لاٹری جیتنے کے ایک دہائی بعد بھی کروڑ پتی مڈوائف کام میں مصروف

45 سالہ رتھ برین وگن میں واقع رائل البرٹ ایڈورڈ انفرمری میں کام کے دوران دوپہر کے کھانے کے وقفے پر تھیں، جب انہوں نے اپنے ای میلز چیک کیے تو پتہ چلا کہ انہوں نے یورو ملینز پر 10 لاکھ پاؤنڈ کی لاٹری جیت لی ہے۔

برطانیہ کے شہر وگن میں واقع ایک ہسپتال کی مڈوائف رتھ برین 8 جولائی 2014 کو یورو ملین لاٹری جیتنے کے بعد چیک کے ہمراہ خوشی کا اظہار کر رہی ہیں (دا نیشنل لاٹری)

ایک مڈوائف (دائی) جنہوں نے لاٹری جیتی تھی، کروڑ پتی بنے ایک دہائی گزرنے کے باوجود اب بھی بچے پیدا کر رہی ہیں۔

45 سالہ رتھ برین وگن میں واقع رائل البرٹ ایڈورڈ انفرمری میں کام کے دوران دوپہر کے کھانے کے وقفے پر تھیں، جب انہوں نے اپنے ای میلز چیک کیے تو پتہ چلا کہ انہوں نے یورو ملینز پر 10 لاکھ پاؤنڈ کی لاٹری جیت لی ہے۔

ایک بچے کی ماں تقریباً 10 سال بعد بھی این ایچ ایس کے لیے کام کر رہی ہیں حالاں کہ وہ چھٹیوں میں دبئی، سینٹ لوشیا اور موریشیئس جیسے مقامات کی سیر کا لطف اٹھا چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ 10 برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن پھر اتنا زیادہ نہیں۔‘

’لاٹری سب سے بہترین وقت پر نکلی۔ اس سے مجھے کام کے اوقات کم کرنے کا موقع ملا جس سے مجھے کام اور زندگی میں بہتر توازن ملا۔‘

’میں واقعی خوش قسمت ہوں کہ میں صرف جزوقتی کام کرتی ہوں۔ اس سے میں کام کے دوران انتہائی مصروف رہنے کے بجائے اپنی بیٹی کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے کے قابل ہوئی جو ماں بیٹی سے متعلق مزاحیہ باتیں کرتی ہے۔

’ہم نے بہت اچھی چھٹیاں گزاری ہیں لیکن ہم نے اپنے پاؤں زمین پر ہی رکھنے کی کوشش کی اور مجھے لگتا ہے کہ کام کرنے سے مجھے واقعی ایسا کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘

برین اپنی بیٹی کے لیے ایک مثال کے طور پر بھی کام جاری رکھنا چاہتی ہیں جس کی عمر لاٹری لگنے کے وقت 11 سال تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’خدا نے مجھے ناقابل یقین تحفہ دیا لیکن آپ اسے معمولی نہیں لے سکتے، ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔‘

کمیونٹی مڈوائف اب بی ایم ڈبلیو ایکس تھری میں آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کار کی ضرورت تھی جس میں ڈگی کشادہ ہو، اسی وجہ سے وہ اس کا سپورٹس ماڈل حریدنے سے قاصر رہیں۔

لاٹری لگنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے جمی چوس کے جوتے خریدے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں سیلفرجز میں ان (جوتوں) کے پیسے دے رہی تھی تو میں تقریباً رو پڑی کیوں کہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں واقعی یہ جوتے خریدنے کے قابل ہوں اور میرے پاس ایسا کرنے کے لیے پیسے تھے۔ یہ بڑی خوشی کی بات تھی۔

’اب ان جوتوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے لیکن اب روتی نہیں۔‘

برین اب بھی اسی گھر میں رہتی ہیں جو انہوں نے لاٹری لگنے سے قبل خریدا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جن نئی ماؤں کے ساتھ کام کرتی ہیں ان میں سے زیادہ تر اس بات سے لاعلم ہوتی ہیں کہ ان کی دیکھ بھال ایک کروڑ پتی کر رہی ہے۔

’میں اپنا تعارف نہیں کرواتی اور یہ نہیں بتاتی کہ میں نے 10 سال پہلے 10 لاکھ پاؤنڈ جیتے تھے۔ لوگوں کی اکثریت کو اس بات کا کوئی علم نہیں اور مجھے یہ اسی طرح پسند ہے۔

’مریض اور عملہ میرے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو کسی بھی دوسری مڈوائف کے ساتھ کرتے ہیں۔

لاٹری جیتنے کے 10 سال پورے ہونے پر برین، خیراتی ادارے دا بے بی روم کی مدد کر رہی ہیں، جو وگن میں آ کر بسنے والے نئے خاندانوں کو ضرورت کا سامان فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ مہنگائی کا بحران کافی عرصے سے چل رہا ہے اور بچے سستے پیدا نہیں ہوتے۔

’ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ وہ باہر جا کر اس تمام سامان کی خریدار پر کوئی بھی رقم خرچ کر سکے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بچے کو رات کے وقت سونے کے لیے محفوظ جگہ مل گئی ہے یا اس صورت میں کہ اگر بچے کو بوتل کے ذریعے دودھ پلانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے پاس وہ جراثیم کش آلات موجود ہیں جن کی مدد سے بوتلوں اور نپلزکو صاف اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔‘

2022 میں اپنے سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش کے بعد بے بی بینک قائم کرنے والی ایلی سن ویک فیلڈ کا کہنا تھا کہ ’ہماری مدد کے بغیر ہمارے پاس ایسے بچے ہوتے جو فرش پر سوتے۔ ان کے پاس سونے کے لیے محفوظ جگہ نہ ہوتی۔ ہم انہیں درازوں میں سلاتے۔ ہمارے پاس ایسے بچے ہوتے جو ایک ہی ڈائپر کئی بار استعمال کرتے۔‘

’یہ ایک لازمی خدمت ہے جس کی یقینی طور پر ضرورت ہے۔ ہمارے بغیر لوگ اور بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہوں گے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر