افغان انتخابات: پروفیسر بمقابلہ ڈاکٹر بمقابلہ کمانڈر

افغانستان میں امریکی حملے کے بعد چوتھے صدارتی انتخابات کا عمل جاری ہے جس میں 18 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔

دائیں سے بائیں: گلبدین حکمت یار، عبداللہ عبداللہ، اشرف غنی (اے ایف پی)

افغانستان میں ہفتے کی صبح سخت سیکورٹی کے دوران صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا جس میں 18 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ 

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا اور بغیر کسی وقفے کے سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گی۔

2001 میں امریکی حملے کے بعد یہ افغانستان میں چوتھے صدارتی انتخابات ہیں اور ان میں کچھ نئے چہروں کے علاوہ پرانے نام بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

موجودہ صدر اشرف غنی اپنے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے مدِ مقابل ہوں گے، جبکہ ماضی کے مشہور جنگجو گلبدین حکمت یار اور سوویت یونین کے خلاف جنگ کے ایک اور اہم کردار احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد ولی مسعود بھی میدان میں ہیں۔

افغانستان کی آبادی تین کروڑ 22 لاکھ ہے، جن میں سے 96 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں، جو کل آبادی کا صرف 30 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں تقریباً 50 فیصد آبادی ووٹ دینے کی اہل ہے۔

تاہم اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان ہیں جنہوں نے امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کی منسوخی کے بعد لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ووٹنگ سے دور رہیں۔

انتخابات کے لیے ملک بھر میں سوا پانچ ہزار سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے، تاہم چار سو سے زائد سٹیشن پر سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پولنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔

سکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے 72 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جن میں نیٹو کے فوجی بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے انتخابی قواعد کے مطابق ملک کا نیا صدر منتخب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جیتنے والا امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ انتخابات میں عبداللہ عبداللہ نے سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے لیکن وہ نصف سے زائد ووٹ لینے میں ناکام رہے تھے، جس کے بعد ان کا دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار اشرف غنی سے دوبارہ مقابلہ ہوا تھا۔ دوسرے راؤنڈ کے نتائج اتنے متنازع ثابت ہوئے کہ اس وقت کے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے دونوں حریفوں سے مذاکرات کیے جس کے بعد اشرف غنی صدر بنے جبکہ عبداللہ عبداللہ کے لیے چیف ایگزیکٹیو کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا۔

چونکہ ملک کا بیشتر حصہ دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے، اس لیے حتمی نتائج کے اعلان میں تین ہفتے لگ جائیں گے، اور نتائج 19 اکتوبر کو ظاہر کیے جائیں گے۔  

ان انتخابات کے اہم امیدوار یہ ہیں:

اشرف غنی

یہ ملک کے موجودہ صدر ہیں اور مبصرین ان کے جیتنے کے سب سے زیادہ امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں انہیں باہر رکھا۔

70 سالہ غنی پشتون ہیں اور انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ ملک سے باہر گزارا ہے۔ وہ امریکہ کی مشہور جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں علمِ بشریات کے پروفیسر رہے ہیں۔

وہ سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں ملک کے وزیرِ خزانہ رہ چکے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ

پیشے کے لحاظ سے آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں اور شمالی اتحاد کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وہ سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے ساتھی تھے۔ ان کے والد پشتون اور والدہ تاجک ہیں۔ 2014 کے انتخابات کے بعد ان کے لیے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ بنایا گیا جو وزیرِ اعظم کے برابر ہے۔

وہ اشرف غنی کے مقابلے پر زیادہ سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس سال اپریل میں امن جرگہ میں یہ کہہ کر حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔

گلبدین حکمت یار

گلبدین پشتون ہیں اور سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ بقیہ امیدواروں کے مقابلے پر ان کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے۔

امریکہ کے افغانستان پر قبضے کے بعد گلبدین خاصا عرصہ زیرِ زمین رہے، تاہم 2016 میں اشرف غنی نے انہیں عام معافی دے دی تھی، جس کے بعد سے وہ پہلی بار سیاسی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

ولی احمد مسعود

احمد شاہ مسعود کے چھوٹے بھائی اور مسعود فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور وہاں افغانستان کے سفیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا