پاکستان کی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں 24 فلسطینی جان سے گئے اور 54 زخمی ہو گئے۔

پاکستان نے اتوار کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں 24 فلسطینی جان سے گئے اور 54 زخمی ہو گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں میں کہا ’ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور حال ہی میں شرم الشیخ میں طے پانے والے امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’یہ حملے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

بیان میں حکومت پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکے اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قوانین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

’پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

اسرائیلی فوج نے ہفتے کو غزہ میں مزید فضائی حملے کیے جن میں، صحت کے حکام کے مطابق، بچوں سمیت مزید 24 افراد جان سے گئے جب کہ 54 زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے 10 اکتوبر کو ہونے والی فائربندی کی تازہ ترین خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر کا دعویٰ ہے کہ تازہ حملوں میں فلسطینی تنظیم حماس کے پانچ سینیئر ارکان مارے گئے۔ 

اسرائیل نے کہا کہ یہ حملے اس کے فوجیوں پر فائرنگ کے جواب میں تھے، جو غزہ پر اس بین الاقوامی پیش رفت کے بعد ہوئے جب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پیر کو اس علاقے کو محفوظ بنانے اور اس کا انتظام چلانے کے لیے امریکی خاکے کی منظوری دی۔

 یہ خاکہ سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کو اختیار اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر نگرانی ایک عبوری اتھارٹی کی منظوری دیتا ہے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے مستقبل کے ایک ممکنہ راستے کا تصور پیش کرتا ہے۔

اسرائیل اس سے قبل بھی فائر بندی کے دوران اپنی افواج پر مبینہ حملوں کے بعد اسی طرح کے حملے کر چکا ہے۔

غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کو 12 گھنٹے کے دوران کم از کم 33 فلسطینیوں کی جان گئی جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

فائربندی کی نازک صورت حال

شفا ہسپتال کے، جہاں مرنے والوں اور زخمیوں کو لے جایا گیا، مینیجنگ ڈائریکٹر رامی محنا نے بتایا کہ ہفتے کے حملوں میں سے ایک نے غزہ شہر کے رمال محلے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں 11 فلسطینی جان سے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ زخمیوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ویڈیو میں بچوں اور دیگر افراد کو تباہ حال گاڑی کو دکھایا گیا جس کی چھت اڑ گئی تھی۔

ہسپتال کے مطابق وسطی غزہ میں العودہ ہسپتال کے قریب ایک گھر کو نشانہ بنانے والے حملے میں کم از کم تین افراد جان سے گئے اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔

ہسپتال نے بتایا کہ وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ میں ایک گھر پر حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کی جان گئی اور 16 دیگر زخمی ہوئے۔

الاقصیٰ ہسپتال کے مطابق وسطی غزہ کے دیر البلح میں ایک گھر کو نشانہ بنانے والے ایک اور حملے میں ایک خاتون سمیت تین افراد جان سے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیر البلح میں خلیل ابو حطب نامہ شہری نے کہا ’اچانک، میں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ میں نے باہر دیکھا تو دھواں پورے علاقے پر چھایا ہوا تھا۔

’مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اپنے کان ڈھانپ لیے اور خیمے میں موجود دوسروں کو بھاگنے کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔

’جب میں نے دوبارہ دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے پڑوسی کے گھر کی بالائی منزل تباہ ہو چکی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ ایک نازک جنگ بندی ہے۔ یہ کوئی ایسی زندگی نہیں جو ہم گزار سکیں۔ کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔‘

فائر بندی کے تحت کچھ علاقوں سے انخلا کے بعد اسرائیلی افواج غزہ کے نصف سے کچھ زیادہ حصے میں موجود ہیں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے ایک سینیئر رکن، عزت الرشق نے ایک بیان میں اسرائیل پر ’(فائر بندی) معاہدے سے نکلنے اور نسل کشی کی جنگ کی طرف لوٹنے کے لیے بہانے گھڑنے‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ حماس نے امریکہ اور دیگر ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مجبور کریں۔

حماس کے بیان میں نتن یاہو کے دفتر کے پانچ سینیئر ارکان کی موت کے دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا