ششی تھرور کا کشمیر کا دورہ ’جبری نارملسی‘

ششی تھرور بی جے پی خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی خوب تعریفیں کرتے رہے ہیں جو کانگریس کو بہت کھلتا رہا ہے۔

انڈین سیاست دان اور مصنف ششی تھرور 23 جنوری 2016 کو انڈین شہر جے پور میں زی ٹیلی وژن جے پور لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے دن ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی/ روہت جین پارس)

اگر آپ بھی سری نگر یا جموں کی شاہراہوں یا عام سڑکوں پر ٹریفک جام میں گھنٹوں پھنسنے کے بعد ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی پر برہم دکھائی دیتے ہیں تو پولیس کی بجائے وی آئی پی قافلوں کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔

یہ لوگ انڈیا کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے آج کل کشمیر کے معتدل آب و ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشمیریوں کے سروں پر مسلط ہیں۔

آپ انہیں پارلیمانی وفد کہیں یا پھر سرحدی علاقوں میں جنگی تیاریوں کا جائزہ لینے کی کمیٹیاں، بس انہیں کچھ دن وادی میں گزارنے دیں، جہاں سال رواں میں سیاحوں کی اتنی بھرمار ہے کہ کشمیری چہرہ آپ کو محال ہی نظر آئے گا۔

چند روز پہلے کانگریس کے رہنما اور اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل ششی تھرور کی قیادت میں دس اراکین پارلیمان کا امور خارجہ سے متعلق وفد جموں اور پھر سری نگر پہنچا۔

لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے بعد ششی تھرور کو وادی میں ایک نئی فضا دیکھنے کو ملی جس سے انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی باچھیں تو کھل گئی ہیں لیکن کانگریس کے بیشتر رہنماؤں کی گھگھی بند ہوگئی۔

ششی تھرور کے اس بیان پر ایک ہنگامہ شروع ہوا اور انہیں مشورہ دینے لگے کہ وہ لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا کی بجائے عام لوگوں سے ملتے اور ان کی حالت زار معلوم کرتے تو انہیں اصل حالات کا پتہ لگتا۔

ششی تھرور نے فوراً یہ کہتے ہوئے اپنی جان چھڑالی کہ وہ عوام سے ملنے نہیں اور نہ موجودہ حالات کو جاننے آئے ہیں بلکہ انڈیا پاکستان تعلقات، چین اور پاکستان سے ملنے والی سرحد اور پاسپورٹ دفتر کی عوام کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے آئے ہیں۔

کانگریس ششی تھرور کے بارے میں اس وقت سے مشکوک نظر آرہی ہے جب سے ’آپریشن سندور‘ کے بعد ان کی قیادت میں پارلیمانی وفود دنیا کے مختلف ملکوں میں بھیج کر انہیں انڈیا کے امیج اور رائے عامہ ہموار کرنے کا کام سونپا گیا تھا جبکہ کانگریس نے ششی تھرور کی بغیر پارٹی کی اجازت کے بیشتر ملکوں کے دورے پر نکلنے پر اعتراض کیا تھا۔

ششی تھرور بی جے پی خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی خوب تعریفیں کرتے رہے ہیں، جو کانگریس کو بہت کھلتا رہا ہے۔ بعض مرتبہ یہ افواہیں بھی گشت کرنے لگیں کہ وہ شاید کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں جیسا کہ بیشتر کانگریس کے رہنماؤں نے کیا ہے۔

گوکہ ششی تھرور کے مطابق ان کا ایجنڈا عالمی ہے لیکن اسد الدین اویسی اور شرما سمیت آٹھ اراکین نے عمر عبداللہ سے داچھی گام کی خوبصورت پارک میں ملاقات کی۔ کشمیری میزبانی کو سراہا لیکن ہائبرڈ نظام حکومت میں عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں عمر عبداللہ سے ہمدردی کے دو الفاظ نہیں بولے اور نہ عمر کی اس چیخ وپکار پر آنسو بہائے جو وہ آئے روز ریاستی درجہ بحال کرنے پر کرتے آئے ہیں حالانکہ اس میں عمر کا کانگریس قیادت ساتھ دیتی رہی ہے۔

جموں و کشمیر میں ویسے یہ بات کسی کے حلق سے نہیں اتری کہ پارلیمانی وفد کا کام محض سرحدوں کا تحفظ یا تیاری، انڈیا پاکستان تعلقات یا پاسپورٹ کی سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔

جس وادی میں پاکستان کا نام لینا جرم قرار دیا گیا ہے وہیں پر ششی تھرور انڈیا پاکستان تعلقات کا جائزہ لینے آئے تھے اور بغیر پاکستان کا نام لیے سرحدی افواج سے ہم کلام بھی ہو رہے ہیں۔ ان سرحدی علاقوں میں لاکھوں کشمیری سختیاں جھیل رہے ہیں مگر ان سے بات کرنا تھرور کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول سوشل ایکٹوسٹ رمیز راتھر کشمیریوں کو، جن پر ہر طرح کے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور انتظامیہ میں ان کا کردار صفر تک محدود کر دیا گیا ہے، ششی تھرور سے کیسے ملنے دیتے۔

مرکزی حکومت اپنے چھتر چھایا میں ملکی اور غیر ملکی وفود لاکر انہیں یہاں کی ’جبری نارملسی‘ کا ڈراما دکھا رہی ہے جبکہ گھنٹوں ٹریفک بند کرکے وی آئی پیز کے ان قافلوں کے لیے سڑک کھلی رکھی جاتی ہے۔

اس کے نتیجے میں عام لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح سڑکوں پر ہانکے جاتے ہیں جس سے وفود کو بھی اس بات کا اندازہ کرنے میں مشکل نہیں ہوتی ہوگی کہ عوام پر جبری نارملسی مسلط ہے اور ان سے بات کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔

ششی تھرور کا وفد ایسی کئی انجمنوں سے بھی ملا، جن کو بڑی منحت کے بعد نارملسی کا الاپ الاپنے پر تیار کیا گیا ہے۔

اسد الدین اویسی کو حضرت بل میں عشا کی نماز بھی پڑھنے دی گئی مگر ان سے ملنے والوں کا محدود انتخاب پہلے سے کیا گیا تھا۔

اس وقت مرکزی کابینہ کے بیشتر وزرا واردِ کشمیر ہوتے ہیں جو ایک تو شدید گرمی سے چند روز چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کو فتح کرنے کا پرچم اٹھا کر ایک ارب سے زائد آبادی کو لبھانے کا کردار بھی نبھا رہے ہیں۔

ردعمل میں ایک کروڑ سے زائد کی آبادی خاموشی سے اپنی بربادی کا ماتم کرتی رہتی ہے۔

مرکزی وزرا کے علاوہ اس وقت انڈین سول سوسائٹی سے وابستہ درجنوں تنظیمیں بھی کشمیر میں موجود ہیں جنہیں کشمیریوں کو سمجھانے اور ماضی کو بھول جانے کا درس دینے کا کام سونپا گیا ہے، جو وہ سنہ 47 کے بعد قومی جذبے کے تحت سرانجام دیتی رہی ہیں۔

اس دوران اکثر سیمینار مختلف مذاہب کے بیچ ہم آہنگی پر ہوتے ہیں تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ کشمیر میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کتنی منحت درکار ہے جبکہ انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں نہ صرف مسلمانوں کا قافیہ تنگ ہوتا جا رہا ہے بلکہ ان کی مساجد، مکانات اور املاک کو منہدم کرنے کا کام بھی جاری ہے۔

جالب نے شاید ان ہی حالات کے پس منظر میں لکھا ہے ؎

بہت ہوائیں چلیں میرا رخ بدلنے کو

مگر نگاہ میں وہ سرزمین آج بھی ہے

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر