نئی تحقیق کے مطابق ورزش اور علاج ٹوٹا ہوا دل (Broken Heart) جوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے، جس کی برطانیہ میں ہر سال پانچ ہزار افراد میں تشخیص ہوتی ہے۔
ٹاکوٹسوبو سنڈروم (Takotsubo syndrome) کے نام سے جانی جانے والی یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کا پٹھا کمزور ہو جاتا ہے اور اپنی شکل بدل لیتا ہے۔ ایسا اکثر شدید جذباتی یا جسمانی دباؤ، مثال کے طور پر کسی عزیز کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ علامات دل کے دورے جیسی ہوتی ہیں اور متاثرہ افراد میں قبل از وقت موت کے خطرے کو دگنا کر دیتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایبرڈین کے ڈاکٹر ڈیوڈ گیمبل کا کہنا ہے کہ ’ٹاکوٹسوبو سنڈروم میں دل پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں جو شاید کبھی معمول پر نہ آ سکے۔ ہم جانتے ہیں کہ مریض اپنی باقی زندگی اس کے اثر میں رہ سکتے ہیں اور ان کی طویل مدتی دل کی صحت دل کے دورے میں بچ جانے والے افراد جیسی ہی ہوتی ہے۔‘
یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا اور برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کیے گئے سرمائے کی مدد سے کیا گیا۔ تجربے کی تفصیل میڈرڈ میں یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانگریس میں پیش کی گئی، جو دل کے بارے میں دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تجربے سے معلوم ہوا کہ خیالات اور رویے میں بہتری کے لیے علاج اور دل کی بحالی کے لیے ورزش کا پروگرام ٹاکوٹسوبو سنڈروم کے مریضوں میں جسمانی بہتری کا سبب بنا۔
ڈاکٹر گیمبل نے کہا: ’یہ نتائج اس امر کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ ’دماغ اور دل کے درمیان تعلق‘ کی کتنی اہمیت ہے۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خیالات اور رویے میں بہتری کے لیے علاج یا ورزش مریضوں کو صحت یابی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔‘
اس تجربے کے لیے 76 ایسے مریضوں کو خیالات اور رویے میں بہتری کے لیے کسی ترتیب کے بغیر منتخب کیا گیا، جن میں ٹاکوٹسوبو سنڈروم کی تصدیق ہو چکی تھی۔ خیالات اور رویے میں بہتری لانے کے لیے علاج ورزش پر مشتمل پروگرام یا معیاری نگہداشت ہے۔
ورزش پروگرام کا حصہ بننے والے مریضوں کو مختلف قسم کی ورزش کرنے کی ہدایت کی گئی، جس میں 12 ہفتے تک سائیکل چلانا، دوڑنا اور تیراکی کرنا شامل ہے۔
ٹرائل ختم ہونے تک ورزش کے پروگرام میں شامل مریض چھ منٹ میں اوسطاً 528 میٹر چلنے کے قابل ہو گئے۔ وہ پہلے اوسطاً 457 میٹر چلتے تھے۔ ان کی آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت میں بھی 18 فیصد بہتری آئی۔
خیالات اور رویے میں بہتری کے لیے علاج کروانے والے مریضوں میں بھی ملتے جلتے نتائج دیکھے گئے۔ ایسے افراد چھ منٹ میں 458 میٹر چلنے کے قابل ہو گئے۔ وہ پہلے 402 میٹر چلتے تھے۔ ان کی آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔
معیاری نگہداشت حاصل کرنے والے مریضوں میں دل کی صحت میں بہت کم بہتری دیکھنے میں آئی۔
یہ بیماری پہلی بار 1990 کی دہائی کے آخر میں دریافت ہوئی اور اسے دل کے کم از کم سات فیصد دوروں کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی کلینیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سونیا بابو نرائن کے مطابق: ’ٹاکوٹسوبو سنڈروم ایک تباہ کن بیماری ہو سکتی ہے، جو کسی بڑے واقعے کے بعد آپ کو بہت نازک وقت پر متاثر کر سکتی ہے۔
’لوگ شاید اس بات پر اتنے حیران نہ ہوں کہ ورزش کا پروگرام دل کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا، لیکن یہ دلچسپ امر ہے کہ اس تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ خیالات اور رویے میں بہتری کے لیے علاج نے دل کے کام کرنے کی صلاحیت اور مریضوں کی فٹنس میں بہتری پیدا کی۔‘