غزہ کی رہائشی منال السعدنی گوند اور بلیڈ کی مدد سے پھٹے پرانے کرنسی نوٹوں کی مرمت کا کام کرتی ہیں۔ یہ کام ایک ضرورت بن چکی ہے کیوں کہ وہاں زیر گردش نقد رقم بوسیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ہر مرمت شدہ نوٹ جو وہ گاہک کو واپس کرتی ہیں، اس کے بدلے وہ انہیں چند سکے دیتا ہے۔
اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں کے دوران غزہ کے زیادہ تر وقت محاصرے میں رہنے کی وجہ سے علاقے میں کرنسی نوٹوں سمیت بنیادی اشیا کی قلت ہو چکی ہے اور بینکوں کو نئے نوٹ فراہم نہیں کیے گئے۔
منال السعدنی ہر روز اپنی پلاسٹک کی چھوٹی میز البریج کے پناہ گزین کیمپ سے چند کلومیٹر دور لے کر جاتی ہیں اور اسے وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ کے بازار میں رکھتی ہیں۔
لوگ بڑی تعداد میں ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں اپنے اسرائیلی شیکل کے نوٹوں کے مسائل دکھاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میں نے کام کرنے کا فیصلہ کیا اور نوٹوں کی مرمت شروع کر دی۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول منال: ’چوں کہ میں ایک خاتون ہوں۔ گلی میں زیادہ تر لوگوں نے میرا ساتھ دیا اور میری مدد کی۔ وہ میرے پاس 20 شیکل کے نوٹ لاتے اور مجھے کہتے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ اسے ایک یا دو شیکل لے کر ٹھیک کر دیں۔ میں یہ پیشکش قبول کر لیتی ہوں اور اس کے لیے خدا کا شکر ہے۔‘
شیشے کی ایک موٹی شیٹ پر کام کرتے ہوئے، وہ کاغذ پر گوند لگانے کے لیے بلیڈ استعمال کرتی ہیں اور گوند کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے سطح پر ہموار کرتی ہیں۔
منال السعدنی نوٹوں کو روشنی کے سامنے کر کے ان کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیتی ہیں اور اپنا کام دیکھتی ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ وہ اس کی بجائے گھر پر اپنی بیٹیوں کے پاس ہوتیں۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: ’میری طرف ہمدردی اور رحم کی نظر سے دیکھیں اور مجھے ایک فلسطینی ماں کے طور پر سمجھیں۔
’میں بہت تھک چکی ہوں‘۔
نقدی کا بحران
نیا اسرائیلی شیکل تمام فلسطینی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک شیکل کی مالیت 0.30 ڈالر ہے۔
بینک آف اسرائیل کے پہلے ’سیریز سی‘ نوٹ 2014 میں گردش میں آئے۔ ان پر ممتاز عبرانی شعرا کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ 20 شیکل کا نوٹ سرخ، 50 کا سبز، 100 کا نارنجی اور 200 کا نیلے رنگ کا ہے۔
منال السعدنی نوٹوں کی ظاہری شکل کو بہتر بنانے کے لیے ان پر دوبارہ رنگ لگاتی ہیں۔
انہوں نے ایک گاہک کو 20 شیکل کے دو نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا: ’جائیں اور اس سے کچھ بسکٹ خرید لیں۔‘
ان کی گاہکوں میں سے ایک نبیلہ شنار نے وضاحت کی کہ کس طرح پھٹے پرانے نوٹوں نے لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’زیادہ تر کرنسی خراب ہو چکی ہے۔‘
نبیلہ کے مطابق: ’اگر ہم اس رقم سے کسی بھی کریانہ سٹور سے کچھ خریدنے کی کوشش کریں تو وہ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ خراب ہے اور قابل استعمال نہیں ہے۔
’اس لیے ہمیں ان لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے جو پیسوں کی مرمت کرتے ہیں اور وہ 20 شیکل کے نوٹ کے لیے دو شیکل اور 50 شیکل کے نوٹ کے لیے تین شیکل لیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’انہیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے اور ہمیں رقم فراہم کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنی زندگی بسر کر سکیں اور اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکیں، لیکن ان خراب نوٹوں کی وجہ سے ہم کچھ بھی نہیں خرید سکتے۔‘