ایل او سی پرجھڑپیں: ’گولہ باری ہوئی تو رات بھر لاشیں ٹنل میں رہیں‘

ہفتے کی رات ایل او سی پر ہوئی جھڑپوں کے بعد اگرچہ فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے مگر متاثرہ علاقوں کے لوگوں میں خوف و ہراس برقرار ہے۔ اکثر لوگ اس وقفے کو عارضی سمجھتے ہیں جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

رہائشی گھروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس گولہ باری میں محفوظ رہا ہو۔ کسی کی چھت تباہ ہے تو کسی کی دیواریں گری ہیں اور کسی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہیں ۔ (تصویر: ساجد میر)

بازار میں داخل ہوتے ہی نیلم ویلی روڈ کی دونوں اطراف تباہی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ سڑک کنارے ٹوٹے شیشوں کی کرچیاں، جستی چادریں، لکڑی اور کنکریٹ کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔ کہیں کہیں دکاندار بکھرا سامان سمیٹ رہے ہیں اور ٹوٹی پھوٹی دکانوں کی مرمت کر رہے ہیں۔  یوں لگتا ہے کوئی بپھرا ہجوم ارد گرد دکانوں کی چھتیں، دروازے اور گاڑیوں کے شیشے توڑتا گزر گیا۔

بازار میں لوگوں کی تعداد اور روڈ پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ وقفے وقفے بعد ایک آدھ گاڑی بازار کے ایک کونے سے داخل ہوتی ہے اور دھول اڑاتی گزر جاتی ہے۔ آج یہاں بہت کم گاڑیاں رک رہی تھیں۔

یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی نیلم کا جورا بازار ہے جہاں ایک روز قبل بھارتی فوج کی گولہ باری سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ 

اس علاقے میں خزاں کا موسم شروع ہو چکا ہے اور صبح کے وقت سردی کا احساس ہوتا ہے۔ آسمان صاف ہے مگر گذشتہ روز کی گولہ باری سے لگی آگ کے دھویں اور گرد کے آثار موجود ہیں۔ فضا میں جلی ہوئی لکڑی اور پلاسٹک کی بدبو اب بھی محسوس ہو رہی ہے۔

مظفرآباد سے جورا تک پہنچنے کے لیے دریائے نیلم کے کنارے سفر کرنا پڑتا ہے۔ مظفرآباد سے لگ بھگ 40 کلو میٹر شمال میں نوسیری کے مقام پر دریائے نیلم پر بنے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کا ڈیم ہے جہاں اس منصوبے کی زیر زمین ٹنل شروع ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی مقام پر گذشتہ روز ہونے والی فائرنگ میں ایک خاندان کے تین افراد کے علاوہ دو غیر مقامی مزدور بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ نوسیری بازار میں موجود لوگوں کے مطابق ارد گرد کی آبادیوں سے بیشتر لوگ مظفرآباد چلے گئے ہیں یا پھر اور پہاڑیوں پر محفوظ جگہوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

نوسیری سے آگے دریائے نیلم کے مشرقی کنارے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا گاؤں ٹیٹوال اور مغربی کنارے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا چلیہانہ گاؤں آباد ہے۔ ٹیٹوال کے عقب میں ٹنگڈارکا وہ علاقہ ہے جہاں سے بھارتی فوج نے گذشتہ روز بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی۔

’کیا پتہ گولہ باری کب شروع ہو جائے؟‘

نوسیری بازار میں اکثر دکانیں کھلی ہیں مگر لوگوں میں خوف و ہراس کی کیفیت موجود ہے۔ کئی دکانوں کے شٹر ادھ کھلے ہیں۔ ایک ہوٹل کے ویٹر ماجد علی کو خدشہ ہے کہ فائرنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔ ’کل تو پورا دن دکانیں بند رہیں۔ لوگ جنازوں میں چلے گئے تھے مگر آج لوگ آ رہے ہیں۔ کیا پتہ کس وقت گولہ باری شروع ہو جائے اور پھر بھاگنا پڑے۔‘

ماجد کے مطابق اس بازار اور قریبی گھروں کے ساتھ کوئی بنکر نہیں۔ ’گولہ باری ہوتی ہے تو لوگ قریب ٹنل کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس دن بھی رات بھر لاشیں ٹنل میں رہیں۔ ارد گرد سے لوگ بھی وہیں جمع تھے۔‘

کمائیں کہاں سے اور کھائیں کیا؟

جورا بازار میں چھوٹی بڑی دو سو سے زائد دکانیں ہیں جن میں سے 50 کے لگ بھگ تباہ ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر دکانداروں کی آمدن کا دارومدار انہیں دکانوں پر ہے اور خراب حالات نے ان کی معاشی فکرمندی میں اضافہ کر دیا ہے۔

20 سالہ مظہر میر اسی بازار میں ایک موبائل شاپ چلاتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مظہر نے بتایا: ’رات کو ہم دکانیں صحیح سلامت بند کر کے گئے صبح دروازے توڑ کر کھولنا پڑیں۔ دو دن سے ٹوٹا پھوٹا سامان اکٹھا کر رہے ہیں ابھی تک ایک چیز بھی کارآمد نہیں ملی۔‘

مظہر کا کہنا ہے کہ ’گولہ باری کی وجہ سے دکانیں، مکان بلکہ پورے کے پورے محلے تباہ ہو گئے ہیں۔ دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا تباہ ہو گئی ہیں اور کھانے پینے کی چیزوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔‘

’نشانہ فوج مگر نقصان عام شہریوں کا ہوتا ہے‘

جورا بازار میں موجود کئی لوگوں نے بتایا کہ یہ بازار اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ گولہ باری سے تباہ ہو چکا ہے۔ وہ اس کی بنیادی وجہ بازار کے قریب فوجی کیمپ کو قرار دیتے ہیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ جب بھی گولہ باری ہوتی ہے جورا میں سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ’میرا خیال ہے وہ (بھارتی فوج) کیمپ کو نشانے بناتے ہیں مگر گولے بازار اور گاؤں میں گرتے ہیں۔‘

اسی بازار کے ایک اور تاجر ملک نصیر اعوان کے بقول: ’یہ پاکستان اور بھارت دو ملکوں کی لڑائی ہے۔ اس میں کشمیر کے لوگوں کی املاک اور جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔‘

ملک نصیر سوال کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ کب تک ایسے ہی چلے گا؟ ’اگر یہ ایسے ہی چلتا رہا تو آپ بتائیں کیا ہو گا؟ لوگوں کے بچے اس وقت بغیر کھانے کے باہر پڑے ہیں۔ کسی کے پاس مورچہ ہے نہ کھانے پینے کی چیزیں، حالات بہت خراب ہیں۔ اس وقت لوگوں کے جان، مال، املاک کچھ محفوظ نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘

ملک نصیر مطالبہ کرتے ہیں کہ: ’اس لڑائی کو ختم کیا جائے۔ ورنہ اگلی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں گی۔ اس لیے ہم لڑائی نہیں چاہتے بلکہ امن چاہتے ہیں۔‘

’گھر محفوظ ہیں نہ سکول‘

جورا بازار کے عقب میں نصف درجن کے لگ بھگ رہائشی گھروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس گولہ باری میں محفوظ رہا ہو۔ کسی کی چھت تباہ ہے تو کسی کی دیواریں گری ہیں اور کسی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہیں۔ تاہم مکین محفوظ ہیں۔ گذشتہ روز کی گولہ باری میں یہاں بلوچستان کا ایک تاجر ہلاک اور ایک مقامی خاتون زخمی ہوئی تھی۔

تاہم ان گھروں میں سے ایک گھر میں رہنے والی 45 سالہ نرگس بی بی اپنی دو بیٹیوں 14 سالہ لائبہ اور 16 سالہ صوبیہ کے ساتھ گھر کا ٹوٹا پھوٹا سامان سمیٹ رہی ہیں۔ عام دنوں میں لائبہ اور صوبیہ اس وقت سکول ہوتی ہیں مگر حالیہ گولہ باری میں ان کے سکول کی عمارت بھی جل گئی ہے اب دونوں کو معلوم نہیں وہ کب سکول جا پائیں گی۔

نرگس بی بی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے گھر پر دو گولے گرے اور وہ اس وقت اس گھر کی نچلی منزل میں تھے۔ ’ہمارا گھر مکمل تباہ  ہو گیا ہے اور رہنے کی جگہ نہیں۔ کسی کے گھر میں رہنے آئے ہیں۔ کوئی مورچہ (حفاظتی بنکر) نہیں۔ رہائش کا کوئی انتظام نہیں۔ کسی محفوظ جگہ مکان بھی نہیں کہ وہاں جا کر رہیں۔‘

وہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ’یا تو ہمیں کسی محفوظ جگہ منتقل کریں یا ہمارے لیے مورچوں کا بندوبست کریں۔‘

گولہ باری میں جو گھر تباہ ہو گئے ہیں ان کے مکین رات پڑوس کے محفوظ گھروں میں گزارتے ہیں اور پھر واپس آ کر اپنے تباہ ہونے والے گھروں میں مرمت کرتے ہیں۔ نرگس بی بی کہتی ہیں کہ  ہمارے پاس بس یہی ایک گھر تھا جو تباہ ہو گیا۔ کپڑے، برتن فرنیچر کچھ بھی نہیں بچا جس کو استعمال کر سکیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نےانتہائی مجبوری کے عالم میں محنت کر کے یہ مکان بنایا۔ آج سب تباہ ہو گیا۔

گھر کی تباہی کی ساتھ ساتھ نرگس بی بی اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے بھی فکر مند ہیں۔  وہ کہتی ہیں۔ ’دو چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں وہ بھی سکول نہیں جا سکتیں۔ سکول بھی تباہ ہے۔ انہیں بھیجیں بھی تو کیسے؟ ہر وقت خوف لگا رہتا ہے کہ پتا نہیں کب فائرنگ شروع ہو جائے۔‘

’مورچے بنا کر دیں یا جنگ بند کریں‘

نرگس بی بی کے تباہ شدہ گھر کے باہر ان کی کچھ رشتہ دار خواتین بھی موجود ہیں جو ان کی خبر لینے یہاں آئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو حکومت سے شکوہ ہے کہ جب بھی فائرنگ ہوتی ہے تو بہت سارے لوگ فوٹو بنانے آ جاتے ہیں پھر واپس کوئی نہیں آتا۔ حکومت کہہ رہی تھی مورچے بنا کر دیں گے مگر کسی نے بنا کر نہیں دئیے۔ 80 سالہ سمندرہ بی بی کہتی ہیں ’حکومت امداد کرے، ہمیں مورچے بنا کر دے نہیں تو یہ جنگ بند کرے۔‘

دن ڈھلے دکانوں سے سامان سمیٹنے اور مرمت کرنے والے لوگ سڑک کنارے سستا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے اپنے نقصان کی تفصیل بتا رہے ہیں۔ ایسے میں بازار کے مشرقی کونے سے چند گاڑیوں پر سوار نوجوان نعرے بازی کرتے داخل ہوتے ہیں اور بازار میں لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ کشمیر کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کے کارکن ہیں جو جلوس لے کر مظفرآباد میں کل ہونے والے’آزادی مارچ‘ نامی احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان