اے محبت تیرے انجام پہ۔۔۔

یہ محبت ہے تو بانی پاکستان تحریک انصاف ہی کی مگر اس کا تعلق بشری بی بی سے قطعاً نہیں۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی 15 مئی، 2023 کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں (اے ایف پی/ عارف علی)

انتخابات یہ سامنے کھڑے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی کانٹ چھانٹ بھی آخری مراحل میں ہے، ساتھ کے ساتھ سکیورٹی خطرات بھی سر پہ منڈلا رہے ہیں۔

ایسے میں دنیاوی حالات سے گھبرا کے کتابوں میں جو پناہ ڈھونڈی تو امیتابھ گھوش کی ایک کتاب Flood of Fire کھول بیٹھی۔

کتابوں کا یہ ہے کہ دیوان حافظ کی طرح جسے بھی جہاں سے بھی کھول لو فال نکال کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ فال نہ بھی نکلے تو لگتا ہے کہ یہ سب تو ہمارے چاروں طرف آج بھی ہو رہا ہے۔

خیر اس کتاب میں ذکر ہے اس دور کا جب مہا چین کے ساتھ افیم کی جنگ لڑے جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ کمپنی کے ایک افسر ایک مقامی حوالدار کے ساتھ مل کر ایک بھگوڑے کو باقیوں کے لیے مثال بنانے جا رہے تھے۔

بھگوڑا، پہلے تو کمپنی کے دیے بھتے اور دیگر مراعات کے لالچ میں لڑنے چلا آیا لیکن جب کھلا کہ انہیں لڑنے کے لیے گندے ہتھیار دیے جائیں گے اور دشمن ان سے کئی گنا بڑا ہوگا تو اب وہ اپنی ٹانگ میں خود ہی گولی مار کے فوج سے بھاگ گیا۔

بھگوڑے کے ساتھ وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بھگوڑوں کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے لیکن بھگوڑوں کے ساتھ  یہی ہوتا رہے گا جب تک بھگوڑوں کو خود عقل نہیں آجائے گی۔

کمپنی کا مقامی اور گورا افسر دونوں خود بھی بہت سی غلط کاریوں میں ملوث تھے لیکن بات تھی طاقت کے توازن کی اور کمپنی کی، جسے اس وقت صرف لڑنے کے لیے سپاہی چاہییں تھے۔ جنگ کمپنی کی تھی۔

یہ بےموقع سی بات بس ایسے ہی کر دی۔ اصل میں تو ذکر انتخابات اور بانی پاکستان تحریک انصاف کو ابھی ابھی ہونے والی ایک اور سزا کی کرنی تھی۔ جو انہیں اس بات پہ ہوئی کہ انہوں نے عدت کے دوران نکاح کر لیا۔

جب یہ نکاح ہوا تھا اس وقت سب کی زبان بلی لے گئی تھی۔ لوگ رو رو کر تصوف اور روحانیت پہ بات کر رہے تھے۔

نکاح خواں، گواہ، دولہا، دلہن جو سب عاقل بالغ تھے، یہ بات بھول گئے تھے۔ مانیکا صاحب بھی آبدیدہ ہو کر بیگم صاحبہ کی پاک دامنی کی حکایات سنا رہے تھے۔

وہی صاحب آج بھری عدالت میں اس قسم کی تفصیلات بتا رہے تھے کہ عقل دنگ تھی۔ یہ واقعات اس قدر تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ دماغ چکرا کر رہ گیا۔

میں اس شادی کو محبت کی شادی سمجھ کے اس کے حق میں ڈٹی رہی۔ جب بھی کسی نے بشری بی بی کو کچھ کہا یا مریم صاحبہ کی محبت کی شادی پہ انگلی اٹھائی میں مرنے مارنے پہ اتر آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ شادی محبت کی تھی، یہ شادی عدت میں ہوئی، یہ شادی کیوں ہوئی؟ یہ سب باتیں اتنے برسوں کے بعد آج ہی کیوں منظر عام پہ آ رہی ہیں ان سب کا انتخابات سے کیا تعلق ہے؟

یہ سب کچھ اتنا ہی بے ربط ہے جیسا حوالدار کیسری، فلڈ آف فائر، کمپنی بہادر اور آج کے حالات کا تعلق۔

مگر تاریخ میں کئی موزائیک ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اسی وقت تو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی معنی خیزی عیاں ہوتی جاتی ہے۔

جو ہوا برا ہوا، جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر جب وہ ہو رہا تھا نہ اس وقت کسی نے ہماری سنی نہ اب کوئی ہماری سنتا ہے۔

امید یہ ہی ہے کہ آئندہ بھی کوئی نہیں سنے گا۔ ایک شعر بار بار یاد آرہا ہے۔  ہے تو وہ بھی بے موقع مگر کیا کیا جائے اتنی بہت سی بے محل باتیں اکٹھی ہو رہی ہیں ایک شعر بھی سہی۔

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا

پس نوشت: یہ محبت ہے تو بانی پی ٹی آئی ہی کی مگر اس کا تعلق بشری بی بی سے قطعاً نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ