ووٹ عوام کا فرض، لیکن حکومت کا کیا فرض ہے؟

سیاسی جماعتیں ہمیں ہمارے ووٹ کی اہمیت بتاتے بتاتے خود ہماری زندگی اور اس حوالے سے انہیں ملنے والی ذمہ داری سمجھنا بھول جاتی ہیں یا سمجھ کر بھی نہیں سمجھتیں۔

پاکستان کے عام انتخابات سے قبل چھ فروری 2024 کو پاکستان کے الیکشن کمیشن کا عملہ کراچی میں ایک ڈسٹری بیوشن سینٹر میں انتخابی مواد سے بھرا بیگ پہنچاتے ہوئے (آصف حسن/ اے ایف پی)

کل پاکستان میں عام انتخابات ہیں۔ کل بہت سے لوگ اپنے گھروں سے نکلیں گے اور ایک امید کی بنیاد پر بیلٹ پیپر پر ٹھپے لگائیں گے۔ یہ ان کا آئینی حق ہے اور فرض بھی ہے۔

انتخابات کے قریب ہر طرف یہی شور ہوتا ہے۔ ہر ذی شعور انسان دوسروں کو کچھ اسی قسم کی باتیں کر کے ہی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’اٹھو ساتھیو اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرو‘، ’اسے سستی یا مایوسی میں ضائع نہ کرو،‘ وغیرہ وغیرہ۔

بہتر! عوام تو اپنا فرض ادا کر دیں گے لیکن حکومت کے فرض کا کیا ہو گا؟

ہر شہری کا ووٹ اہم ہے تو ہر شہری کی زندگی بھی اہم ہے۔

تاہم، سیاسی جماعتیں ہمیں ہمارے ووٹ کی اہمیت بتاتے بتاتے خود ہماری زندگی اور اس حوالے سے انہیں ملنے والی ذمہ داری سمجھنا بھول جاتی ہیں یا سمجھ کر بھی نہیں سمجھتیں۔

ان کی ریلیوں میں کئی لوگ تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی تیز رفتار گاڑیوں کے نیچے آ کر بچے کچلے جاتے ہیں، پھر یہ انہیں جمہوریت کا شہید قرار دے دیتے ہیں۔

ان کے وی آئی پی پروٹوکول کے لیے عوام ہی گھنٹوں سڑکوں پر ذلیل ہوتے ہیں۔

ان کے ماتحت چلنے والے سرکاری اداروں میں اپنے کاموں کے لیے ایک ڈیسک سے دوسرے ڈیسک کے چکر کاٹتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو اس ملک میں اپنی مدد آپ کے تحت دوسروں کی مدد کرنا چاہے اسے یہی ادارے آ کر روک دیتے ہیں یا اس پر دہشت گرد یا ملک دشمن ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔

اگر کبھی حکومت کو عوام کے لیے کام کرنا پڑ بھی جائے تو اسے عوام پر احسان گردانا جاتا ہے۔

یہ احسان بھی تب ہوتا ہے جب عوام چیخ پڑتے ہیں۔

عوام کی چیخیں بھی ہر ایک کے لیے نہیں نکلتیں۔ اس کے لیے مظلوم کا طاقتور ہونا لازمی ہے، نہیں تو بے چارگی یا معصومیت کی اس سطح پر ہونا ضروری ہے جس پر ہر ایک کی آنکھ بھر آئے۔

عوام کو بلبلاتا دیکھ کر حکومت حرکت میں آتی ہے۔ جب تک شور رہتا ہے، کام چلتا رہتا ہے۔ جیسے ہی شور کم ہوتا ہے، کام بھی رک جاتا ہے۔

کیا ہر واقعے پر عوام کا رونا ضروری ہے؟

کیا حکومت کو اس ملک میں ہونے والے واقعات کی خبر نہیں ہوتی؟

بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق سنہ 2010 سے سنہ 2023 تک کل 45 ہزار بچے مختلف طرح کے جسنی و غیر جنسی تشدد کا شکار بنے۔ ساحل اپنی یہ رپورٹ مختلف اخباروں میں چھپنے والی خبروں کی بنیاد پر بناتا ہے۔ اصل واقعات کی تعداد کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 32 فیصد خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

مردوں پر بھی کئی طرح کے تشدد ہوتے ہیں تاہم وہ اپنے سماجی رتبے کی وجہ سے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی اس طرح بات نہیں کرتے۔

مذہبی اقلیتیں بھی برے حالوں میں ہیں۔ ان کی اکثریت غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔

ان کے بچے تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں بڑے ہوتے ہوئے پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری نہیں ہیں۔

نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر کے مطابق 2006 سے لے کر 2020 تک ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سڑکوں پر ہونے والے حادثات ہوئے جن میں 71 ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے۔

یہ بھی ہماری سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور ان سے ہونے والی اموات کی کل تعداد نہیں ہے۔

ہسپتالوں کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔ ہسپتال جانے کا سوچ کر ہی وہاں ہونے والی غیر ضروری تکلیف انسان کو پریشانی میں ڈال دیتی ہے۔

ایک انجیکشن اور ایک دوائی کے لیے لوگوں کو علاقے بھر کی فارمیسیوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

کوئی وبا آ جائے تو حکومت عوام کے سامنے ہی کشکول لے کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

پھر انتخابات آتے ہیں اور حکومت بنانے والی یہ سیاسی جماعتیں اپنے لیے عوام کا ووٹ مانگنے کے لیے بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

اپنی حکومت میں یہ کسی بڑے شہر میں ہونے والے حادثے پر بھی وقت پر نہیں پہنچ پاتے لیکن انتخابات سے قبل ان کی رسائی ملک کے چپے چپے میں ہوتی ہے۔

ان کی اس حد تک رسائی دیکھ کر انسان بس دکھ سے سوچتا ہے کہ آج تو یہ یہاں آ گئے، کل اگر یہاں خدانخواستہ کوئی مشکل آن پڑی تو کیا یہ یہاں آئیں گے؟

بالکل نہیں آئیں گے۔ ان کا دوبارہ آنا اگلے پانچ سال بعد ہو گا۔

انہیں آج ہماری فکر ہے۔ اگلی بار انہیں ہماری فکر پانچ سال بعد ہو گی۔

درمیان میں ہم بس ان کے لیے گاجر مولیاں ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس قدر مایوسی کے بعد بھی ہمارا مشورہ یہی ہے کہ کل اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں، لیکن اس کے بعد چپ کر کے نہ بیٹھیں۔

جس کی بھی حکومت بنے اس سے اپنے دیگر حقوق مانگیں۔ ان سے ان کی نااہلی پر جواب طلب کریں۔

یہ بھی آپ کا حق ہے اور آج کل کے سیاسی ماحول کے مطابق اس ملک میں سب سے اہم عوام کے حقوق ہی ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ