اپنی لڑائی میں عورت کی آڑ مت لیں

ہمیں اب اتنا باشعور ہو جانا چاہیے کہ عورتوں کی طرف انگلی اٹھانے اور سیاست کی دکان چلانے کے لیے غیرت کے جھوٹے نعرے لگانے سے پہلے کم سے کم ایک بار سوچ لیں۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی 15 مئی، 2023 کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں (اے ایف پی/ عارف علی)

ایک عام سا واقعہ ہوا۔ ایک درمیانی عمر کی عورت نے اپنے شوہر کو چھوڑ کر، جس کے ساتھ اس نے 28 برس گزارے تھے، ایک دوہاجو مرد سے نکاح کر لیا۔

اس عام واقعے سے کچھ برس پہلے ایک اور عام سا واقعہ ہوا تھا، ایک کم عمر لڑکی نے اپنی مرضی سے اپنے ہم عمر لڑکے سے شادی کر لی تھی۔

ان دونوں واقعات سے ہمارا آپ کا تعلق سوائے ایک سامع کے کچھ اور نہیں۔ دونوں واقعات دو افراد کی ذاتی زندگی کے اس منطقے سے تعلق رکھتے ہیں جس میں ہم میں سے کسی کو بھی دخل دینے کا کوئی حق حاصل نہیں اور اس میں دو رائے نہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ ہر دوسرے تیسرے برس جانے کہاں، کیا مسکوٹ ہوتی ہے کہ پہلے ایک واقعہ اور پھر اس کے جواب میں دوسرا واقعہ دہرایا جاتا ہے، میمز بنتے ہیں، یار لوگ مزے لیتے ہیں، ہائے بے غیرت کی گردان کی جاتی ہے۔

قانونی، شرعی اور اخلاقی ہر لحاظ سے جائز ان واقعات پہ بےحیائی کا لیبل لگا کے اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے کچھ مہاشے ایسے ہیں جو ٹوکنے پہ مونیکا کیس کی مثال دیتے ہیں۔

کلنٹن- مونیکا کیس بداخلاقی کی بدترین مثال ہے اور شاید آنے والے وقت میں دنیا کلنٹن کے ساتھ نہیں، مگر مونیکا کے ساتھ کیے گئے سلوک پہ شرمندہ بھی ہو مگر یہاں فخریہ ان مثالوں کو دہرایا جاتا ہے جن کا تعلق کسی بھی طرح موجودہ صورت حال سے کچھ نہیں۔

جس مذہب نے گوناگوں وجوہات کی بنا پہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت دے رکھی ہے، اسی مذہب نے عورت کو خلع لینے یا ایک مرد کو چھوڑ کے دوسرے سے شادی کرنے کا حق بھی دے رکھا ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جس وقت ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو خاتون شادی شدہ تھیں اور بقول صاحب کے ان کی بیگم کو ورغلایا گیا، اب اس بات پہ انسان کیا کہے؟

18 برس کی لڑکی کے لیے بھی یہ نہیں کہا جاتا کہ اسے ورغلایا گیا۔ پسند، ناپسند، مرضی کی شادی، ادھیڑ عمری میں ناپسندیدہ شوہر کو چھوڑ کے دوسرے شخص سے شادی کر لینا ان سب باتوں کا ہم سے کیا تعلق؟

ہاں بات کیجیے مینی فیسٹو کی، جو پاکستان تحریک انصاف کے پاس سوائے چور چور کے تھا ہی نہیں۔

بات کیجیے نظریے کی جو لوٹے پہ لوٹا رکھ کے بنائی گئی اس جماعت کے پیش نظر تھا ہی نہیں۔ بات کیجیے اس ٹیم کی جسے منتخب کر کے ملک چلایا جانا تھا جو کبھی چنی ہی نہیں گئی۔

خان صاحب کی ذاتی کمیوں، کجیوں، بے راہ رویوں، حماقتوں اور مزید حماقتوں کا بھی ذکر کیجیے، ان کے دور میں کی گئی کرپشن کا بھی ذکر کیجیے اور اگر خاتون مذکورہ اس کرپشن میں کسی بھی طرح ملوث تھیں تب بھی برملا کہیے لیکن صاحب! آج بھی جب انسانی تاریخ دو ہزار برس پورے کر چکی ہے، ساحرہ سوختنی کی اس روایت کو ساتھ لے کر چلیں گے؟

آج بھی سیاست کی بجائے عورت کی کردار کشی کی جائے گی؟ آج بھی ایک انسان کو اس لیے معتوب قرار دیا جائے گا کہ وہ آپ کے مقرر کردہ معیاروں پہ پورا نہیں اترتا؟ سیاست میں آنے والی یا کسی نہ کسی طور سیاست سے متعلق خواتین کا احترام کرنا سیکھیے۔

جنگ ہی لڑنی ہے تو اصولوں سے لڑیے اور اگر آپ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے تو محبت میں اٹھائے گئے قدم کو بھی جائز مان لیجبے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمیں اب اتنا باشعور ضرور ہو جانا چاہیے کہ عورتوں کی طرف انگلی اٹھانے اور سیاست کی دکان چلانے کے لیے غیرت کے جھوٹے نعرے لگانے سے پہلے کم سے کم ایک بار سوچ ہی لیں۔

عورت کسی کی ملکیت نہیں۔ اس کی بھی مرضی ہے، اختیار ہے۔ کئی برس بعد ایک ایسی عورت کا تذکرہ کرنے سے کیا حاصل جو کئی برس پہلے اپنی زندگی کا راستہ بدل گئی؟

جن کے کہنے پہ پہلے عظیم بنے تھے ان کے کہنے پہ اب مظلوم بنے اور بالکل اچھے نہیں لگے۔

سچ کیا ہے، سب کو علم ہے۔ بقول شخصے، ’یہ پبلک ہے سب جانتی ہے۔‘ عرض صرف اتنی ہے، آپ کی محلاتی سازشوں کی وجہ سے وہ خواتین جو واقعی سچ مچ ایک بری شادی سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں کبھی نکل نہیں پائیں گی۔

شادی کے ادارے کی اصلاح ضروری ہے۔ جو لوگ اسے صرف استحصال کا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں ان سے جنگ بھی ضروری ہے لیکن یہ سب بہت احتیاط کا متقاضی ہے۔

اناڑی پن سے لگائے گئے نشتر، ناسور کو نکالنے کی بجائے گھاؤ ڈال دیتے ہیں جن کو پر ہونے میں بڑا وقت لگتا ہے۔

اپنی جنگ کیجیے، اپنے ہتھیار اٹھایے، اپنے میدان میں کھیلیے، عورت کی آڑ نہ لیجیے، غیرت کے پھریرے بند ہی رہنے دیجیے ورنہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ