لیام نیسن انٹرویو: ریپ، دوڑ اور کیسے میں نے سیکھا کہ انتقام کا فائدہ نہیں

کلیمنس میشلن کے ساتھ خصوصی گفتگو میں نئی فلم ”کولڈ پرسوٹ” پر بات کرتے ہوئے اداکار کو ماضی کا ایک دکھ بھرا واقعہ یاد آ گیا

لیام نیسن منشیات کے ایک تاجر سے انتقام لیتے ہیں فلم ’کولڈ پرسوٹ’ میں جس نے ان کے بیٹے کو قتل کیا ہوتا ہے۔

 

لیام نیسن ایک کرسی پر بیٹھے ہیں۔ چائے کا فلاسک بھی قریب ہی پڑا ہے۔ ہم مین ہیٹن کے ایک ہوٹل کے وسیع سویٹ میں موجود ہیں تاکہ ہم ان کی نئی فلم ’کولڈ پرسوٹ‘ کے بارے میں بات کرسکیں۔ 50 کے پیٹے میں ایکشن ہیرو بنے والے نیسن اس فلم میں انتقام میں پاگل شخص کا کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم یہاں 66 سالہ ٹیکن فلم کا سٹار اپنے ماضی سے ایک دلخراش واقعہ بتانے والے ہیں۔ ایک اعتراف جو انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں کیا۔ اس میں وہ کسی قریبی شخص کے جنسی استحصال کے بارے میں کئی سال قبل آگہی کے بارے میں بتائیں گے، کیسے وہ ہفتوں گلیوں میں نسل پرستانہ اور کرب پر مبنی خیالات کے ساتھ گھومتے رہے۔ اور کس طرح اس واقعے نے انہیں سیکھایا کہ تشدد اور انتقام مفید نہیں ہیں۔

اس کا آغاز ایک وضاحت کے ساتھ ہوتا ہے کہ کیسے ان کا تازہ ترین کردار غصے میں آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کچھ بہت بنیادی ہے – اللہ نہ کرے کہ آپ کے خاندان کے کسی رکن کو جرم سے دکھ پہنچے۔ میں آپ کو ایک کہانی بتاؤں گا جو سچی ہے۔’

یہ کچھ وقت پہلے کا واقعہ تھا۔ نیسن بیرون ملک سے واپس لوٹے تو انہیں ریپ کے بارے میں معلوم ہوا۔ نیسن کا کہنا ہے کہ ’اس نے ریپ کی صورت حال کو انتہائی غیر معمولی طریقے سے سنبھال لیا تھا۔ لیکن میرا فوری ردعمل تھا...’ وہ رک گئے۔ ’میں نے پوچھا، کیا وہ جانتی تھی کہ یہ کون تھا؟ نہیں۔ ان کی رنگت کیسی تھی؟ اس نے کہا کہ ’وہ ایک سیاہ فام شخص تھا۔‘

میں اوپر اور نیچے علاقوں میں لاٹھی لے کر گھومتا رہا اس خدشے کے ساتھ، میں شرمندہ ہوں اس کے لیے، یہ میں نے شاید ایک ہفتے تک کیا کہ [نیسن نے اپنی انگلیوں کے ساتھ کوٹ کا حوالہ دیا] ’کوئی سیاہ فام کسی پب سے باہر آئے گا اور کسی وجہ سے مجھ پر حملہ کرے گا، لہٰذا میں اسے مار ڈالوں۔‘

نیسن کو معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، اور یہ کتنا دل دہلا دینے والا ہے۔ کتنا حیرت انگیز ہے۔ ’مجھے ایک ہفتے لگا شاید ڈیڑھ ہفتہ اس حالت سے گزرنے میں۔ وہ کہتی تھی، ’آپ کہاں جا رہے ہیں؟’ اور میں جواب دیتا ’میں باہر چہل قدمی کے لیے جا رہا ہوں۔‘

انہوں نے جان بوجھ کر متاثرہ خاتون کی شناخت نہیں ظاہر کی۔ ’یہ بھیانک، بہت بھیانک تھا جب میں ماضی کے بارے میں سوچتا ہوں کہ میں نے ایسا کیا۔ میں اس کا کبھی اعتراف نہ کرتا اور میں یہ ایک صحافی کو بتا رہا ہوں۔ خدا نخواستہ۔’

نیسن نے کپکپاتی آواز میں کہا کہ ’یہ بہت برا ہوا تھا۔ مگر میں نے اس سے ایک سبق سیکھا ہے جب میں نے سوچا کہ یہ میں کیا کر رہا تھا۔‘

وہ پھر سکرین پر تشدد کی عمومی بات کرتے ہیں۔ ان کی آواز تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہم واپس ایک معمول کے انٹرویو کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی عام اعتراف نہیں تھا۔ جیسا کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ بہت برا تھا۔ یہ ممکن ہے کہ جو کہا گیا وہ آپ نے سنا اور اس پر رائے نہ بنائی ہو۔ پھر دوبارہ حالات کا جائزہ لیں – انہیں معلوم ہوا کہ ان کا کوئی قریبی جنسی تشدد کا نشانہ بنا ہے۔ کوئی بھی اس قسم کی صورتحال سے اپنی زندگی میں گزرنا نہیں چاہے گا۔ کیا دوسرے لوگ بھی اسی طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟

’کولڈ پرسوٹ’ میں، ان کے کردار نیل کوکسمین کے بیٹے کو منشیات کا کاروبار کرنے والا ایک گروہ ہلاک کر دیتا ہے جس سے ان میں بدلہ لینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ ناظرین [اسکرین پر تشدد] دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ اس کو ذہن میں رکھ کر زندہ رہ سکتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہاں لیکن فلموں میں تشدد کو دیکھ کر لوگوں کا باہر جا کر لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ میں اس پر بالکل یقین نہیں رکھتا۔’

’میں سمجھتا ہوں کہ عام فلمیں دیکھنے والا سوچتا ہے کہ ہاں اسے مکہ ماروں، مکہ ماروں۔ اور انہیں ایک قسم کا اطمینان ملتا ہے کسی اور کو یہ کرتا دیکھ کر اور وہ سمینا گھر سے ایک طرح کا مطمئن ہو کر لوٹتے ہیں۔’

حقیقی دنیا میں تشدد پر اکسانے کی کئی وجوہات ہیں۔ نیسن کی اپنی کہانی کو ان کے انتہائی قریبی شخص کے جنسی استحصال سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غیرمعمولی بات نہیں کہ لوگ جنسی زیادتی کے بعد انتقام کے جذبات کا سامنا نہ ہوا ہو۔ میں نے امریکی ریاست پینسلوینیا کے شہر لورا پلومبو میں قائم ایک فلاحی تنظیم نیشنل سیکشول وائلنس ریسورس سینٹر سے رابطہ کیا اور نیسن کا نام بتائے بغیر ان کی رائے جاننا چاہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کئی قسم کے جذبات کا سبب بنتے ہیں جن میں دھچکہ یا صدمہ اور حملے کو روکنے میں ناکامی پر شرمندگی شامل ہیں۔

’متاثرہ افراد کے قریبی لوگوں کو مدد کی ضرورت بھی ہوتی ہے، یہ اکثر زیادہ واضح نہیں ہوتا۔ انہیں دوسرے درجے کا صدمہ پہنچتا ہے۔ کچھ سوچنے لگتے ہیں کہ انہوں نے کیا مختلف کیا ہوتا اور وہ انتقام کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔”

نیسن کی پرتشدد انتقام کی مختصر خواہش میں زیادہ خطرناک اس کا نسلی پہلو ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے ایسوسیٹ پروفیسر لسانا ہاریس کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ شاید پہلے سے موجود نظریات ہوسکتے ہیں۔ ’مگر یہ ذہن میں رکھیں کہ اسے آپ نیسن کی سوچ یا اس مخصوص واقعے پر فیصلہ نہیں سمجھ سکتے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ کیسے ہمارے دماغ ایسے منفی واقعات کو عام صورتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ جب بات سیاہ فام افراد کی جانب سے جنسی زیادتی کا واقع ہوتا ہے تو ناجائز تعصب موجود ہوتا ہے۔ ’آپ اسے روک سکتے ہیں اگر آپ گھسے پٹے خیالات سے آگاہ ہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ یہ خیالات رکھتے ہیں۔”

اس نیو یارک ہوٹل میں سترہ منٹ کے اس انٹرویو کے چند دن بعد میں نے نیسن کے پبلسٹ سے رابطہ کیا کہ آیا نیسن اس کہانی پر مزید بات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ لیکن جیسا کہ نیسن نے کہا یہ کہانی پہلی مرتبہ بتائی گئی ہے۔ شاید یہی بہت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین