بھارتی اعتراض کے باوجود پاک بھارت میچ اسلام آباد میں

اس سے قبل آئی ٹی ایف نے بھارت کی درخواست پر میچز کی تاریخوں کو ملتوی کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے ان میچز کو غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی استدعا کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

آئی ٹی ایف کے مطابق پاکستان ٹینس فیڈریشن کے پاس ٹائی کی نئی تاریخوں کی توثیق کے لیے 19 ستمبر تک کا وقت ہے۔(اے ایف پی)

بھارت کے اعتراض کے باوجود ایشیا / اوشیانا گروپ ون ڈیوس کپ ٹائی کے لیے روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے اہم میچز دوبارہ اسلام آباد میں شیڈول کر دیے گئے ہیں۔

بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ٹائی میچز جو آج اور کل (سنیچر اور اتوار) کو اسلام آباد میں ہونا تھے، اب 29 اور 30 نومبر یا یکم دسمبر کو پاکستان کے درالحکومت میں ہی ہوں گے۔

 تاہم اس کے لیے نومبر کے پہلے ہفتے میں سکیورٹی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) حتمی فیصلہ کرے گی کہ ان میچز کو اسلام آباد میں ہی کرایا جائے یا کسی نیوٹرل مقام پر منتقل کر دیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن نے جمعے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں سیکرٹری جنرل ہیرمونائے چٹرجی نے آئی ٹی ایف کے فیصلے کی توثیق کی۔

تاہم پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’چار نومبر کو پاکستان میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ ٹائی اسلام آباد میں منعقد کیا جاسکتا ہے یا اسے غیر جانبدار مقام پر منتقل کیا جائے۔‘

اس سے قبل آئی ٹی ایف نے بھارت کی درخواست پر میچز کی تاریخوں کو ملتوی کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے ان میچز کو غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی استدعا کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

تاہم چٹرجی نے اخبار کو بتایا کہ میچز میں تاخیر کا فیصلہ قابل اطمنان بات ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’اب ہمیں دیکھنا ہے کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ماہ ہونے والی سیاسی پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے مابین موجودہ ماحول جو جمود کا شکار تھا اس میں اب بہتری آسکتی ہے یا نہیں۔‘

آئی ٹی ایف کے مطابق پاکستان ٹینس فیڈریشن کے پاس ٹائی کی نئی تاریخوں کی توثیق کے لیے 19 ستمبر تک کا وقت ہے۔ ’آئی ٹی ایف میزبان ملک اور اپنے آزاد مشیروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں سلامتی کی صورتحال پر نظر رکھے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل