فوجی تصادم قابو سے باہر ہو سکتا ہے، پاکستان انڈیا گریز کریں: یو این سیکریٹری جنرل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی گذشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے جسے جنگ میں بدلنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔

رات 09 بج کر 05 منٹ

انڈیام پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی گذشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے پیر کو کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی گذشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے جسے جنگ میں بدلنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔

انتونیو گوتریش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ لمحہ انتہائی احتیاط اور تدبر کا متقاضی ہے۔ فوجی تصادم آسانی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے لہٰذا اس سے ہر ممکن گریز ضروری ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی پیغام میں دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطوں میں دے رہا ہوں۔ واضح رہے کہ فوجی کارروائی کوئی حل نہیں۔ میں دونوں حکومتوں کو امن کے قیام کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔

’اقوام متحدہ ہر اس کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے جو کشیدگی میں کمی، سفارت کاری کے فروغ اور امن کے لیے نئے عزم کو آگے بڑھاتی ہو۔‘

سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کا بے حد احترام کرتا ہوں اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں ان کی نمایاں خدمات پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں، اسی لیے ان کے باہمی تعلقات کو اس حد تک بگڑتے دیکھ کر مجھے شدید دکھ پہنچا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’22  اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد دونوں اطراف کے شدید جذبات کو میں سمجھتا ہوں۔ میں اس حملے کی ایک بار پھر شدید مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ذمہ داروں کو قابل اعتماد اور قانونی طریقے سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘


رات 08 بج کر 15 منٹ

انڈیا پاکستان کشیدگی: مختلف انڈین ریاستوں میں سول ڈیفنس کی مشقیں

انڈیا میں حکومتی عہدیداروں نے پیر کو بتایا ہے کہ ملک میں حالیہ حالات کے پیش نظر بدھ کو سول ڈیفنس کی مشقیں کرنے جا رہے ہیںگ

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

انڈیا نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا ہے جسے پاکستان بارہا مسترد کر چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا کی وزارت اطلاعات کے سینیئر مشیر کنچن گپتا نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وزارت داخلہ نے مختلف ریاستوں میں موثر سول ڈیفنس کے لیے مشقیں کرنے کی درخواست کی ہے۔‘

کنچن گپتا کے مطابق ’ان مشقوں میں انخلا کے منصوبے اور شہریوں، طلبہ وغیرہ کی تربیت شامل ہوگی تاکہ وہ دشمن کے حملے کی صورت میں خود کو بچا سکیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ’مشقوں میں فضائی حملوں کی وارننگ کے لیے سائرن کا تجربہ، بلیک آؤٹ کے لیے تیاری اور اہم تنصیبات کو چھپانے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی۔‘


رات 07 بج کر 55 منٹ

پاکستان اور ایران کی خطے اور عالمی حالات پر گفتگو

پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پیر کو پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی پیر کو ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران خطے اور عالمی حالات پر گفتگو کی۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلگام واقعے کے بعد سے ’انڈیا کے اشتعال انگیز رویے‘ کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں بڑھتے تناؤ پر پاکستان کے خدشات سے ایرانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔


شام 06 بج کر 15 منٹ

غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ: آرمی چیف

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ ’غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی‘ بلوچستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق راولپنڈی میں 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ان کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

آرمی چیف نے کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب، مسلک یا قومیت نہیں اور اس کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔‘

’پاکستان خطے اور اس سے آگے امن کا خواہاں ہے تاہم اگر ملک کی خودمختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان اپنی قومی عزت اور عوام کے تحفظ کے لیے بھرپور جواب دے گا۔‘

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی مکمل حمایت سے دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔


دوپہر 05 بج کر 30 منٹ

قومی اسمبلی میں انڈیا کی ’آبی جارحیت‘ کے خلاف قرارداد منظور 

قومی اسمبلی نے پیر کو انڈیا کی ’آبی جارحیت‘ کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

یہ قرارداد حکمران پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا پانی روکا گیا تو یہ اعلان جنگ ہو گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے لگائے گئے الزامات مسترد کرتا ہے جب کہ انڈیا خود کئی ممالک کے اندر ’دہشت گردی‘ میں ملوث ہے۔

قرارداد پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کی۔


دوپہر 04 بج کر 30 منٹ

’پاکستان، انڈیا ایسے اقدامات لیں جس سے تناؤ میں کمی آئے‘

روس نے پیر کو اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ کم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ فریقین ایسے اقدامات لیں گے جس سے تناؤ میں کمی آئے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم سرحد پر پیدا ہونے والے تناؤ کے ماحول پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

دیمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ ’انڈیا ہمارا سٹریٹیجک شراکت دار ہے۔ پاکستان بھی ہمارا پارٹنر ہے۔ ہم اسلام آباد اور دہلی سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

روسی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان پیر کو ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہے۔

بیان کے مطابق اس گفتگو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نریندر مودی سے کہا کہ ماسکو اور دہلی کے درمیان ’خصوصی شراکت داری بیرونی اثر و رسوخ کے تابع نہیں اور تمام شعبوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔‘


دوپہر 03 بج کر 35 منٹ

’انڈیا خطے کو جنگ کی طرف لے جا رہا ہے، ہم پہل نہیں کریں گے‘

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو کہا کہ انڈیا خطے کو جنگ کی طرف لے جا رہا ہے مگر پاکستان کسی صورت پہل نہیں کرے گا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’انڈیا دنیا کو بے وقوف نہ بنائے، پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کیا گیا جس کا مقصد انڈیا میں جاری تحریکوں سے توجہ ہٹانا تھا۔‘

تاہم ساتھ ہی پاکستانی نائب وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی تو پوری طاقت سے جواب دیں گے۔‘

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پہل نہیں کرے گا مگر انڈیا کی طرف سے جارحیت ہوئی تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد انڈین وزیراعظم نے سکیورٹی میٹنگ بلائی جس میں پاکستان کا ذکر نہیں تھا لیکن پاکستان کے خلاف اقدامات کیے گئے۔‘

اسحاق ڈار کے مطابق ’پہلگام حملے کے بے بنیاد اور یکطرفہ الزامات کے بعد انڈیا کے اقدامات سے خطے کو خطرے کا سامنا ہے۔ انڈیا کی طرف سے کسی ثبوت کے بغیر الزامات لگائے گئے۔‘


دوپہر 01 بج کر 35 منٹ 

پاکستان کا تین دنوں میں میزائل کا دوسرا تجربہ

پاکستان نے پیر کو 120 کلومیٹر تک مار کرنے والے ’فتح میزائل‘ کا تجزبہ کیا جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ’تربیتی لانچ کی کامیابی سے واضح ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بیان میں کہا ہے کہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے فتح سیریز کے میزائل کا تجربہ کیا گیا۔

فوج کی آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا اور میزائل کے جدید نیوی گیشن سسٹم اور بہتر درستگی سمیت اہم تکنیکی پہلوؤں کی توثیق کرنا تھا۔

چند دنوں میں پاکستان کی طرف سے یہ میزائل کو دوسرا تجربہ ہے۔

دو روز قبل تین مئی کو پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ابدالی میزائل کو تجربہ کیا تھا۔

ابدالی میزائل کے  تجربے کے بعد پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ 450 کلومیٹر کی رینج تک زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل )ابدالی ویپن سسٹم)۔‘ کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا گیا۔

دونوں تجربات کے باے میں فوج کا کہنا ہے کہ ’ایکس انڈس‘ کے تحت کیے گئے ان تجربے کا مقصد افواج کی آپریشنل تیاری اور میزائل کے جدید نیوی گیشن سسٹم سمیت اہم تکنیکی پہلوؤں کی جانچ کرنا تھا۔

دو روز قبل بھی پاکستان نے جدید نیویگیشن سسٹم سے لیس ابدالی ویپن میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا، 450 کلو میٹر رینج والا ابدالی میزائل زمین سے زمین تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  


دوپہر 12 بج کر 50 منٹ 

انڈیا جن مقامات کو دہشت گردی کے کیمپس قرار دیتا ہے وہ عام شہری علاقے ہیں: عطا تارڑ

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ انڈیا  کی جانب سے بارہا پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے تاہم آج ہم نے عالمی اور ملکی میڈیا کے سامنے تمام حقائق رکھ دیے ہیں اور جن ’مقامات کو دہلی خیالی دہشت گردی کے کیمپس‘ قرار دیتا رہا ہے، وہ دراصل عام شہری آبادی کے علاقے ہیں۔

پیر کو ملکی و غیرملکی میڈیا کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کرایا گیا۔ اس موقعے پر بات چیت میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی انڈیا کی ہر کوشش ناکام ہوتی ہے۔

’عالمی میڈٰیا نے انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا۔ زمینی حقائق سامنے ہیں۔ انڈیا کی پاکستان پر الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں۔‘

انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’دہشت گردوں‘ کے مبینہ کیمپوں کی موجودگی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بیانیہ جھوٹا، بے بنیاد اور من گھڑت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’انڈیا اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر پروپیگنڈا کرتا ہے لیکن آج عالمی میڈیا نے خود اپنی آنکھوں سے اصل حقیقت دیکھ لی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے واضح کیا ہے کہ وہ علاقائی امن کیلئے پرعزم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انڈیا نے جارحیت کی پاکستان بھرپور جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ جعفر ایکپسریس کا واقعہ دنیا کے سنگین ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ انڈیا نے مذمت تو دور کی بات ہے، اظہار تشویش بھی نہیں کیا۔ انڈین چینل ریل گاڑی کی وہ پہلی فوٹیج دکھا رہے تو اس وقت تک پاکستانی چینلوں کے پاس بھی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی پرعزم ہے اور پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی یا دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی خودمختاری کے دفاع کےلیے ہم ہر حد تک جائیں گے۔ انڈیا الزام تراشی سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔


دوپہر 12 بج کر 17 منٹ 

پاکستان انڈیا کشیدگی سے متعلق پنجاب اسمبلی میں قرارداد

اراکین اسمبلی سارہ احمد اور مہوش سلطانہ کی جانب سے داخل کی گئی قرارداد میں خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد دہلی کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کی گئی ہے۔  

قرارداد میں کہا گیا کہ ’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اس واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور سفارتی تعلقات میں تناؤ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔‘

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان ایک پرامن ملک ہے، جو ہمیشہ مسائل کے پرامن اور سفارتی حل کا خواہاں رہا ہے۔‘


صبح 10 بج کر 10 منٹ

وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشیا کے وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ

وزیر اعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیر اعظم داتو سری انور ابراہیم کے درمیان آج ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

وزیر اعظم آفس کی جانب سے جارہ کردہ پیغم کے مطابق شہباز شریف نے پہلگام واقعے کے بعد سے انڈیا کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

گفتگو میں وزیر اعظم نے اس واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی، شفاف، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے پاکستان کی پیشکش کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تحقیقات میں ملائیشیاء کی شرکت کا خیر مقدم کرے گا۔

دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان ملائیشیا تعلقات پر بھی تبادلہء خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔


صبح 7 بج کر 20 منٹ پر

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایڈیشنل سکریٹری مغربی ایشیا سید اسد گیلانی، پاکستان میں ایرانی سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم سمیت پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستان کے دورے کے دوران عباس عراقچی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے خطے کی حالیہ صورت حال پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی رواں ہفتے ہی انڈیا کا سرکاری دورہ بھی کریں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاک ایران مستحکم تعلقات کا عکاس ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ پیر کو اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ علاقائی و بین الاقوامی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

جنوبی ایشیا کی موجودہ صورت حال اور ایران کی جانب سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی پیشکش کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی ورکنگ ملاقاتوں کا سلسلہ سوموار کو پاکستانی فوج کے چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کے ساتھ شروع ہوگا۔ 

IRNA کے مطابق اس سال 26 اپریل کو، سید عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ساتھ بات چیت میں، دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کے لیے ایران کے تعاون کی پیشکش کی تھی۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت بھی ہو رہا ہے جب خود ایران کی اسرائیل کے ساتھ تازہ حوثی حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں ایران پر حملے کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ 

ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اگر ان پر جنگ مسلط کی گئی یا حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور اور دو ٹوک جواب دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اڈے ان کے نشانے ہیں جہاں کہیں بھی ہوں اور جس وقت وہ اسے ضروری سمجھیں گے اگر امریکہ یا اسرائیل کی طرف سے کوئی جارحیت کی گئی تو وہ ان اڈوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔


صبح 7  بج کر 15 منٹ پر

پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے راستے انڈین اشیا کی تیسرے ملک اور دوسرے ملکوں کے سامان کی انڈیا کو برآمد پر پابندی عائد کر دی۔

اتوار کو وزارت تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق پاکستان سے گرزنے والے زمینی، فضائی اور سمندری راستے سے انڈین سامان کی کسی دوسری ملک کو برآمد روک دی گئی ہے۔

کسی تیسرے ملک کی جانب سے پاکستان کے ذریعے انڈیا سے زمینی،  فضائی اور بحری راستے سے درآمدات پر بھی پابندی ہو گی۔

سی طرح تیسرے ملک کی جانب سے براستہ پاکستان انڈیا کے لیے برآمدات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس ضمن میں زمینی، فضائی اور بحری راستے سے انڈیا کو سامان برآمد نہیں کیا جا سکے گا۔ تاہم یہ پابندی ایسی درآمدات، برآمدات پر نہیں ہو گی جن کے لیے پابندی سے پہلے ہی بل آف لینڈنگ (بی ایل) یا لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) پہلے جاری کیے جا چکے ہیں۔


صبح 7 بج کر 5 منٹ

مودی کی انڈین فضائیہ، بحریہ کے سربراہان سے ملاقات

انڈین فضائیہ کے ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اتوار کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوئی۔

اس سے 24 گھنٹے قبل دنیش کے ترپاٹھی نے مودی سے ملاقات کی اور انہیں بحیرہ عرب کی مجموعی صورت حال سے آگاہ کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انل چوہان اور مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان