آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟

ملک کے پہلے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ شہری اور دیہی زندگی میں فرق بھی بڑھا رہی ہے۔

17 فروری، 2019 کو لاہور میں ایک خاتون سڑک کنارے بیٹھی سیب کھا رہی ہیں (اے ایف پی)

نئے سال کے آغاز پر حکومت نے ملک کا پہلا ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 25-2024 جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سروے ’جامع ترقی‘ کی تصویر پیش کرتی ہے لیکن جب ہم خود ان اعداد و شمار کو غور سے دیکھتے ہیں تو ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم ترقی کی طرف نہیں بلکہ مشکلات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ خوش آئند بات ضرور ہے کہ سروے تکنیکی طور پر بہتر طریقے سے کیا گیا اور ملک بھر کے تقریباً 32 ہزار گھرانوں کو اس میں شامل کیا گیا۔

اس سے ہمیں ایک درست تصویر مل سکتی ہے۔ سروے کے مطابق مایوسی کے اندھیروں میں یہ چند روشن نقطے دل کو سہارا دے سکتے ہیں۔ شرحِ خواندگی میں تین فیصد اضافہ، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب انٹرنیٹ صرف چند لوگوں کی سہولت نہیں رہا، گھریلو سطح پر اس کی رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی کی زندگی واقعی بہتر ہوئی؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

سروے کے مطابق 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان اوسط گھریلو آمدن تقریباً دوگنی ہو کر41 ہزار 541 روپے سے 82 ہزار 179 روپے تک پہنچ گئی مگر اسی مدت میں گھریلو اخراجات اس سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھے، اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا اور ایک اوسط گھرانے کا ماہانہ خرچ 37 ہزار 159روپے سے بڑھ کر 79 ہزار150 روپے ہو گیا۔

یعنی گذشتہ چھ برس میں اوسط گھریلو آمدن تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ بظاہر یہ خوشی کی بات لگتی ہے، مگر جب ہم اخراجات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خرچے آمدن سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھے ہیں۔ یعنی جو پیسہ آیا، وہ مہنگائی نے چھین لیا۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو آج کا پاکستانی پہلے سے زیادہ کماتا ضرور ہے، مگر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچتا۔

سب سے زیادہ ضرب نچلے طبقے کو لگی ہے، جن کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ حقیقی آمدن کا مطلب آمدن کا وہ حصہ ہے جو مہنگائی کو نکال کر بچتا ہے۔ حقیقی آمدن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی خریداری کی طاقت کتنی ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق ’19-2018 میں ایک اوسط غریب شہری گھرانہ تقریباً 24 ہزار 365 روپے حقیقی آمدن کماتا تھا مگر 25-2024 میں وہی گھرانہ، پچھلے سالوں کی قیمتوں کے مطابق، صرف 18 ہزار 820 روپے کما پاتا ہے۔ اسی عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔‘

یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ جدوجہد کی کہانی ہے، یعنی غربت نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ شہری اور دیہی زندگی میں فرق بھی بڑھا رہی ہے۔

سروے کے مطابق لوگ اپنی آمدن کا بڑا حصہ صرف کھانے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں مگر اس کے باوجود خوراک استعمال کرنے کی مقدار کم ہو گئی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہر اس دسترخوان کی کہانی ہے جو دن بدن چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ 19-2018 میں ایک پاکستانی شہری اوسطاً چھ کلو سے زیادہ گندم استعمال کرتا تھا، مگر آج وہی مقدار گھٹ کر پانچ کلو سے بھی کم رہ گئی ہے۔

چاول، دالیں، دودھ، گوشت، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے، وہ سب چیزیں جو کبھی عام گھر کی پہچان تھیں، اب آہستہ آہستہ فہرست ضرورت سے نکلتی جا رہی ہیں۔

یہ کمی صرف شہروں تک محدود نہیں، دیہات کے گھروں میں بھی چولہا پہلے سے زیادہ خاموش ہے۔ مہنگائی نے لوگوں سے صرف آسائشیں نہیں چھینیں، اب تو بنیادی خوراک بھی قربانی بن رہی ہے۔ اس اداس تصویر میں بس ٹماٹر اور کوکنگ آئل ہی ایسے ہیں جو اس گراوٹ سے بچے ہوئے نظر آتے ہیں، ورنہ عام آدمی کی پلیٹ ہر دن تھوڑی اور خالی ہو رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تعلیم پر خرچ کم ہو رہا ہے۔ تعلیم پر خرچ کم ہونا محض ایک معاشی فیصلہ نہیں، یہ ایک پورے مستقبل کی قیمت چکانے کے مترادف ہے۔ چھ سال پہلے قومی وسائل کا تقریباً چار فیصد حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا تھا، آج وہی حصہ سکڑ کر ڈھائی فیصد تک رہ گیا ہے۔

یہ کمی ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ جب گھر میں روٹی پوری نہ ہو تو سب سے پہلے کتاب پیچھے رہ جاتی ہے۔ ماں باپ کی مجبوری، بچوں کے خوابوں پر بھاری پڑ جاتی ہے اور یوں غربت صرف آج نہیں، آنے والے کل کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔

صحت پر خرچ مجبوری میں کیا جا رہا ہے، لیکن وہ بھی ناکافی ہے۔ سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ ’اگرچہ بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 سے 73 فیصد تک پہنچنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے، مگر اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے۔ آج بھی ملک کے 27 فیصد بچے ایسے ہیں جو بیماریوں کے خلاف مکمل تحفظ سے محروم ہیں۔ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں آج بھی 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے ایسے ہیں جو مکمل حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہیں۔‘

یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ یہ لاکھوں معصوم چہروں کی کہانی ہے جن کی صحت اب بھی خطرے میں ہے۔ معمولی کامیابی پر خوش ہوا جا سکتا ہے، لیکن تب تک مطمئن نہیں ہوا جا سکتا جب تک ہر بچہ محفوظ نہ ہو جائے۔ یہ ہدف مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ آمدن میں اضافے کے ساتھ اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جو صرف آج کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ