طالبان سے مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو چکے: ٹرمپ

امریکی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کے لیے امن مذاکراٹ ’ڈیڈ‘ ہو چکے اور طالبان کے خلاف جنگ میں شدت لائی جا رہی ہے۔

مشاورت کے معاملے میں، میں خود سے مشورہ لیتا ہوں: صدر ٹرمپ(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کابل حملے کے بعد طالبان سے معطل کیے گئے امن مذاکرات اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوموار کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 18 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے امن مذاکرات اب ان کے لیے ڈیڈ (ختم) ہو گئے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا: ’وہ [مذاکرات] مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، وہ بات چیت اب ڈیڈ (ختم) ہو چکی‘۔

'[کیمپ ڈیوڈ میں] ہماری ملاقات تقریباً طے ہو چکی تھی۔ اس ملاقات کا خیال بھی میرا تھا اور اس کو میں نے ہی منسوخ کیا۔ [یہ مجوزہ ملاقات اتنی خفیہ تھی] کہ میں نے کسی اور سے اس حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔'

ٹرمپ کا یہ اعلان ان کے سنیچر کو کیے گئے ڈرامائی انکشاف کے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ طالبان رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات کرنے والے تھے۔

کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے، جو تقریباً حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے، تابوت میں آخری کیل ٹوکتے ہوئے ٹرمپ نے کہا طالبان جنگجوؤں کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ شدت لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ میں لکھا: ’پچھلے چار دنوں کے دوران ہم پچھلے دس سالوں میں کسی بھی وقت سے کہیں زیادہ اپنے دشمن کو مار رہے ہیں۔‘

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو کہا تھا ’ہم نے صرف 10 دنوں میں ایک ہزار سے زیادہ طالبان کو ہلاک کیا ہے۔‘

ٹرمپ نے ناراضگی سے اس بات کی تردید کی کہ ان کی افغان پالیسی میں اچانک تبدیلی سے افغانستان میں افراتفری پھیل جائے گی۔

اس ہفتے کے آخر تک طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے توقعات بڑھ رہی تھیں، جس کے تحت امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنا تھا اور اس کے بدلے طالبان نے شدت پسند گروہوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی کی ضمانت پیش کی تھی۔

تاہم سنیچر کو اچانک ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے ہیں، جس پر سیاسی مبصرین ماہرین حیران ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مذاکرات کے کھٹائی میں پڑنے کی وجوہات میں ٹرمپ کے غیر متوقع انداز کو بھی الزام دیا جا رہا ہے۔

قیاس کیا جا رہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کو ان کی اپنی انتظامیہ کی مخالفت کا سامنا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے نائب صدر مائیک پینس سمیت حکومتی عہدے داروں میں کسی بھی طرح کے اختلاف کی تردید کی تھی۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے صحافیوں پر الزام لگایا کہ ’وہ [میڈیا] وائٹ ہاؤس میں ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا ان کے اقدامات کے بارے میں ان کی کوئی دوسری سوچ نہیں تھی۔ انہوں نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا ’مشاورت کے معاملے میں، میں خود سے مشورہ لیتا ہوں۔‘

ٹرمپ کا عزم رہا ہے کہ وہ شام اور دیگر ممالک میں غیر ضروری جنگوں سے امریکہ کو دور رکھیں گے۔

اسرائیل کی حامی خارجہ پالیسی اور کابینہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن جیسے جارحیت پسند افراد کی موجودگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے دیرینہ دشمن ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی کو بڑھانے کے خلاف مزاحمت کی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے مذاکرات ختم کرنے کے صدارتی فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔

سینیٹر مارکو روبیو نے کہا: ’مجھےکبھی یقین نہیں رہا کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ آسان ہو گا یا یہ مستقبل قریب میں ممکن ہے۔‘

سینیٹر مِٹ رومنی کے مطابق ’کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کا موجود ہونا میرا انتخاب نہ ہوتا۔‘

 سینیٹر رون جانسن نے کہا انہیں خوشی ہے کہ وہ [طالبان] وہاں [کیمپ ڈیوڈ میں] بات چیت نہیں کر سکے۔ ’مجھے ان مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو آپ کو کسی بھی وقت ان [طالبان] سے بات کرنا پڑے گی۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا لیکن ابھی وہ [طالبان] بہت سے لوگوں کو قتل کررہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ