پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 36 گھنٹوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھا کہ سلال ڈیم کے متعدد گیٹ کھول دیے گئے ہیں اور دریائے چناب میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح پر وارننگ جاری کی گئی ہے۔
VIDEO | Reasi, J&K: Several gates of Salal Dam opened; warning issued amid rising water level of Chenab River.
— Press Trust of India (@PTI_News) August 31, 2025
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/gxnzP6wKgM
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق انڈیا کی جانب سے سلال ڈیم کے سپل ویز کھولے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے دریائے چناب میں پانی چھوڑنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وارننگ نہیں دی۔
’آئندہ دو روز میں بڑا سیلابی ریلا ہیڈ مرالہ کے مقام تک پہنچ سکتا ہے جس سے دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کے مطابق تمام ادارے موجودہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر فیلڈ میں کام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
صوبے کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ’یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے۔ اس سیلاب سے 20 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں دریا — ستلج، چناب اور راوی — اتنی بلند سطح پر بہہ رہے ہیں۔‘
’چھ لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقام پر منتقل‘
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ خلیج بنگال پر موجود کم دباؤ والا سسٹم آئندہ چند روز میں کشمیر اور ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا باعث بنے گا۔
این ڈی ایم اے کے سربراہ لفٹینیٹ جنرل انعام حیدر نے آج ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک چھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی ادارے صورت حال سے نمٹنے کے لیے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور عوام کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جدید نظام کے تحت 10 ماہ کی 95 فیصد موسمیاتی پیش گوئی ممکن ہو چکی ہے جس سے مستقبل میں بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
عالمی حدت نے اس سال پاکستان میں مون سون کی بارشوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جو ان ممالک میں سے ایک ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں موسلادھار بارشوں نے شمالی اور شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا ہے۔
پنجاب کے رہائشیوں کو بھی غیر معمولی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ساتھ ہی انڈیا کی جانب سے دریاؤں اور بھرے ہوئے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کے نشیبی علاقوں میں سیلاب آیا ہے۔
پاکستان کے قومی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب نے یکم جولائی سے 27 اگست کے درمیان مون سون کی بارشیں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26.5 فیصد زیادہ ریکارڈ کیں۔
ملک کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، 26 جون سے اب تک بارش سے متعلقہ حادثات میں ملک بھر میں 849 افراد جان سے گئے اور 1,130 زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستان کا مون سون کا موسم عام طور پر ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔