دو مرتبہ موت کے منہ سے نکلنے والے شاہد حیات خان کون تھے؟

سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات خان گذشتہ روز آغا خان ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ ایک طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

سابق ایڈشنل آئی جی شاہد حیات خان نے دورانِ سروس کئی ہائی پروفائل کیسز کی سربراہی کی (سندھ پولیس)

سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات خان منگل کو آغا خان ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

شاہد حیات خان ان چند افسران میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز سول جج کی حیثیت سے خیبر پختونخوا میں کیا۔ وہ سرکاری ملازمت کے دوران نہ صرف دو مرتبہ موت کے منہ سے باہر آئے بلکہ مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں تین سال جیل کاٹی، دو دہائیوں میں کئی تبادلے دیکھے اور کراچی پولیس کے سربراہ بننے کے باوجود بھی اہل خانہ کے ساتھ چھوٹے سے دو بیڈ روم کے فلیٹ میں ہی مقیم رہے۔

ان کی نمازِ جنازہ بدھ کو امروز پولیس ہیڈکواٹرز گارڈن ساؤتھ کراچی میں ادا کی گئی اور ان کی میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کر دیا گیا ہے۔

شاہد حیات خان کے قریبی دوست اور سابق آئی جی سندھ پولیس اقبال محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں نے اپنی زندگی میں ایسا انسان نہیں دیکھا جو ایک اچھا انسان ہونے کے ساتھ انتہائی نڈر اور دلیر بھی تھا۔ وہ شخص یاروں کا یار تھا، اس نے کبھی اپنے ساتھیوں کو دکھ درد میں اکیلا نہیں چھوڑا۔ میرے تو چھوٹے بھائیوں جیسا تھا، میں تو اس کی ڈانٹ بھی کھا لیا کرتا تھا۔‘

سابق ایڈشنل آئی جی شاہد حیات خان نے دورانِ سروس کئی ہائی پروفائل کیسز کی سربراہی کی لیکن 1996 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں ان کی شمولیت نے انہیں طویل عرصے تک خبروں میں رکھا کیونکہ کیس کا فیصلہ بھی 13 سال بعد سنایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میر مرتضیٰ بھٹو کی موت کا سبب بننے والے پولیس ایکشن کے دوران شاہد حیات خان کو گولی لگی تھی جس کے بعد وہ طویل عرصے تک زیر علاج رہے اور یہ دوسرا موقع تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کی شاہد حیات موت کے منہ سے واپس آئے۔ تاہم، صحت یاب ہونے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا اور لگ بھگ پونے تین سال تک انہوں نے جیل کاٹی۔

شاہد حیات نے اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز 1988 میں خیبر پختونخوا میں سول جج کی حیثیت سے کیا تھا۔ 1991 میں باقاعدہ طور پر سول سروس جوائن کی اور 1992 میں لاہور پولیس سروس میں اے ایس پی کی حیثیت سے ان کی پہلی تعیناتی ہوئی۔ 1993 میں اقوام متحدہ کے مشن پر منتخب ہو کر بیرون ملک چلے گئے۔

پاکستان لوٹنے کے بعد 1995 میں ان کا تبادلہ سندھ میں ہوا۔

شاہد حیات خان کو اُن دنوں کراچی کے خطرناک ترین علاقے پاک کالونی میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ یہ کراچی کی تاریخ کا سیاہ اور بدترین دور تھا جب ہزاروں لوگ قتل اور زخمی ہوئے۔ اُس وقت متحدہ قومی موومنٹ کی ’غیر قانونی اور غیر معاشرتی‘ کارروائیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ جاری تھا۔

اس دوران دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر حملہ ہوا، جس میں گولی اُن کے چہرے پر لگی اور ایک ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں واپس پاک کالونی میں تعینات کر دیا گیا۔

1999 میں شاہد حیات خان ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ٹریفک تعینات ہوئے۔ 2000 میں انہیں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سکیورٹی کراچی بھی تعینات کر دیا گیا۔ دو سال بعد 2002 میں اُنہیں ایس پی ٹھٹھہ مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اس وقت ہونے والی الیکشن مہم کے دوران ایک سیاسی جماعت کے کہنے پر مخالف جماعت کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا تو تین ماہ بعد اُن کا تبادلہ کر دیا گیا، جس کے بعد وہ کراچی واپس آئے اور اس ہی سال انہیں ایس ایس پی انویسٹی گیشن تعینات کیا گیا جس عہدے پر وہ تین مارچ 2003 تک فائض رہے۔

شاہد حیات خان نے ایف آئی اے میں بھی ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے 2004 سے 2007 تک خدمات سر انجام دیں جس کے بعد وہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے بھی رہے۔ اس دوران وہ کئی اہم کیسز کے سربراہ تفتیشی افسر بھی رہے جن میں شاہ زیب قتل کیس اور عباس ٹاؤن کے خوفناک بم دھماکے کا کیس بھی شامل ہے۔

بعد ازاں شاہد حیات خان ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ سی پی او، ڈی آئی جی ایسٹ، ڈی آئی جی ساؤتھ اور ایڈشنل آئی جی کراچی بھی منتخب ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان