سیلابوں کا حل صرف ڈیم ہی ہیں؟

حالیہ برسوں میں اس پیٹرن کے واضح اثرات نظر آئے۔ 2023 کے اواخر میں ایل نینو برقرار رہا تو پی ایم ڈی کے مطابق دسمبر غیر معمولی گرم اور جنوری 2024 کم بارش والا رہا، جس سے شمالی علاقوں میں برف کی تہہ کم بنی۔

31 اگست، 2020 کو اسلام آباد میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث سپل وے کھولے جانے کے بعد لوگ راول ڈیم کا منظر دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے صوبہ پنجاب سے گزرنے والے دریائے چناب، روای اور ستلج میں سیلاب مختلف علاقوں میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے اب تک کم از کم 30 افراد کی اموات ہوئی ہیں جبکہ 15 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق تینوں دریاؤں میں سیلاب مختلف ہیڈ ورکس اور بیراجز سے گزرتے ہوئے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1988 کے بعد ان تینوں دریاؤں میں آنے والی سب سے بڑی طغیانی ہے۔

دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے گجرات، جھنگ اور چنیوٹ اور دیگر اضلاع میں نقصان ہوا ہے تو وہیں دریائے راوی نے لاہور شہر اور اس کے مضافات میں تباہی مچائی ہے۔ اب سندھ اس پانی کے انتظار میں ہے۔

کئی ذہنوں میں سوال ہے کہ کیا اتنی بارشیں اور سیلاب موسمی تبدیلی کے باعث ’نیا معمول‘ ہے؟ اور کیا اس سے نمٹنے کے لیے ڈیمز بنانے ناگزیر ہو چکے ہیں جیسے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے؟ لیکن ڈیمز بنانے کی تجویز کا کئی بار ذکر ہو چکا ہے اور ہر بار اس کی مخالفت میں آوازیں اتنی بلند ہوتی ہیں کہ اس تجویز کو دوبارہ فائلوں ہی میں دبا دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بحث کم ہوتے ہوئے ختم ہو جاتی ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں ڈیمز کو سیلابی خطرات سے نمٹنے کے ایک مؤثر طریقے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

پنجاب میں تجویز کردہ کالا باغ ڈیم، جس کا منصوبہ 1953 میں بنایا گیا تھا لیکن اب تک تعطل کا شکار ہے، کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیم مکمل ہونے کے بعد دریائے سندھ میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہوگا۔

اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بھی یہی دلیل دی گئی، جس کی تعمیر جولائی 2020 میں چار دہائیوں سے زائد کی منصوبہ بندی کے بعد شروع ہوئی۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر بڑے ڈیمز کی تعمیر پر بحث کو جنم دیا۔

ڈیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں بلکہ آبپاشی اور پن بجلی کے لیے پانی ذخیرہ کر کے ملک کو سہارا دے سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ ڈیمز کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی تازہ ترین قومی ماحولیاتی پالیسی  میں پن بجلی کو توانائی کے متبادل ذرائع کی منتقلی کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے تاکہ سستی اور مؤثر توانائی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈیم واقعی سیلابی خطرات کا ایک پائیدار اور سب کے لیے قابلِ قبول حل ہو سکتے ہیں؟ یا پھر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیلابی بحران سے نمٹنے کے لیے ایسے متبادل راستوں پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے جو زیادہ مؤثر اور کم متنازع ہوں؟

کئی ماہرین کے مطابق ہمیں صرف ڈیمز سے آگے بڑھ کر دیگر حل تلاش کرنے چاہییں۔ ان میں برطانوی دور کے پرانے آبپاشی اور نکاسی آب کے نظام کو اپ گریڈ کرنا، تعمیرات کے لیے کم خطرناک علاقوں میں رہائش کو فروغ دینا، اور اداروں میں شفافیت و احتساب کے لیے انسدادِ بدعنوانی اقدامات شامل ہیں تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو۔

سیلاب نے عالمی برادری، خاص طور پر صنعتی ممالک، پر بھی زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اقدامات تیز کریں اور نقصان و تلافی کے وعدوں پر عمل کریں، خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان عالمی سطح پر کل اخراج کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شرم الشیخ، مصر میں ہونے والی COP27 کانفرنس میں پاکستان کے سیلاب اس بحث کا پس منظر بنے، جہاں پاکستان نے G77 اور چین کے گروپ کی قیادت کرتے ہوئے نقصانات و تلافی کے موضوع پر مذاکرات آگے بڑھائے۔

موجودہ سیلابی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماحولیاتی بحران کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے واقعات مستقبل میں زیادہ بار بار اور غیر متوقع انداز میں پیش آ سکتے ہیں۔ ڈیم بلاشبہ ایک آپشن ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقی اور پائیدار حل شاید دیگر شکلوں میں ہوں، جن میں عالمی برادری کو پاکستان کی مدد کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

بارشوں نے ایک بار پھر پاکستان کے بڑے حصے کو متاثر کیا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان سے کتنا نقصان ہوا ہے اس کا تخمینہ ابھی لگانا بہت مشکل ہے لیکن لاکھوں افراد کے متاثر ہونے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نقصان کافی ہوا ہے اور ایک بار جب یہ پانی سندھ سے گزرتا ہوا سمندر میں جائے گا تو اس کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ نقصان کتنا ہوا ہے۔

لیکن اس حوالے سے دو رائے نہیں ہیں کہ پاکستان کی ہیلتھ کا شعبہ جو پہلے ہی اتنا مضبوط نہیں ہے اور سیلاب کے باعث بیماریاں پھیلنے کا قوی امکان ہے۔ دوسری جانب فوڈ سکیورٹی کو لے کر کافی تشویش پائی جا رہی ہے اور سپلائی چین کے متاثر ہونے سے قیمتوں میں اضافہ بھی عین ممکن ہے۔

ماہرین نے گذشتہ دو تین سالوں سے معمول سے زیادہ بارشوں کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کی ایک وجہ لا نینا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برس میں بحر الکاہل پر ’لا نینیا‘ کے ہوتے ہوئے سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ لا نینیا وہ موسمی رجحان ہے جو موسم پر ٹھنڈک کے اثرات مرتب کرتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار سال سے سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مارچ کے وسط میں عالمی سمندری سطح کا درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ لیکن سائنس دان صرف اس بات سے پریشان نہیں بلکہ وہ پریشان ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا جب موسم سرما میں ’ال نینیو‘ عالمی سطح پر موسم پر اثر انداز ہو گا۔

ال نینیو وہ موسمی رجحان ہے جو موسم میں گرمی پیدا کرتا ہے اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ال نینیو کے باعث شدید گرمی، خطرناک سائیکلون وغیرہ آ سکتے ہیں۔ برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکیف کا کہنا ہے کہ لا نینیا کے ہوتے ہوئے بھی گذشتہ تین سالوں میں گرمی کی شدت نے ریکارڈ توڑے ہیں۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق اکیسویں صدی کا پہلا ’ٹرپل ڈپ‘ لا نینیا گذشتہ تین سال سے اثر انداز ہے اور 55 فیصد امکانات ہیں کہ اپریل میں نہ تو لانینیا ہو گا اور نہ ہی ال نینیو۔ 1950 سے یہ تیسری بار ہے کہ ’ٹرپل ڈپ‘ لا نینیا اثر انداز ہو رہا ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے اہم کڑی مون سون ہے۔ محکمۂ موسمیاتِ پاکستان اور متعدد تحقیقی مطالعات کے مطابق ایل نینو عموماً جولائی تا ستمبر کے موسمِ برسات کو کمزور کرتا ہے: بارشیں اوسط سے کم، وقفے لمبے، اور آغاز تاخیر سے ہو سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر زراعت، پانی کے ذخائر اور شہری پانی کی فراہمی پر پڑتا ہے۔ ماضی میں 1998 کے طاقتور ایل نینو کے بعد کے برسوں میں ملک نے بدترین خشکی دیکھی، جس سے دریائے سندھ کے بالائی حصّوں میں بہاؤ اور کھیتی باڑی متاثر ہوئی۔

حالیہ برسوں میں اس پیٹرن کے واضح اثرات نظر آئے۔ 2023 کے اواخر میں ایل نینو برقرار رہا تو پی ایم ڈی کے مطابق دسمبر غیر معمولی گرم اور جنوری 2024 کم بارش والا رہا، جس سے شمالی علاقوں میں برف کی تہہ کم بنی۔

نتیجتاً گرمیوں کی آبپاشی کے لیے برف پگھلا کر آنے والا پانی کم ہونے کا خطرہ بڑھا۔

مئی 2024 میں ملک کے میدانی حصوں خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب میں شدید ہیٹ ویو چھا گئی اور چند مقامات پر درجہ حرارت 50 سے 52 سینٹی گریڈ تک گیا، اور اسی ماہ بارش کی مقدار ملک بھر میں اوسط سے کہیں کم رہی۔

یہ سب اس بڑے پس منظر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایل نینو عالمی گرمائش کے ساتھ مل کر پاکستان کی گرمیوں کو زیادہ سخت اور خشک بنا دیتا ہے۔

تاہم سردیوں اور بہار میں تصویر کچھ پیچیدہ ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ایل نینو کے دوران جنوب مغربی ایشیا میں خزاں، سرما اور بہار کے مہینوں میں شدید بارش کے واقعات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں یعنی مغربی ہوا کے سلسلے کبھی کبھار معمول سے زیادہ نمی لا سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف گرمیوں کا مون سون کمزور ہو، تو دوسری طرف غیر موسمی یا مختصر مگر تیز بارشیں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔

اس لیے پاکستان کے لیے موسمیاتی خدمات، قبل از وقت وارننگ، پانی کے ذخائر کا محتاط انتظام، گرمی سے بچاؤ کی شہری منصوبہ بندی اور فصلوں کے شیڈول میں لچک اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

لیکن صرف ال نینو ہی کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ پاکستان میں جاری جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں کے راستے میں ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنا دینا اور شہروں کی غلط منصوبہ بندی یہ سب بھی سیلاب کی وجوہات میں شامل ہیں۔

موسمی تبدیلی کے پیش نظر اقدامات لینے کا وقت تو بہت پہلے ہی آ چکا ہے لیکن اب وقت ہے کہ ہنگامی بنیادی پر اقدامات لیے جائیں اور سنجیدگی سے عملدرامد کیا جائے کیونکہ دنیا بھر میں امداد دینے کی ریت کم ہوتی جا رہی ہے اور جو بھی کرنا ہے ہم نے خود ہی کرنا ہے اور جلد کرنا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ