گوانتانامو سے رہا دو افغان شہری 22 برس برس بعد وطن واپس

 کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر افغان حکومت کے متعدد عہدیداروں کی جانب سے رہا ہونے والے ملا عبدالظاہر صابر اور عبدالکریم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

2017 سے دونوں افغان شہری عمان حکومت کی کڑی نگرانی میں اور بغیر سفری اجازت کے وہاں مقیم تھے (باختر نیوز ایجنسی)

گوانتانامو کی بدنام زمانہ جیل سے رہا ہونے والے دو افغان شہری 22 برس برس بعد آج افغانستان واپس پہنچ گئے۔

یہ دونوں افغان شہری کئی برس سے امریکی جیل میں قید تھے۔

باختر نیوز ایجنسی کے مطابق کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر افغان حکومت کے متعدد عہدیداروں کی جانب سے رہا ہونے والے ملا عبدالظاہر صابر اور عبدالکریم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

رہائی پانے والے ملا عبدالظاہر صابر کا تعلق صوبہ لوگر کے مرکز پل علم شہر کے گاؤں حصارک سے ہے۔

انہیں امریکی فورسز نے 10 مئی 2002 کو گرفتار کیا تھا۔

اکتوبر 2002 میں بگرام جیل میں چار ماہ گزارنے کے بعد صابر کو گوانتانامو منتقل کر دیا گیا۔

 ملا عبدالظاہر صابر کو گوانتانامو میں 17 سال جیل میں گزارنے کے بعد 2017 میں عمان منتقل کردیا گیا تھا۔

افغانستان واپس پہنچنے والے دوسرے شہری عبدالکریم ہیں جو صوبہ خوست ضلع تنڑیو کے گاؤں وزنیان کے رہائشی ہیں۔

 انہیں حکومت پاکستان نے 2002 میں گرفتار کیا تھا اور چند ماہ بعد امریکی افواج کے حوالے کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

14 سال گوانتانامو جیل میں گزارنے کے بعد انہیں بھی عمان منتقل کر دیا گیا تھا۔

2017 سے دونوں افغان شہری عمان حکومت کی کڑی نگرانی میں اور بغیر سفری اجازت کے وہاں مقیم تھے۔

 اس سے قبل بھی امارت اسلامیہ کی کوششوں سے ایک اور افغان شہری حاجی بشر نورزئی  گوانتانامو سے رہا ہو کر واپس پہنچ چکے ہیں۔

امریکہ نے جنوری 2002 میں صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں کیوبا میں گوانتانامو بے میں حراستی مرکز کھولا تھا جب نائن الیون حملوں اور القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے افغانستان پر حملہ کیا گیا تھا۔

تب اس جیل کا مقصد اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے القاعدہ یا طالبان سے روابط رکھنے والے مشتبہ افراد کو پکڑنا اور ان سے پوچھ گچھ کرنا تھا۔

تاہم بعد ازاں متعدد ممالک سے متعدد مشتبہ افراد کو وہاں بھیجا گیا اور حراستی مرکز اس وقت بدنام ہو گیا جب قیدیوں کی تذلیل اور تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا