کشمیر میں احتجاج کے نئے طریقے

وادی کا ایک ایک شخص اپنے انداز سے بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو یونین ٹریٹری بنانے کے فیصلے کے خلاف خاموش احتجاج کر رہا ہے۔ ان میں سے چند کی کہانی

کشمیر میں غیرمعمولی بندشوں کے خلاف غیرمعمولی احتجاج کے طریقہ اپنائے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

بھارتی سرکار کے ’کشمیر میں سب ٹھیک ہے‘ کہنے کے باوجود اگر وادی میں انتظامیہ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے اور زندگی کی سوئی پانچ اگست کے فیصلے پر ٹھہر چکی ہے تو یہ کہنا حق جانب ہے کہ اقوام عالم کو چکمہ دینے کا بھارتی عمل ناکام ہو چکا ہے۔

’میری دکان دو ماہ کیا بارہ ماہ بھی بند رہے گی تو کیا ہوگا؟ بھوک سے مر جاؤں گا؟ کم از کم اس دوزخ سے نجات تو ملے گی جو مودی نے کشمیر کو بنا دیا ہے۔‘ یہ الفاظ ہیں اکبر ڈار (فرضی نام) کے جو میرے محلے کا واحد دکاندار ہے جس نے گذشتہ 30 برسوں میں پہلی بار اپنی دکان بند رکھی ہے اور محلے والوں، پولیس اور سرکاری اہلکاروں کے اصرار کے باوجود بھارتی حکومت کے پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف احتجاج پر کاربند ہے۔

اکبر ڈار کی عمر تقریباً 77 برس ہے۔ ان کا تکیہ کلام ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ’نجومی نے پیشگی وارننگ دی تھی کہ ستاروں کی غیر معمولی گردش کی وجہ سے تینوں کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے حالانکہ ماں باپ نے دستگیر صاحب کے آستانے پر نیاز بھی چڑھائی تھی مگر اسے کہاں معلوم تھا کہ بھارت میں راہو کیتو کی شکل میں مودی نمودار ہوگا اور نجومی کی پیش گوئی صیح ثابت ہوگی۔‘

چند دہائیوں تک اکبر ڈار کا کاروبار کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ بھارتی تاجروں سے مراسم، پاکستانی مصالحوں کی خوب بکری اور پاکستانی کشمیر کے رشتہ داروں سے بس کے ذریعے خط وکتابت بھی ہوتی تھی لیکن نہ جانے مودی کو یہ کیا سوجھی کہ سب کچھ تہس نہس کر دیا۔

اکبر ڈار نے پانچ اگست سے دکان نہیں کھولی۔ پہلے کرفیو کی وجہ سے گھر میں قید رہے، چند ہفتوں کے بعد سول لائنز علاقوں میں پابندیوں میں ذرا کمی ہوئی تو محلے والے دکان کھلنے کی امید رکھتے تھے مگر دکان پھر بھی بند رہی۔ نزدیکی ہمسائے ڈار کی خیریت دریافت کرنے گئے تو وہ شدید غصے میں ملے۔ پتہ چلا کہ سرکار کے چند لوگ بھی دکان کھولنے کے لیے زور لگا رہے تھے۔ پولیس کے اہلکار بھی رعب جما کر چلے گئے اور چند نوجوان بھی کچھ وقت کے لیے دکان کھولنے کی عرضی دے گئے لیکن ڈار کاروبار کھولنے پر راضی نہیں ہو رہے ہیں۔

اکبر ڈار اکیلے نہیں جو پانچ اگست کے بھارتی فیصلے کے خلاف خاموش احتجاج کر رہے ہیں بلکہ وہ ان ہزاروں دکانداروں میں شامل ہیں جو چند ہفتوں سے صبح سات سے نو بجے تک صرف دو گھنٹے کے لیے  دکان کھولتے ہیں اور پھر احتجاجاً بند رکھتے ہیں۔ کشمیر میں رات کو تھوڑا بہت کاروبار کرنے کی رسم چلی ہے اور دن کو مکمل ہڑتال رہتی ہے جس کے لیے نہ حریت کانفرنس نے کال دی ہے اور نہ قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے، جن کے رہنما مختلف جیلوں میں اپنی 70 برس کی سیاست پر آنسو بہا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سکولوں کی کہانی بھی کاروبار جیسی ہی ہے۔ حکومت نے تقریباً دو ماہ کی سخت بندشوں کے بعد تمام سکولوں کو کھولنے کا اعلان کیا مگر بچے احتجاجاً سکول نہیں جانا چاہتے۔ گو کہ والدین نے بھارت سے ایسے حالات میں بچوں کے تحفظ کی ضمانت مانگی ہے جب فون اور انٹرنیٹ سروسز بند کی گئی ہیں۔ حکومت ان سینکڑوں بچوں کی حوالگی کی گارنٹی نہیں دیتی جن کو رات کے اندھیروں میں ماؤں کے آنچل تلے سے اٹھا لیا گیا ہے تو سکولی بچوں کی گارنٹی کیا دے گی۔ بعض اساتذہ نے گھروں میں سکول قائم کیے ہیں اور محلے کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

دفتروں میں سرکاری ملازمین کی حاضری لازمی کر دی گئی ہے۔ بیشتر ملازم پہنچنے سے قاصر ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹرز گاڑیاں نکالنے پر راضی نہیں۔ وہ احتجاجاً سڑکوں کو سنسان رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرانسپورٹروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور اکثر بینک کے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر جب بعض مالکان نے بینکوں سے گاڑیاں واپس لینے کی پیش کش کی تو بنک افسر ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہ گئے۔

چند ملازم نجی گاڑیوں میں سفر کرنے سے ڈرتے ہیں اور دفتروں میں کرنے کو ویسے بھی کچھ نہیں۔ جو کچھ کام ہو رہا ہے وہ چند غیر کشمیری افسر انجام دیتے ہیں۔ گویا دونوں ملازم اور ٹرانسپورٹر احتجاجاً حکومت کا یہ بیان رد کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ کشمیر میں ’سب چنگا ہے۔‘

اگست سے اکتوبر تک کے مہینے میں کشمیر میں شادی بیاہ کا سیزن ہوتا ہے۔ بیشتر شادیاں منسوخ کی گئیں البتہ بعض نے نئی روایت قائم کرکے والدین یا محلے کے بزرگ سے سادہ نکاح پڑھوایا۔ پلوامہ کے صابر علی نے دلہن کے گھر جا کر اپنے گھر کے ملازم سے نکاح پڑھوایا۔ دونوں نے پڑوسی بزرگ عورت سے دعا کرائی اور ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ صابر علی کہتے ہیں کہ ’میں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرکے شادی کی ہے اور بھارت کو بتانا چاہتا تھا کہ تمہاری بے ہودہ سازشوں کے باوجود ہم اپنی زندگی اپنے انداز سے جیئیں گے چاہے تم کتنے ہی پہرے بٹھاؤ۔ میری دلہن نے شادی کا جوڑا نہیں پہنا یا وازہ وان کی دعوت نہیں ہوئی لیکن ہم نے شادی کرکے اپنا غصہ ظاہر کیا۔‘

12 ہزار کروڑ کی صنعت یعنی تازہ پھلوں کی کاشت ستمبر میں شروع ہوتی ہے جن میں ہزاروں میٹرک ٹن سیب شامل ہیں۔ یہ ریاست کی معیشت کا اہم جز ہے۔ اس بار پھلوں کی بمپر فصل ہوئی ہے۔ کرفیو اور بندشوں کی وجہ سے کسانوں نے احتجاجاً فصل کو درختوں سے نہیں اتارا اور سڑنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ شوپیان کے ایک بڑے تاجر اور باغ مالک عبداللہ کہتے ہیں کہ ’فروٹ گرورس کے ایک بڑے گروپ نے پھلوں کی کاشت روکی اور درختوں پر سڑنے کے لیے چھوڑا۔ بھارت ہمارا سیب بیچ کر آمدنی حاصل کرتا ہے۔ اس بار ہمارا کافی نقصان ہوا لیکن ہندوستان کے لیڈروں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کشمیری سیب ہمیشہ میٹھا نہیں ہوتا، تیکھا بھی ہوتا ہے۔‘

اور سب سے انوکھا احتجاج مالا بیگم کا ہے جو گونی کھن کے بڑے بازار کے سامنے امیراکدل پل پر مچھلیاں بیچتی تھیں۔ وہ یہاں سے دس کلومیٹر دور اپنے گھر کے باہر دروازے پر بیٹھتی ہے اور ٹین بجاتی ہے۔ اِکا دُکا راہگیر محظوظ ہوتے ہیں مگر قریب ہی پل کے سامنے فوجی شور سے گھبرا جاتے ہیں۔

گویا وادی کا ایک ایک شخص اپنے انداز سے بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو یونین ٹریٹری بنانے کے فیصلے کے خلاف خاموش احتجاج کر رہا ہے اور بھارت کے حکمران اپنے میڈیا کو قابو میں کرکے دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں نارملسی ہے۔ اس کے جواب میں عالمی میڈیا کشمیر کی مخدوش صورت حال کی بھرپور ترجمانی کرکے سرکاری جھوٹ کو بے نقاب کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ