انڈونیشین حکام نے پیر کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا کو فرانس سے تین جدید رفال لڑاکا طیارے موصول ہو گئے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کے تحت پہلی ترسیل ہے۔
جکارتہ میں وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ کھیپ ملک کی دفاعی اثاثوں کی جدت میں بڑی پیش رفت کی علامت ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں فرانس کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار ہونے کے ناطے انڈونیشیا نے داسو ایوی ایشن کی تیار کردہ 42 رفال طیاروں کے علاوہ فرانسیسی بحری جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے آرڈر بھی دے رکھے ہیں۔ یہ اقدامات صدر سبیانتو کی قیادت میں دفاعی شعبے کو جدید بنانے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق ’یہ (رفال) طیارے ہمارے حوالے کر دیے گئے ہیں اور انڈونیشی فضائیہ کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔‘
2022 میں فرانس کے ساتھ آٹھ ارب ڈالر کے معاہدے اور گذشتہ سال اس میں توسیع کے بعد انڈونیشیا کو یہ جدید طیارے موصول ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق تینوں طیارے جمعے کو انڈونیشیا پہنچے اور انہیں سماترا کے مغربی جزیرے پر واقع پیکنبارو کے ایئر بیس پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے دوران مزید تین طیارے پہنچنے کی توقع ہے۔
انڈونیشیا عالمی سطح پر لڑاکا طیاروں کی مارکیٹ میں بڑے خریداروں میں شامل ہے کیونکہ وہ اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔
رفال طیاروں کے ساتھ ساتھ، انڈونیشیا چین کے جے-10 اور امریکہ کے تیار کردہ ایف-15 ای ایکس طیاروں پر بھی غور کر رہا ہے۔
طویل المدتی منصوبوں کے تحت، انڈونیشیا نے ترکی سے 48 کان فائٹر جیٹس خریدنے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے، جو ففتھ جنریشن کے طیارے ہیں اور جنرل الیکٹرک کے ایف-110 انجنوں سے لیس ہیں، جو لاک ہیڈ مارٹن ایف-16 طیاروں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں ماہ کے آغاز میں انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان بھی جے ایف 17 جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز کی ممکنہ خریداری پر بات چیت ہوئی ہے۔
انڈین ایئر فورس نے بھی فرانس سے 36 رفال طیارے خریدے تھے جن میں سے پاکستان نے تین سے چار رفال گذشتہ سال مئی میں ہونے والی جھڑپ میں مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم انڈیا نے تاحال اپنے طیاروں کے نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ جھڑپ میں گرنے والے کم از کم ایک انڈین طیارہ رفال تھا۔
فراسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن نے رفال گرنے پر ابھی تک تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف نے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انڈیا کو فضائی نقصانات اٹھانے پڑے تاہم اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
انڈیا نے اپریل میں فرانس کے ساتھ مزید 26 بحری رفال طیاروں کی خریداری کا بھی معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت سات ارب ڈالر ہے اور ان کی فراہمی 2030 تک متوقع ہے
