سانحہ کاہنہ: ’چھت گری تو بیٹی جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی‘

کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے جان گنوانے والے 14 بچوں میں تین بہن بھائی بھی شامل تھے۔ ان بچوں کے گھر والے کیا کہتے ہیں، جانیے انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی رپورٹ میں۔

لاہور کے قریب کاہنہ میں منگل کو ایک گھر میں بنے ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جان سے چلے گئے جبکہ چھ بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ 

ابتدائی رپورٹ کے مطابق چھت خستہ حال تھی جو اوپر مزید تعمیر کی وجہ سے گری۔ 

اس واقعے نے کئی گھر اجاڑ دیے، جن میں سے ایک متاثرہ خاندان کے تین بچے جان سے گئے اور ایک ہسپتال میں ہے۔

جان سے جانے والے تین بچوں کی پھپھی عاصمہ بی بی نے بتایا ’ہمارے چار بچے دو سال سے اس اکیڈمی میں پڑھنے جاتے تھے۔ 

انہوں نے بتایا کہ چھت گرنے سے 11سالہ ایمان فاطمہ، نو سالہ عروج اور ان کا چھے سالہ بھائی عبداللہ جان سے گئے جبکہ ایک بہن زخمی حالت میں ہسپتال زیر علاج ہے۔ 

عاصمہ نے کہا ’ہمارا تو گھر ہی اجڑ گیا، کبھی سوچا نہ تھا اس طرح معصوم بچوں کی موت کا غم برداشت کرنا پڑے گا۔ 

’عروج کہتی تھی میں پڑھ کر پولیس افسر بنوں گی اور ایمان ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی تھی۔ 

’ہم سمجھاتے تھے ہمارے ہاں لڑکیاں نوکری نہیں کرتیں۔۔۔۔۔ جس پر وہ دونوں برا مناتی تھیں۔

’پڑھائی بہت دل لگا کر کرتی تھیں کبھی سکول یا اکیڈمی سے چھٹی نہیں کرتی تھیں۔‘

بچوں کے والد غلام مصطفی سکتے میں ہیں جبکہ ماں کئی گھنٹے سے بے ہوش ہے۔

بچوں کی دادی ارم بی بی نے بتایا ’ہمارے گھر کے کل سات بچے پڑھنے جاتے تھے، لیکن میرے بھتیجے کے تین بچے فوت ہوگئے۔ 

’ہمارے گھر کی تو رونق ہی اجڑ گئی جیسے دونوں بہنیں اپنے ننھے بھائی عبداللہ کو ساتھ لے کر اکیڈمی جاتی تھیں۔ ویسے ہی اللہ کے پاس بھی ساتھ ہی لے گئیں۔ 

’ہمارے غم کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ میرے تو بیٹے کی دنیا ہی اجڑ گئی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور گھر کے دو بچے بھی یہاں پڑھنے گئے تھے۔ چھے سالہ تسبیحہ کی موت ہو گئی جبکہ بڑا بھائی آیان زخمی ہوا۔ 

ان بچوں کی والدہ خالدہ بی بی کے بقول ’بیٹا آیان معمولی زخمی ہوا لیکن چھوٹی بیٹی تسبیحہ جس کی عمر چھے سال تھی وہ فوت ہوگئی۔ 

’بہت معصوم بچی تھی۔ گھر میں کوئی ڈانٹتا تو خاموشی سے کھڑی رہتی۔ چھت گری تو جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی۔‘

حادثے میں بچ جانے والے بچے آیان نے بتایا ’شام کو چار بجے ہم ٹیوشن پڑھنے گئے۔ ٹیچر کے شوہر انہیں کہتے رہے بچوں کو چھٹی دے دو چھت پر کام ہو رہا ہے۔ 

’لیکن انہوں نے کہا سبق پڑھا کر دے دوں گی۔ اتنی دیر میں اوپر سے بہت ساری ٹائلیں گرنے سے واقعہ ہوا۔ 

’چھت گرتے ہی کچھ کو چوٹیں لگی اور میری بہن سمیت کئی فوت ہوگئے۔‘

پولیس نے مالک مکان ریحان، ان کے دو بھائیوں اور چھت کے کام کرنے والے مستری کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی۔ 

دوسری جانب محکمہ تعلیم نے بھی لاہور میں سروے کر کے بغیر اجازت چلنے والے ٹیوشن سینٹرز کا ریکارڈ جمع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

واضح رہے لاہور شہر میں انتظامیہ پہلے ہی 350 سے زائد عمارتوں کو مخدوش قرار دے چکی ہے جبکہ 90 کے قریب ناقابل مرمت قرار دے کر مسمار کرنے کی ہدایات جاری گئی جا چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان