’افغان صدارتی انتخابات سے کسی بہتری کے آثار کم ہیں‘

ایک افغان شہری کے مطابق: ’میرا خاندان اور میں صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے لیکن ہم نے سنا ہے کہ طالبان پولنگ سٹیشنوں کو نشانہ بنائیں گے جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ یہ بہت زیادہ تشویش کی بات ہے۔‘

افغان شہری نوید (دائیں) اور ان کے والد محبوب (بائیں)۔  نوید آٹھ برس کی عمر میں مویشی چراتے ہوئے ایک بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے باعث اپنی ٹانگ سے محروم ہوگئے تھے جبکہ ان کے والد محبوب کو کئی سال پہلے مسلح گروپ نے رائفل کے بٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا ، جس کے باعث ان کے دماغ کو نقصان پہنچا اور ان کے جسم کے دائیں حصے نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ (تصویر: اینڈریو کوئلٹی/  سیو دی چلڈرن)

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے آخری دنوں میں ریلیوں اور تقاریر کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی شدت پسندوں کی طرف سے قتل و غارت گری کا خطرہ بھی ہے، جس میں پہلے بھی کئی افراد ہلاک اور معذور ہو چکے ہیں۔

28 سمتبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات عین اُس وقت ہو رہے ہیں جب ٹوٹ پھوٹ، بے یقینی اور ہنگامہ خیزی کے شکار ملک کو امریکہ اور طالبان کے درمیان اب تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات میں امن معاہدے کی امید تھی۔

تاہم اس سے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد مذاکرات معطل کر رہے ہیں۔ دو ہفتے میں مرنے والا یہ چوتھا امریکی فوجی تھا۔ امریکی صدر کے اعلان کے جواب میں طالبان نے حملوں میں اضافے کی دھمکی دی جس کے بعد مہلک بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعض اوقات پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ غیرمعمولی حد تک وسیع ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ ہر روز اوسطاً 74 افراد ہلاک ہوئے۔

ستمبر میں بھی حالات خراب رہے۔ خود کش حملے کیے گئے، کار بم دھماکے ہوئے، لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔ تشدد کے ان واقعات میں افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی پر حملہ بھی شامل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ بدھ کو ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں 39 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے۔ ٹرک بم دھماکہ افغانستان کے جنوبی شہر قلات میں ایک ہسپتال کے باہر ہوا۔ متاثر ہونے والوں میں زیادہ تر ڈاکٹر، نرسیں، مریض اورانہیں دیکھنے کے لیے آنے والے خاندان شامل تھے۔ دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف ہسپتال کے قریب واقع خفیہ ادارے کا ایک دفتر تھا۔

مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع خوئے غنی میں امریکی فضائی حملے میں مزید 30 افراد مارے گئے۔ دیہاتیوں اور افغان حکام نے نے کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے کسان تھے جو گھنے درختوں والے علاقے میں چلغوزے کے باغ میں کام رہے تھے۔ امریکی فوج نے ابتدائی بیان میں کہا کہ ڈرون طیارے نے داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا اور متاثرین کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بعد میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ دیہاتیوں کے معاملات طے کرنے کے بعد داعش کے جنگجو موقع پر موجود تھے۔ عہدیدار نے اصرار کیا: ’داعش کے جنگجو موجود تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ فصل کی کٹائی کے موقع پر ہونے والے میلے میں دیہاتیوں نے داعش کے جنگجوؤں سے سودے بازی کرکے انہیں کاشتکار کے طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اب ہم اس ضمن میں افغان حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘

قبائلی سربراہ ملک راحت گل اپنی اس بات پر قائم رہے کہ جو کچھ ہوا وہ واضح ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ کارکن آگ جلا کر اس کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں فضا سے بم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ لوگ محض محنت کش تھے۔‘

ایک دن پہلے دو خود کش بم دھماکوں میں 48 افراد مارے گئے۔ ایک دھماکہ صوبہ پروان کے علاقے چراکار میں ہوا جہاں صدر اشرف غنی ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ خیال ہے کہ حملے کا ہدف افغان صدر ہی تھے۔ طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا دھماکہ وسطی کابل میں افغان فوجی اڈے اور امریکی سفارتخانے کے قریب ہوا جس میں مزید 22 افراد مارے گئے۔ طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کےمطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران چار ہزار افغان شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ امریکہ کی قیادت میں غیرملکی فورسز اور افغان فوج کی کارروائیوں میں ہونے والے’اضافی نقصان‘ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

افغانوں کے لیے، جو ختم نہ ہونے والی لڑائی کے عشرے دیکھ چکے ہیں، مستقبل میں کسی بہتری کی امید بہت کم ہے۔ محمد امیر گل کے برادرِ نسبتی، جن کا نام صافی ہے، گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے بم دھماکے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ خطرہ ہے جس کا لوگوں کو ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

الیکٹریکل انجینیئر امیر گل نے کہا: ’صافی اس علاقے میں کسی سے ملنے کے لیے گئے تھے جب دھماکہ ہوا۔ ان کی ٹانگوں اور کمر پر زخم آئے جن کی وجہ سے انہیں آپریشن کروانا پڑا۔ وہ طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی بیوی بچوں کے لیے کما نہیں سکیں گے۔ خاندان کے باقی لوگوں کو ان کی مدد کرنی پڑے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرا خاندان اور میں صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے لیکن ہم نے سنا ہے کہ طالبان پولنگ سٹیشنوں کو نشانہ بنائیں گے جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ یہ بہت زیادہ تشویش کی بات ہے۔‘

امیرگل کے ساتھ کام کرنے والے فرزاد رحمان نے کہا: ’میرا خاندان بھی ووٹ ڈالے گا۔ ہم ووٹ دیں گے لیکن مجھے صورت حال بہتر ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں الیکشن میں دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس لیے کیا الیکشن اس قابل ہے کہ اس کے لیے بم دھماکوں کا خطرہ مول لیا جا سکے؟ کون جانتا ہے؟ مجھے مستقبل میں کوئی زیادہ امید دکھائی نہیں دیتی۔ ہم نے سوچا تھا کہ (دوحہ) میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا لیکن اب یہ مذاکرات نہیں ہو رہے اس لیے ہمیں انہی حالات میں رہنا ہوگا۔‘

امریکہ کے افغانستان میں سابق سفیر زلمے خلیل زاد کی قیادت میں دوحہ میں امریکی ٹیم اورطالبان وفد، جس میں تنظیم کے پاکستان میں واقع ہیڈ کوارٹر کی قیادت شامل تھی، کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت کو مؤثر انداز میں الگ رکھا گیا۔

افغان اور مغربی حکام نے خبردار کیا تھا کہ زلمے خلیل زاد نے جو معاہدہ تیار کیا اس کے تحت اگلے سال امریکہ کے صدارتی انتخاب سے قبل امریکی فوج کی بڑی تعداد نے افغانستان سے نکل جانا تھا۔ معاہدے کے تحت طالبان کو کئی مراعات دی گئی تھیں جبکہ ان کے جواب میں زیادہ مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی امریکہ طالبان معاہدے کے مخالفین میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بمباری کے بعد ’جرائم کا ارتکاب جاری رکھتے ہوئے طالبان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتے اور ان کے تمام اقدامات دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔‘

افغان صدر نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے بعد شہری ہلاکتیں روکنے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رات کے وقت ہونے والے اور دوسرے حملے رکوانے کے لیے پہلے ہی کئی اقدامات کر چکے ہیں۔ ان فوجی آپریشنوں کی زیادہ تر منصوبہ بندی امریکی کرتے ہیں اور ان سے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

دوحہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد صدر اشرف غنی کو فوری بحران کا سامنا ہے۔ امریکہ نے ان کی حکومت پر الزام لگایا ہے وہ بدعنوانی کے مسئلے سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کی براہ راست امداد میں 16 کروڑڈالر(12 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ) کی کمی کردی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک مذمتی بیان میں کہا: ’ہم اُن لوگوں کے خلاف کھڑے ہیں جو اپنے عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور اثرورسوخ کے ذریعے افغان عوام کو غیرملکی امداد کے فوائد اور زیادہ خوشحال مستقبل سے محروم کر رہے ہیں۔‘

پومپیو کے مطابق: ’ہمیں توقع ہے کہ افغان حکومت بدعنوانی کے خلاف جنگ میں واضح عزم کا اظہار کرے گی تاکہ افغان عوام کی خدمت کی جا سکے اور ان کے اعتماد کو بحال رکھا جاسکے۔ افغان رہنما جو اس معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہتے ہیں ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔‘

الیکشن میں افغان صدر اشرف غنی کے بڑے حریف عبداللہ عبداللہ ہیں جنہوں نے بدعنوانی کے خلاف لڑنے کا عزم رکھا ہے۔ اس کے باوجود نقادوں نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ جب وہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے تحت ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے تو اُس وقت ملک میں بدعنوانی کیوں ہوتی رہی؟

عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی سے گذشتہ الیکشن ہار گئے تھے۔ حامد کرزئی ملا عمر کی طالبان انتظامیہ کے خاتمے کے بعد ملک کے پہلے صدر بنے۔ دونوں صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے تھے۔

حامد کرزئی نے طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ماضی میں اپنے خیالات تبدیل کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوحہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا: ’تمام افغان شہریوں کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ فوری طور پر دوبارہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔‘

20 سالہ افغان طالب علم ولید درانی نے تبصرہ کیا: ’ماضی میں حامد کرزئی کہتے رہے ہیں کہ طالبان پر مذاکرات کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب وہ ایک معاہدے کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں جو افغان عوام کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ان کے اس بیان کا مقصد توجہ حاصل کرنا ہے، شاید وہ الیکشن کے خراب نتیجے کی صورت میں حکومت میں واپس آنے کے لیے پَر تول رہے ہیں۔ سب سیاست دان جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر شک کرنا لازمی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت اور ہفتے کے اختتام پر جب ہم صدارتی الیکشن کے لیے ووٹ ڈالیں گے،اس درمیانی مدت میں افغان عوام کے بڑے مقصد کو تباہی سے بچانا ہوگا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا