بھوکا مرنے والے کچھوے کے پیٹ میں پلاسٹک کے سو ٹکرے

انڈوں سے نکلنے کے بعد کچھوں کے بچے تیرتی ہوئی سمندری گھاس کا رخ کرتے ہیں جس میں مائیکروپلاسٹک اٹکی ہوتی ہے اور وہ اسے ہی خوراک سمجھ بیٹھتے ہیں۔

فلوریڈا کے نیچر پارک ’دا گمبو لیمبو نیچر سینٹر‘ نے ہلاک ہونے والے کچھوے اور اس کے معدے سے برآمد ہونے والے پلاسٹک کے ٹکڑوں کی تصویر فیس بک پر پوسٹ کی۔(فیس بک)

امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل پر نیم مردہ حالت میں ملنے والے ایک کچھوے کے بچے کے پیٹ سے پلاسٹک کے 104 ٹکڑے برآمد ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ننھے کچھوے کی ہلاکت کا واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ رواں سال اس علاقے میں درجنوں کچھوے مائیکروپلاسٹک نگلنے کے بعد بھوک کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلوریڈا کے نیچر پارک ’دا گمبو لیمبو نیچر سنٹر‘ نے ہلاک ہونے والے کچھوے اور اس کے معدے سے برآمد ہونے والے پلاسٹک کے ٹکڑوں کی تصویر فیس بک پر پوسٹ کی۔

اس تنظیم میں کچھووں کی بحالی کے لیے کام کرنے والی کارکن ایملی مروسکی نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ فلوریڈا کے ساحل سے ملنے والے اس کچھوے کی جسامت ہتھیلی سے بھی چھوٹی تھی اور وہ نہایت لاغر اور کمزور ہو چکا تھا۔

انہوں نے کہا: ’یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ یہ وہ چیز ہے جس کا ہم کئی سالوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور خوش ہیں کہ اب لوگ بلآخر اس تصویر کو دیکھ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس سے آگاہی میں اضافہ ہوگا۔‘

جب مارچ اور اکتوبر کے درمیان کچھووں کے بچے انڈوں سے نکلتے ہیں تو وہ تیرتی ہوئی سمندری گھاس کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ اپنی زندگی کے چند ابتدائی سال گزارتے ہیں۔

ایملی مروسکی کا کہنا تھا: ’مسٔلہ یہ ہے کہ سمندر میں جتنی بھی پلاسٹک پھینکی جاتی ہے وہ یہاں (سمندری گھاس میں) آ کر جمع ہو جاتی ہے اور کچھووں کے بچے سمندری گھاس میں اٹکی ہوئی ان مائیکروپلاسٹکس کو خوراک سمجھ کر کھانا شروع کر دیتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ کچھووں کے معدوں میں موجود پلاسٹک سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے، اس لیے وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور اُن غذائی اجزا کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سیزن میں جتنے بھی بچے واپس ساحل پر پہنچے ہیں، ان سب کے معدوں میں پلاسٹک پائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پلاسٹک کھانے سے غذائیت کی کمی کے شکار ان کچھووں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ فلوریڈا کے شہر بوکا ریٹن میں قائم اس نیچر سینٹر کو اپنی عمارت کے باہر ایک کُول بکس رکھنا پڑا ہے تاکہ لوگ ایسے کچھووں کی بحالی کے لیے انہیں یہاں بحفاظت چھوڑ کر جا سکیں۔

یہاں لائے گئے کچھوے اتنے کمزور اور لاغر ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چند ایک کو ہی بچایا جا سکتا ہے۔

ایملی مروسکی نے بتایا: ’ہم ان کچھووں میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے انہیں روزانہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں مائع غذا فراہم کرتے ہیں، جس سے ہمیں امید ہوتی ہے کہ وہ پیٹ میں موجود پلاسٹک کو قدرتی طور پر خارج کر دیں گے۔ اس تمام عمل میں ان کے جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے جس سے ان کی بھوک کو بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ مسٔلہ اُس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، جب تک لوگ پلاسٹک کی خریداری بند نہیں کر دیتے یا اس کو درست طریقے سے تلف نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں ہر ممکن حد تک پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا ہو گی۔ نہ صرف ری سائیکلنگ سے بلکہ اپنی روزمرہ زندگی سے پلاسٹک کا استعمال ختم کرنا ہوگا۔ دنیا میں پلاسٹک سے بنائے گئے ہر ٹکڑے کا وجود برقرار ہے۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بس چھوٹے چھوٹے حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات