وزیر اعظم کا غزہ فلوٹیلا میں شریک پاکستانیوں کی واپسی کا مطالبہ

شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی اور بلا تعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنے شہریوں کی واپسی کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے کشتیوں کے قافلے’صمود غزہ فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے آج ایکس پر تقریباً ڈیڑھ درجن گرفتار لوگوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جس میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔

منتظمین نے لکھا ’صہیونی حملہ آوروں نے بین الاقوامی پانیوں میں امن کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ’میں صمود غزہ فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔

’مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب، اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ اقدام پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں، انصاف کے لیے جدوجہد، اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔

’حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی، اور بلا تعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنے شہریوں کی واپسی کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے اور ان کی سلامتی، وقار اور جلد از جلد وطن واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔‘

اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں فلوٹیلا کے روکے جانے کو جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں تک امداد کی بلاتعطل ترسیل کا مطالبہ کیا۔

بیان کے مطابق ’یہ قابلِ مذمت اقدام اسرائیل کی جارحیت کے تسلسل اور غزہ کی غیرقانونی ناکہ بندی کا حصہ ہے، جس نے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے شدید انسانی مصائب اور محرومیوں کو جنم دیا ہے۔‘

تقریباً 45 کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا، جن پر مشتاق احمد اور سویڈن کی ماحولیاتی مہم چلانے والی گریٹا تھنبرگ بھی سوار ہیں، گذشتہ ماہ سپین سے روانہ ہوا تھا تاکہ فلسطینی علاقے کی مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی توڑی جا سکے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق قحط پڑ چکا ہے۔

شہباز شریف کی مذمت

اس سے قبل ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا ’اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا۔

’ان بے لوث کارکنان کا واحد ’جرم‘ یہ تھا کہ وہ بے کس اور مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔‘

وزیر اعظم نے مزید لکھا ’پاکستان ان تمام کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بلا تعطل ترسیل کا مطالبہ کرتا ہے۔

’اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکنا اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا ہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔‘

اسرائیلی فوج فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں پر بدھ کو سوار ہو کر انہیں ایک اسرائیلی بندرگاہ پر لے گئی تھی۔

روئٹرز کی طرف سے تصدیق شدہ اسرائیلی وزارت خارجہ کی ایک ویڈیو میں، فلوٹیلا کی سب سے نمایاں مسافر گریٹا تھنبرگ، فوجیوں کے گھیرے میں ڈیک پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایکس پر لکھا ’حماس-صمود فلوٹیلا کی کئی کشتیوں کو بحفاظت روکا گیا ہے اور ان کے مسافروں کو ایک اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘

مزید کہا گیا ’گریٹا اور ان کے دوست محفوظ اور صحت مند ہیں۔‘

فلوٹیلا کے منتظمین نے اس کارروائی کو ’جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی فوج نے جارحانہ ہتھکنڈے استعمال کیے، جن میں پانی کی توپوں کا استعمال شامل تھا، لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

منتظمین نے ایک بیان میں کہا ’متعدد بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی قابض افواج نے غیر قانونی طور پر روکا اور ان پر سوار ہو گئے۔‘

فلوٹیلا نے اسرائیلی بحریہ پر ’ماریا کرسٹینا‘ نامی کشتی کو ڈبونے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا۔

روئٹرز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا جبکہ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس دعوے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے ٹیلی گرام پر مختلف کشتیوں میں سوار افراد کے پیغامات کے ساتھ کئی ویڈیوز جاری کیں، جن میں سے کچھ نے اپنے پاسپورٹ پکڑے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف اغوا کر کے اسرائیل لے جایا گیا۔

جب کشتیوں کو روکا گیا تو وہ متاثرہ علاقے سے تقریباً 70 سمندری میل دور تھیں۔ یہ ایک ایسے زون ہے، جہاں اسرائیل کسی بھی کشتی کو قریب آنے سے روکنے کے لیے نگرانی کرتا ہے۔

اس فلوٹیلا کی سکیورٹی کے لیے ترکی، سپین اور اٹلی سمیت ممالک نے کشتیاں اور ڈرون بھیجے تھے جبکہ اسرائیل کی طرف سے بار بار پیچھے ہٹنے کی وارننگز بھی جاری کی گئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان