ایمازون جنگل میں گم شدہ شہروں کی ’ناقابل یقین‘ وادی دریافت

ماہرین آثار قدیمہ نے ایمازون کے جنگلات میں وہ گم شدہ شہر دریافت کیے ہیں جہاں تقریباً دو ہزار سال قبل کم از کم 10 ہزار کاشت کار رہا کرتے تھے۔

جنوری 2024 میں محققین کی فراہم کردہ تھری ڈی تصویر جس میں ایکواڈور میں اپانو وادی کی کوپیونو سائٹ کے شہری علاقے سے گزرتی ہوئی شاہراہ دیکھی جا سکتی ہے (اے پی)

ماہرین آثار قدیمہ نے ایمازون کے جنگلات میں وہ گم شدہ شہر دریافت کیے ہیں جہاں تقریباً دو ہزار سال قبل کم از کم 10 ہزار کاشت کار رہا کرتے تھے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریافت کو ’ناقابل یقین‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی پیچیدہ معاشرہ تھا۔‘

سٹیفن روسٹین نے دو دہائیاں قبل پہلی بار ایکواڈور میں مٹی کے ٹیلوں اور دفن شدہ سڑکوں کا سلسلہ دریافت کیا جس کی تھری ڈی تصاویر بنائی گئیں۔ تاہم انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے کیا دریافت کیا ہے۔

سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے بارے میں رپورٹ کرنے والے محققین میں سے ایک سٹیفن کا جمعرات کو کہنا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ سب ایک ساتھ کیسے فٹ بیٹھتا ہے۔

لیزر سینسر ٹیکنالوجی میپنگ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقامات بستیوں اور ان سے جڑی سڑکوں کے گنجان نیٹ ورک کا حصہ تھے، جو اینڈیز کے پہاڑی سلسلے کے جنگلات کے دامن میں واقع تھے۔

اینڈیز کا پہاڑی سلسلہ جنوبی امریکہ کے اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔ بستیوں اور سڑکوں کا وجود تقریباً ایک ہزار سال تک موجود رہا۔

فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ میں تحقیق کی نگرانی کرنے والے سٹیفن کا کہنا ہے کہ ’یہ شہروں کی وادی ہے جو گم ہو گئی۔ یہ ناقابل یقین ہے۔‘

محققین نے دریافت کیا کہ ان بستیوں میں 500 قبل مسیح سے 300 سے 600 سن عیسوی کے درمیان اپانو لوگ آباد تھے۔ یہ وہ دور ہے جو یورپ میں رومن سلطنت کا کسی حد تک ہم عصر ہے۔

مٹی کے چھ ہزار سے زیادہ ٹیلوں پر رہائشی اور رسوم کی ادائیگی کے لیے تعمیر کی گئیں عمارتیں کھیتوں اور نکاسی آب کے نالوں کے درمیان گھری ہوئی تھیں۔

سب سے بڑی سڑکیں 33 فٹ (10 میٹر) چوڑی تھیں اور چھ سے 12 میل (10 سے 20 کلومیٹر) تک پھیلی ہوئی تھیں۔

اسی فرانسیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کے شریک مصنف آنتوان دوریسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبادی کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اس جگہ پر کم از کم 10 ہزار لوگ رہتے تھے اور شاید اپنے عروج پر 15 یا 30 ہزار کے قریب تھے۔

اس کا موازنہ رومن دور کے لندن کی آبادی سے کیا جا سکتا ہے جو اس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا شہر تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر آثار قدیمہ مائیکل ہیکن برگر کا کہنا ہے کہ ’اس سے انتہائی گنجان آباد اور انتہائی پیچیدہ معاشرہ ظاہر ہوتا ہے۔‘ ہیکن برگر اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے۔

’جہاں تک اس علاقے کا تعلق ہے تو یہ قدامت کے اعتبار سے واقعی اپنی ہی طرز کا ہے۔‘

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہر آثار قدیمہ جوزے ایریارٹے کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور مٹی کے ہزاروں ٹیلوں کی تعمیر کے لیے منظم انداز میں محنت کے وسیع نظام کی ضرورت ہوگی۔

ایریارٹے کے بقول: ’انکا اور مایا تہذیبوں میں پتھر استعمال کیا گیا لیکن ایمازونیا کے لوگوں کو تعمیرات کے لیے پتھر دستیاب نہیں تھا اس لیے انہوں نے مٹی کا استعمال کیا۔ اس کے باوجود یہ بہت محنت طلب کام تھا۔‘ ایریارٹے تحقیق میں شامل نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایمازون کے جنگل کے بارے میں اکثر سمجھا جاتا ہے کہ ’وہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے جہاں لوگوں کے محض چھوٹے گروپ رہتے ہیں۔ لیکن حالیہ دریافتوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کا ماضی کس قدر زیادہ پیچیدہ تھا۔‘

سائنس دانوں کو حال ہی میں ایمازون میں یورپی باشندوں کی آمد سے قبل برساتی جنگلوں کے پیچیدہ معاشروں کی موجودگی کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ یہ شواہد بولیویا اور برازیل میں پائے گئے۔

سٹیفن کے مطابق: ’ایمازون میں ہمیشہ لوگوں اور بستیوں کا ناقابل یقین تنوع رہا ہے۔ زندگی کا صرف ایک انداز نہیں اپنایا گیا۔ ہم ان کے لوگوں کے بارے میں محض مزید جان رہے ہیں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ