پاکستان میں شدید بارشوں کا انتباہ، محکموں کو تیار رہنے کی ہدایت

وزیراعظم کی سربراہی میں مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ اجلاس، بروقت انتظامات کی ہدایات جاری۔

ایک شخص 14 جولائی، 2025 کو اسلام آباد میں بارش کے دوران خود کو بچانے کے لیے پلاسٹک کی شیٹ استعمال کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے  نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں رواں سال شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے بعد پاکستان میں بھی جولائی کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

 

پاکستان کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے پری مون سون بارشوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ گذشتہ سال اس موسم میں ملک کے کئی حصے بشمول شہر سیلاب کی زد میں آئے تھے۔

 

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج ایک اجلاس میں مون سون سیزن کی پیشگی تیاری، موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

 

اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی، جامع حکمت عملی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

 

 

انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے رواں ہفتے تمام صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں تاکہ مون سون سیزن سے قبل تیاریوں کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دی جا سکے۔

 

 

انہوں نے وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی نگرانی میں این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی، جو صوبائی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کرے گی۔

 

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ ممکنہ قدرتی آفات کی صورت میں ہنگامی فنڈ کے قیام کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا وفاقی حکومت نے قومی آبی تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے۔

اجلاس میں یہ ہدایت بھی کی گئی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے جبکہ صوبائی حکومتیں خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں، سیلابی راستوں میں تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کو پیشگی دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔

اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مون سون کے دوران تمام متعلقہ ادارے اپنی مکمل انتظامی اور تکنیکی صلاحیت عوام کے تحفظ اور سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات