پاکستان کے عام انتخابات پر بین الاقوامی میڈیا کی نظر

پاکستان میں آج 12ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس کی کوریج نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی کی جا رہی ہے۔

آٹھ فروری، 2024 کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران 12 کروڑ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں(گرافکس: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں آج 12ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس کی کوریج نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی کی جا رہی ہے۔

اس رپورٹ میں انڈپینڈنٹ اردو نے چند بین الاقوامی اخبارات اور چینلز کی اس الیکشن کے حوالے سے ہونے والی کوریج کو رپورٹ کیا ہے۔

پاکستان میں تنازعات سے بھرپور انتخابات کا انعقاد: سی این این

سات فروری کو امریکی چینل سی این این کی نیوز ویب سائٹ پر پاکستانی انتخابات کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ ’پاکستان میں جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں لاکھوں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔‘

سی این این نے مقدمات کا سامنا کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ان انتخابات میں سیاسی خاندان ایک ایسے رہنما کا سامنا کر رہے ہیں جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود ہے جبکہ شدت پسندوں کے جان لیوا حملے بھی جاری ہیں۔‘

سی این این نے ملک میں سکیورٹی صورت حال پر رپورٹ کیا کہ ’بدھ کو شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں دو دھماکوں میں 30 افراد جان سے گئے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔‘

سی این این کے مطابق اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے منگل کو ایک بیان میں پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ’مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات‘ کو یقینی بنائیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کا خدشہ، موبائل سروس بند: بلوم برگ

معاشی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی جریدے ’بلوم برگ‘ نے پاکستانی انتخابات کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان میں جمعرات کو ہونے والے انتخابات کے دوران ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی۔‘

بلوم برگ کے مطابق: ’متنازع الیکشن میں افراتفری سے قبل یہ اقدام امن و امان کے پیش نظر کیا گیا ہے۔‘

بلوم برگ نے پاکستانی وزارت داخلہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال کے برقرار رکھنے اور خطرات کے مقابلے کے لیے موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

پاکستان انتخابات میں شیر، ملینیئل اور کرکٹر کا مقابلہ: دی انڈپینڈنٹ

برطانوی جریدے ’دی انڈپینڈنٹ‘ میں چھپنے والے آرٹیکل میں پاکستان میں عام انتخابات کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ ’پاکستان میں سہہ طرفہ کشیدہ دوڑ کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان بیلٹ پیپر پر نہیں ہوں گے اور ان کی جماعت آزاد امیدواروں کی حمایت کرنے پر مجبور ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق: ’اس صورت حال میں مسلم لیگ ن کے جیتنے کے امکانات ہیں۔‘

اس دوڑ میں شامل تیسرے فریق 35 سالہ بلاول بھٹو زرداری ہیں جو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔‘

’دی انٹرسیپٹ‘ کی پاکستانی حکومت اور انتخابات کے انتظامات پر تنقید

تحقیقاتی جریدے ’دی انٹرسیپٹ‘ نے پاکستان میں اگلی حکومت کے انتخاب کے لیے ہونے والے الیکشن کے حوالے سے نگران حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کچھ اقدامات کا ذکر کیا، جن میں ’انتخابی نشان واپس لینا، انٹرنیٹ بند کرنا، امیدواروں پر پابندی اور جیل میں ڈالنا، پولیس کے چھاپے، دہشت گردی کے واقعات، امیدواروں اور ان کے رشتہ داروں کو اغوا کرنا، ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کی تعداد کم کرنا‘ شامل ہیں۔

پاکستان میں 12 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ ووٹرز: بی بی سی

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے پاکستانی انتخابات پر مرتب رپورٹ میں کہا کہ ’پاکستان میں 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹر اپنا ووٹ ڈالیں گے، جن میں تقریباً نصف 35 سال سے کم عمر ہیں۔‘

بی بی سی کے مطابق: ’انتخابات میں پانچ ہزار سے زیادہ امیدوار شریک ہیں، جن میں سے 313 خواتین بھی شامل ہیں۔‘

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بڑی جماعتیں تو قرار دیا ہے لیکن اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دینا مشکل بنا دیا گیا کیونکہ اسے اپنے انتخابی نشان ’بلے‘ کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق: ’پاکستان میں 40 فیصد سے زائد عوام پڑھ نہیں سکتی، اسی لیے یہاں انتخابی نشان ووٹ ڈالنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘

انڈین میڈیا میں پاکستان انتخابات کی کوریج

دنیا بھر کے ممالک کے میڈیا کی طرح انڈین میڈیا بھی پاکستانی انتخابات پر لائیو رپورٹنگ کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈین نیوز ویب سائٹ ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق: ’پاکستان میں انتخابی عمل کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔‘

ایک اور انڈین نیوز ویب سائٹ ’انڈیا ٹوڈے‘ نے پاکستان میں عام انتخابات پر رپورٹ کیا کہ ’پاکستان میں انتخابات کے دوران موبائل سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی بتائی گئی ہے۔‘

انڈیا ٹوڈے کے مطابق: ’سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ وہ نتائج کے انتظار تک پولنگ سٹیشنز کے باہر انتظاہر کریں۔‘

مائیکل کوگلمین کا تجزیہ

خارجہ پالیسی کے ماہر امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان میں انتخابات کے دن موبائل سروس کی بندش کے حوالے سے لکھا کہ ’الیکشن ڈے کا پریشان کن آغاز۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ 2018 کے بعد سے ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ 2018 اور 2013 میں سکیورٹی خدشات اس سے بھی زیادہ تھے لیکن مجھے نہیں یاد کہ تب ایسا کچھ ہوا ہو۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا