وزن کم کرنے کے لیے لگائے جانے والے ٹیکے نہ صرف لوگوں کی جسمانی ساخت کو تبدیل کر رہے ہیں بلکہ ان کی رقم خرچ کرنے کی عادتوں کو بھی بدل رہے ہیں۔
اندازے کے مطابق اس وقت برطانیہ میں تقریباً 25 لاکھ لوگ یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں۔
یہ دوائیں، جیسے سیماگلوٹائڈ جو ویگووی، ’اوزیمپک اور رائبیلسس کے ناموں سے فروخت ہوتی ہیں اور ٹیرزیپیٹائڈ جو مونجارو کے نام سے فروخت ہوتی ہے، اس قدرتی ہارمون کی نقل کر کے کام کرتی ہیں جو بلڈ شوگر، بھوک اور ہاضمے کو کنٹرول کرتا ہے۔
جو لوگ یہ انجیکشن، جنہیں جی ایل پی ون ریسیپٹر ایگونسٹ بھی کہا جاتا ہے، نجی طور پر خریدتے ہیں وہ برسوں تک ہر ماہ سینکڑوں پاؤنڈ خرچ کر سکتے ہیں۔
لیکن ان ادویات کی مقبولیت میں اضافے کے پیش نظر، ذیل میں ہم ان نئے رجحانات پر نظر ڈالتے ہیں جو سامنے آ رہے ہیں، اور یہ کہ کاروبار کس طرح ایک نئی قسم کے صارف کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔
نپی تلی مقدار اور غذائیت سے بھرپور نئی خوراک
بڑے خوردہ فروشوں میں وزن کم کرنے والے ٹیکے استعمال کرنے والے صارفین کے لیے خاص طور پر نئی رینج متعارف کرانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
آن لائن سپر مارکیٹ اوکاڈو نے وزن پر قابو رکھنے کے لیے نئی ادویات متعارف کرائی ہیں جن میں جی ایل پی ون فرینڈلی پروڈکٹس شامل ہیں جو نپی تلی مقدار میں اور غذائیت سے بھرپور ہیں۔ مثال کے طور سٹیک کا چھوٹا سا ٹکڑا اور پسی ہوئی سبزیوں کے سپلیمنٹ۔
مارکس اینڈ سپینسر، ’ویٹروس‘ اور گریگز پہلے ہی ان ادویات کا استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے مصنوعات کی رینج متعارف کرا چکے ہیں۔ دا کو آپ بھی چھوٹے کھانے فروخت کر رہا ہے جو 250 گرام سے 280 گرام کے ڈبے ہیں اور عالمی کھانوں سے متاثر ہیں۔
باہر کھانا کھانے اور ٹیک اوے میں کمی
مورگن سٹینلے کے ایک سروے میں گذشتہ سال یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں اوزیمپک استعمال کرنے والے 63 فیصد افراد باہر کھانا کھاتے وقت کم خرچ کر رہے تھے، اس لیے نہیں کہ ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے بلکہ اس لیے کیوں کہ وہ پہلے کی طرح کئی ڈشز پر مشتمل کھانا ہضم نہیں کر سکتے تھے۔
64 اولڈ کامپٹن سٹریٹ، 40 ڈین سٹریٹ اور جلد کھلنے والی 27 اولڈ کامپٹن سٹریٹ کے مالک نیما سفائی نے گاہکوں کے رویے میں نمایاں تبدیلی نوٹ کی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’زیادہ تر گاہک صرف مشروبات کے لیے آ رہے ہیں یا مل کر کھانے کے لیے ایک دو سٹارٹرز منگوا رہے ہیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تھری کورس کھانے کم کھائے جا رہے ہیں۔
’کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر لوگوں کو زیادہ بھوک نہیں ہے تو وہ اندر کیوں آتے ہیں؟ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سماجی تجربے اور دوستوں کے ساتھ شام کا لطف اٹھانے کا معاملہ ہے۔‘
اس صورت حال نے مونجارو مینیوز کے رجحان کو جنم دیا ہے، جس میں کچھ مہنگے ریستوران اپنے مینیو میں تبدیلیاں لا رہے ہیں، آدھی پلیٹیں، چھوٹی پلیٹیں، زیادہ غذائیت والے آپشنز اور لگژری بائٹس جیسے کیناپیز، کیویار اور سیپیاں متعارف کرا رہے ہیں، جو ان کھانے والوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں جو مقدار نہیں بلکہ معیار چاہتے ہیں۔
ٹیکے لگوانے والے لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے ٹیک اوے کھانوں کی تعداد کم کر دی ہے، یا انہیں منگوانا بالکل بند کر دیا ہے۔
شراب نوشی سے پرہیز میں اضافہ
صرف کھانے کے آرڈر ہی نہیں کم ہو رہے، بلکہ شراب پر خرچ کی جانے والی رقوم بھی کم ہو رہی ہیں۔ وزن کم کرنے والے ٹیکے استعمال کرنے والے بہت سے لوگ شراب کی طلب میں کمی کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا ضمنی اثر ہے جو ریستورانوں اور بارز میں نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔
نیما سفائی نے بھی اس بات کو نوٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’کچھ مہمان مجموعی طور پر کم پی رہے ہیں، رات کے کھانے سے پہلے کاک ٹیلز چھوڑ رہے ہیں یا سپریٹز یا کم الکحل والی وائن جیسے ہلکے آپشنز کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود، لوگ اب بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، اور دوستوں کے ساتھ پینے کا سماجی پہلو ختم نہیں ہوا، یہ بس بدل رہا ہے۔‘
ریستورانوں کے لیے، یہ صورت حال چند بمشکل چھوئے گئے کھانوں سے زیادہ تشویشناک ہے۔ شراب کی فروخت پیسہ کمانے کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے، جو اکثر کھانے پر ملنے والے کم منافع کو سہارا دیتی ہے۔ مورگن سٹینلے میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے شعبہ مشاورت کے نائب صدر ٹوبی کلارک نے خبردار کیا کہ یہ انڈسٹری کی اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
’ایسا لگتا ہے کہ جی ایل پی ون اس شعبے کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر صارفین کی جانب سے شراب کے استعمال میں کمی کی وسیع رپورٹوں کے پیش نظر۔ شراب بہت سے ریستورانوں میں منافع کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے کھانے اور مشروبات کی آمدنی میں کمی کی صورت میں یہ دوہرا نقصان ہو سکتا ہے۔‘
کم لوگوں کے شراب پینے اور کم لوگوں کے پورا کھانا آرڈر کرنے کے ساتھ، ریستوران ایک ایسے مسئلے کو دیکھ رہے ہیں جسے وہ محض ایک نئے ٹیسٹنگ مینیو کے ساتھ حل نہیں کر سکتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فیشن انڈسٹری پر مثبت اثرات
جہاں کھانے کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے، وہیں فیشن انڈسٹری وزن کم کرنے والے ٹیکوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔
جیسے جیسے لوگوں کا وزن کم ہوگا، انہیں زیادہ کپڑے خریدنے کی ضرورت ہوگی، چاہے وہ نئے ہوں یا سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر، اور وہ ان سائٹس پر اپنے پرانے کپڑے بھی بیچ سکتے ہیں۔
سیویل رو نامی کمپنی کے ایک باس نے کہا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال میں تیزی ملبوسات کی صنعت کے لیے ’بڑے اثرات‘ مرتب کر رہی ہے۔
ٹیلر ’رچرڈ جیمز‘ کے شریک بانی شان ڈکسن نے کہا کہ ان کے کٹرز کو کچھ گاہکوں کے وزن میں تیزی سے کمی کی وجہ سے بڑی تبدیلیاں کرنی پڑ رہی ہیں یا سوٹ مکمل طور پر دوبارہ بنانے پڑ رہے ہیں۔
اضافی خوبصورتی، صحت اور فٹنس کے شعبوں کو بھی فائدہ
حالیہ تعلیمی مطالعات نے ان ادویات کا استعمال کرنے والے افراد کے لیے ورزش اور غذائی مدد کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی تحقیق نے اشارہ دیا کہ چربی کم کرنے والے ٹیکے لگوانے والوں کو وزن دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے مسلسل مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) اور یونیورسٹی آف کیمبرج کے نتائج نے الگ سے تجویز کیا کہ ان ادویات کے صارفین پٹھوں کے نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نیشنل جم چین کے چیف ایگزیکٹیو نے انکشاف کیا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کا عروج ان کے فٹنس سینٹرز میں مانگ بڑھا رہا ہے۔ کم قیمت جم چین ’دی جم گروپ‘ کے سربراہ ول اور نے کہا کہ کمپنی ’یقینی طور پر‘ اپنے کاروبار کے لیے جی ایل پی ون کے اثرات کو ایک سازگار ہوا اور معاون عنصر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
دریں اثنا، ڈاکٹرز پہلے ہی اوزیمپک فیس کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں، جو کہ وزن کم کرنے کے طریقے کے طور پر اور مناسب طبی نگرانی کے بغیر ادویات استعمال کرنے کا ممکنہ ضمنی اثر ہے، کیوں کہ صارفین نے تیزی سے بڑھاپے کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آیا اس ضمنی اثر کو ختم کیا جا سکتا ہے، جلد کے ماہرین نے کہا کہ بغیر سرجری کے ایسا کرنے کا واحد طریقہ فلرز (Fillers) لگانا ہے، جس پر ہزاروں ڈالرز کا خرچ آ سکتا ہے۔
© The Independent