نیپال: جعلی ہیلی کاپٹر مہمات کے لیے ہائیکرز کو سوڈا کھلا کر بیمار بنانے والا گروہ بےنقاب

نیپال کے مرکزی تفتیشی بیورو نے بتایا کہ ’32 افراد کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں جبکہ اب تک 10 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

ریسکیو کارکن 20 جنوری 2020 کو کھٹمنڈو سے تقریباً 200 کلومیٹر مغرب میں پوکھارا میں لاپتہ ٹریکرز کی تلاش کے لیے اناپورنا پہاڑی علاقے میں برفانی تودے کی جگہ پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں (پرکاش متھیما/ اے ایف پی)

نیپال پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ پہاڑوں پر جانے والے ٹریکرز کے ریسکیو کی غرض سے جعلی ہیلی کاپٹر مہمات انجام دینے والے 32 افراد پر کروڑوں ڈالر کے انشورنس سکینڈل کے الزام میں فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، دنیا بھر سے ہر سال ہزاروں ٹریکرز نیپال کا رخ کرتے ہیں، جن میں سے بہت سارے دور دراز کی اونچی ٹریکس پر جاتے ہیں، جہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کرنا بہت عام لیکن مہنگا کام ہے۔ 

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ آپریٹرز نے کئی سالوں سے انشورنس کی رقوم کمانے کے لیے دھوکہ دہی سے انخلا کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے کیسز کا پردہ فاش کیا جن میں ایک ہی ریسکیو کے لیے متعدد انشورنس کلیمز دائر کیے گئے، چارٹرڈ فلائٹس کو ہنگامی طور پر انخلا کے طور پر غلط بل دیا گیا اور نجی ہسپتالوں نے من گھڑت طبی رسیدیں جاری کیں۔

نیپال کے مرکزی تفتیشی بیورو (سی آئی بی) کے چیف منوج کمار نے اے ایف پی کو بتایا، ’عدالتی کارروائی جاری ہے۔ 32 افراد کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں۔ اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

پولیس نے جنوری میں پہلی گرفتاریوں کے وقت کہا تھا کہ سکینڈل میں ملوث کمپنیوں نے مبینہ طور پر کم از کم 19.69 ملین ڈالر کا بیمہ کنندگان کو دھوکہ دیاہے۔

چارج شیٹ میں جن لوگوں کا نام اے ایف پی نے دیکھا ہے، ان میں ٹریکنگ ایجنسیوں، ہیلی کاپٹر فرموں اور ہسپتالوں کے لوگ شامل ہیں جو مبینہ طور پر اس ریکٹ سے منسلک ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تفتیش کاروں نے کہا کہ گائیڈ بعض اوقات کھانے میں بیکنگ سوڈا شامل کر کے یا آلودہ کھانا کھلا کر ٹریکرز کو بیمار کرتے ہیں، جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے انخلا کا جواز پیش بن جاتا ہے۔

چارج شیٹ کے مطابق، معمولی بیماریوں کے لیے بھی ٹریکروں کو ایئر لفٹ میں لے جانے پر دباؤ ڈالا گیا۔

چھ مشتبہ افراد کو پہلی بار جنوری میں حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ گرفتاریاں سی آئی بی کی تقریباً تین ماہ کی پوچھ گچھ کے بعد عمل میں آئیں جس کے مطابق انہوں نے جعلی دستاویزات اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کا پتہ لگایا۔

2018 کی ایک حکومتی تحقیقات نے اسی طرح کے سکینڈلز میں ملوث 15 کمپنیوں کی نشاندہی کی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے بیمہ کنندگان کی جانب سے انتباہات کے بعد متعارف کرائے گئے نئے رہنما اصولوں کے باوجود انہیں کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا