پی ایس ایل 11: پہلی بار ڈرافٹ سسٹم کے بجائے آکشن ماڈل متعارف

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے پلیئر آکشن 11 فروری کو منعقد کی جائے گی۔

لاہور میں 25 جنوری، 2026 کو چیئرمین محسن نقوی کی صدارت میں ایک تفصیلی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں تمام آٹھ فرنچائزز کے نمائندوں، پی ایس ایل حکام اور قومی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں نے شرکت کی (پی ایس ایل/ایکس)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتوار کو  پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے 11 فروری کو پلیئر آکشن کرانے کا اعلان کر دیا ہے جس میں پہلی بار ڈرافٹ سسٹم کے بجائے آکشن ماڈل اپنایا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لیے پلیئر آکشن 11 فروری کو منعقد کی جائے گی۔

قذافی سٹیڈیم لاہور میں چیئرمین محسن نقوی کی صدارت میں ایک تفصیلی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں تمام آٹھ فرنچائزز کے نمائندوں، پی ایس ایل حکام اور قومی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران فرنچائزز کو کھلاڑیوں کی ریٹینشن اور آکشن کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی اور ان سے مشاورت کی گئی۔ بعد ازاں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئر آکشن 11 فروری کو ہوگی۔

پی سی بی نے بتایا کہ کھلاڑیوں کی بنیادی قیمتیں اور بولی میں اضافے کی کم از کم حد پاکستانی روپے میں ہوگی۔ کیٹیگری کی بنیادی قیمتیں چار کروڑ 20 لاکھ روپے، دو کروڑ 20 لاکھ روپے، ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہیں۔

فرنچائزز کو ان حدود سے زیادہ بولی لگانے کی بھی اجازت ہوگی۔

پی سی بی کے مطابق ہر فرنچائز کا سکواڈ کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا، جن میں پانچ سے سات غیر ملکی کھلاڑی شامل ہو سکیں گے۔

پلیئنگ الیون میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار غیر ملکی کھلاڑی رکھنا لازم ہوگا۔

مزید بتایا گیا کہ ہر ٹیم کو سکواڈ میں کم از کم دو انڈر 23 ان کیپڈ کھلاڑی شامل کرنا ہوں گے، جبکہ پلیئنگ الیون میں ایک ایسے کھلاڑی کی موجودگی لازمی ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ کے مطابق آکشن یا ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں کو دو سالہ معاہدے پر رکھا جائے گا۔ پی ایس ایل 12 کے لیے فرنچائزز زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑی برقرار رکھ سکیں گی جبکہ اس کے بعد گرینڈ آکشن ہوگا جس میں پانچ کھلاڑی ریٹین کرنے کی اجازت ہوگی۔

پی سی بی نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر فرنچائز ایک غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کر سکے گی، جو گزشتہ سیزن میں شامل نہ ہو۔

ٹیموں کے لیے 45 کروڑ روپے کی مالی حد کو بڑھا کر 50 کروڑ 50 لاکھ روپے تک کیا جا سکے گا جبکہ بورڈ مہنگے غیر ملکی کھلاڑیوں کے حصول میں بھی تعاون کرے گا۔

چیئرمین محسن نقوی نے ڈرافٹ سے آکشن ماڈل کی تبدیلی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کو بہتر مالی مواقع ملیں گے اور لیگ مزید شفاف، مسابقتی اور پرکشش بنے گی۔

واضح رہے کہ آئندہ پی ایس ایل میں دو نئی فرنچائزز، حیدرآباد اور سیالکوٹ، کو شامل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ٹیموں کی تعداد آٹھ ہو جائے گی۔ پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے تین مئی 2026 تک کھیلا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ