بے یقینی کا خاتمہ، ٹرن آؤٹ کتنا رہے گا؟

سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں بھر میں اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت جمعرات کی صبح ہی معطل کر دی گئی لیکن اس کے باوجود اب تک ملک سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے نکلے ہیں۔

پاکستان میں ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی بے یقینی بالآخر ختم ہو گئی اور طے شدہ شیڈول کے مطابق عام انتخابات 2024 کے سلسلے میں آج ووٹنگ جاری ہے۔

ملک بھر میں پارلیمانی عام انتخابات کے لیے پولنگ جمعرات کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی، جس کے ذریعے آئندہ پانچ برس کے لیے ایک نئی حکومت کی تشکیل ممکن ہو سکے گی۔

ووٹنگ کے عمل کے آغاز سے ایک روز قبل صوبہ بلوچستان میں دو مہلک بم حملوں کے علاوہ ملک کے کئی دیگر حصوں میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات کے بعد پولنگ کے روز سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت جمعرات کی صبح ہی معطل کر دی گئی لیکن اس کے باوجود اب تک ملک سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ووٹرز باہر نکلے ہیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لگ بھگ 25 کروڑ آبادی والے اس ملک میں تقریباً 13 کروڑ رجسٹر ووٹر پارلیمان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں اپنے نمائندوں کو براہ راست منتخب کرنے کے لیے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔

ملک میں 12 ویں عام انتخابات کی ایک خوش آئندہ بات یہ رہی کہ بعض تحفظات کے باوجود کسی سیاسی جماعت نے الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا، جو ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تقریباً 25 کروڑ کی آبادی میں نصف سے زیادہ شہری (12 کروڑ، 85 لاکھ 85 ہزار) ووٹروں کی حیثیت سے رجسٹر ہیں۔ انتخابات میں قومی اسمبلی کی 266 اور چار صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 571 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست