ اُس وقت امریکہ نے بھی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ جلد طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

اُس وقت امریکہ کے صدر براک اباما نے جرمنی کے شہر برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا تھا کہ انہیں نظر آرہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذکرات کا آغاز کریں گے تاکہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کے انخلا اور 2014 کے بعد بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کی افغانستان میں رہنے کے معاملے پر بات چیت ہوسکے۔

لیکن طالبان کے دفتر کھولنے پر افغانستان کی اُس وقت کی حکومت ناراض نظر آرہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حامد کرزئی کی حکومت نے امریکہ سے اُس معاہدے  پر مذاکرات بھی معطل کردیئے، جس میں 2014 کے بعد امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے بات چیت ہونی تھی۔

ماسکو کانفرنس فروری (2019)

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کئی سالوں کے بعد افغانستان کے سیاسی وفود اور افغان طالبان نے فروری 2019 میں مذاکرات کا آغاز کیا۔

ان مذاکرات میں افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے غیر ملکی افواج کے انخلا کی بات بھی کی گئی۔ بون کانفرنس میں شرکت کرنے والے حامد کرزئی بھی ماسکو کانفرنس میں شریک ہوئے۔

تاہم اس کانفرنس پر افغانستان کی موجودہ حکومت ناخوش تھی۔ رپورٹس کے مطابق صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی امن کے لیے کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن کوئی بھی کام یا مذکرات افغان حکومت کی مرضی سے ہونے چاہییں اور اس کی قیادت بھی افغان حکومت کو ہی کرنی چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض  مبصرین سمجھتے تھے کہ اس کانفرنس کا افغانستان کی صورتحال پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دوحہ میں افغان مذاکرات کا نیا دور

ستمبر 2018 کے اوائل میں جب زلمے خلیل زاد کو امریکہ میں افغانستان کا خصوصی ایلچی منتخب کیا گیا تو انہوں نے افغان طالبان کے رہنماؤں اور امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ رابطے شروع کیے تاکہ دونوں کو مذاکرات کی میز پر لاسکیں، جس پر افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی حامی بھرلی۔

مذاکرات کے پہلے ادوار 2019 کے اوائل میں ہوئے۔ ان مذا کرات کا نواں دور 22 اگست سے دوحہ میں جاری تھا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہہ کر معطل کردیا گیا کہ طالبان افغانستان میں امریکی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔

جبکہ اس سے قبل یہ خبریں سامنے آرہی تھیں کہ دونوں فریقین امن معاہدے پر راضی ہوچکے ہیں اور یکم ستمبر تک اس کو عام کیے جانے کا امکان ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات اچانک معطل کیے جانے کے باوجود امریکہ اور طالبان نے آئندہ بات چیت کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا۔ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے مستقبل میں بات چیت کی بحالی کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طالبان سے ’خصوصی عزم‘ چاہتا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکی وفد افغانستان پر’قبضہ مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے‘ مذاکرات پر واپس آ جائیں گے۔

دوحہ میں ہونے والے تمام مذاکراتی عمل کو پاکستان کی سپورٹ حاصل تھی اور اس کا ذکر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر حکومتی نمائندے بھی کر چکے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشوں کا سراہا تھا، جن کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بہتر کردار ادا کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا