کیا ن لیگ سزا کے خلاف اپیل کو خود لٹکانا چاہ رہی ہے؟

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس پر فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اپیل کی 15 منٹ کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی یہی کوشش رہی کہ کسی طرح بغیر کارروائی کے ہی سماعت ملتوی ہوجائے۔

احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں  سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں  سات برس قید کی سزا سنائی تھی ۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں فیصلہ دینے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی متنازع ویڈیو اور بیان حلفی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کی اہمیت بڑھ گئی تھی لیکن ایسا معلوم ہوا کہ بدھ کو ہونے والی سماعت میں ان کے وکیل عدالت میں بغیر تیاری کے موجود تھے۔

احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی  جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔ بعدازاں نواز شریف کی جانب سے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جبکہ فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک کی ایک متنازع ویڈیو بھی منظر عام پر لائی گئی، جس کے حوالے سے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ جج پر دباؤ ڈال کر فیصلہ دلوایا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے  جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آج العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی جانب سے ویڈیو لیک کے بعد جاری وضاحتی پریس ریلیز اور بیان حلفی کو بھی اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

آج سماعت کا آغاز عدالتی وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے ہوا اور ایک بجکر دس منٹ پر شروع ہونے والی سماعت ایک بجکر 25 منٹ پر اختتام پذیر ہو گئی۔

15 منٹ کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی یہی کوشش رہی کہ کسی طرح بغیر کارروائی کے ہی سماعت ملتوی ہوجائے اور تاریخ مل جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالتی ریکارڈ پر مشتمل پیپر بکس میں کچھ خامیوں اور ایک دستاویز کے غائب ہونے کی نشاندہی کی۔

 خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’دلائل کا آغاز ہونے کے بعد تین ماہ میں دلائل مکمل کر لیں گے مگر اس سے پہلے کچھ مہلت دی جائے تاکہ سابق جج احتساب عدالت ارشد ملک کے بیان حلفی کی مصدقہ نقل ملنے پر اس کا جائزہ لے سکیں۔‘

سینیئرعدالتی صحافی اویس یوسف زئی نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک نواز شریف کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل پر دلائل کا آغاز ہی نہیں ہو سکا۔ خواجہ حارث چاہتے ہیں کہ پہلے ٹرائل کورٹ کے سابق جج کے بیان حلفی کا معاملہ طے کیا جائے اور پھر اپیل کے میرٹ پر دلائل کا آغاز ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’دوران سماعت عدالت نے جب کہا کہ اس معاملے پر آپ نے معاونت کرنی ہے تو خواجہ حارث کا ایک جملہ بہت اہم تھا کہ سپریم کورٹ نے آپ کو پہلے ہی کافی کچھ بتا دیا ہے کہ جج کی ویڈیو اور بیان حلفی کے معاملے پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔‘

عدالت نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ اپیل پر دلائل شروع ہی نہیں کریں گے تو ختم کیسے ہوں گے۔‘

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ جج ارشد ملک کے بیان اور پریس ریلیز کا اپیل پر کیا اثر پڑے گا؟

عدالتی کارروائیوں کی کوریج کرنے والے کچھ صحافیوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’یہ کیس اتنا تیزی سے چلتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ شاید سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کے جانے کا انتظار ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پس پردہ چلنے والی ڈیل یا مذاکرات کی وجہ سے نواز شریف کی اپیل کی کارروائی میں جان بوجھ کر وقت لے رہی ہے۔

تاہم مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیل اور ڈھیل کی باتیں موجودہ حکومت کر رہی ہے، ن لیگ نے ڈیل کی کوئی بات نہیں کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان