سپیکر بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد؟

بلوچستان میں مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور شروع کیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اپنی ہی جماعت کے سپیکر قدوس بزنجو کی کارکردگی سے مطمن نہیں ہیں۔

بلوچستان میں مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور شروع کیا ہے اس سلسلے میں حکومتی جماعت ہی کے جان محمد جمالی کو نیا سپیکر بنانے کے لیے رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔ 

تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اپنی ہی جماعت کے سپیکر قدوس بزنجو کی کارکردگی سے مطمن نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سپیکر کی جانب سے حکومت کے خلاف بعض ایسے اقدامات ہیں جن سے حزب اختلاف کی جماعتیں فائدہ حاصل کرسکتی ہیں ۔ 

دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزیر اعلیٰ اور سپیکر کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ سپیکر کی منشا کے خلاف بلوچستان میں ایڈوائزرکی تقرری کو قرار دیا ہے۔ 

رکن اسمبلی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے عہدہ سنبھالتے ہی سپیکر سے بلٹ پروف گاڑی کی واپسی کا مطالبہ کیا اسی دن سے سپیکر اور وزیر اعلیٰ میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں جو اب سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی جانب جانے کا قوی امکان ہے۔ 

موجوہ سپیکر بلوچستان اسمبلی نے سال 2017کے آخر میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

بلوچستان کے سینئر صحافی و تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کے مطابق قدوس بزنجو موجودہ حکومت بننے سے قبل ہی وزارت اعلیٰ کے خواہش مند تھے اور اس کے لیے انہوں نہ صرف بلوچستان بلکہ مرکزی سطح پر بھی کوششیں کیں تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنی نامزدگی سے قبل ہی قدوس بزنجوکو سپیکر بنانے کا اعلان کردیا تھا جس سے اب بھی قدوس بزنجو کے دل میں ان کے خلاف خلش باقی ہے۔ 

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ ’بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی رکن اور سینئر سیاست دان سعید ہاشمی بھی بعض امور پر پارٹی قیادت سے اختلافات رکھتے ہیں جن میں سینیٹر شپ کے لیے انہیں اور ان کی اہلیہ کو ٹکٹ جاری نہ کرنا اور دیگر حکومتی و سیاسی معاملات میں انہیں نظر انداز کرنا بھی شامل ہے۔‘

سیاسی مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ قدوس بزنجو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے نصیر آباد ڈویژن کے پارٹی رہنماؤں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی بناء پر جان محمد جمالی نہ صرف جماعت کے ارکان اسمبلی بلکہ اپوزیشن جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی سے بھی عدم اعتماد کی تحریک لانے میں مدد حاصل کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ 

بلوچستان میں اس سے قبل بھی سپیکر اسمبلی کو عدم اعتمام کی تحاریک کا سامنا رہا ہے۔ سابق دور میں سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اورسابقہ اسپیکر جان محمد جمالی نے عدم اعتماد کی تحریک سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔ 

ادھر بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما رکن اسمبلی جان محمد جمالی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ خبر سراسر جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا پر مبنی ہے۔ 

جان جمالی نے کہا کہ ’اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ میں سپیکر کے خلاف کسی قسم کی عدم اعتماد کی تحریک لانے کا حصہ ہوں اور نہ ہی میں سپیکر بننے کا خواہش مند ہوں۔’

دوسری جانب سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کا ممکنہ طور پر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے پر موقف ہے کہ وہ عوامی نمائندہ ہیں اور عوام کی خدمت ہی ان کا اوڑنا بچھونا ہے۔ ’ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ میرے خلاف کوئی عدم اعتماد کی تحریک لائی جا رہی ہے۔’ 

قدوس بزنجو کے مطابق ’میں نہیں سمجھتا اس میں کوئی صداقت ہے۔ سپیکرشپ میرا شوق نہیں اس کی وجہ سے میرے سوشل اورسیاسی معاملات میں خلل پڑ رہا ہے۔ یہ تو جماعت نے مجھے ذمہ داری دی ہے۔ میں نے پارٹی قیادت کوکہا تھا کہ مجھے یہ عہدہ نہ دیں تو قیادت نے مجھے بطور سپیکر کام جاری رکھنے کو کہا اور اب اگر جماعت چاہتی ہے کہ میں سپیکر نہ رہوں تو میں خود یہ عہدہ چھوڑ دوں گا۔ اس کے لیے تحریک عدم اعتماد کی ضرورت نہیں ہے۔’

اس سلسلے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر بشریٰ رند نے سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ہماری جماعت میں دھڑے بندی ہے اور نہ ہی ہم سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو کے خلاف کسی قسم کی عدم اعتماد کی تحریک لارہے ہیں۔ کچھ لوگ بلوچستان عوامی پارٹی کی مقبولیت سے خائف ہیں اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت سابقہ ادوار کی حکومتوں سے بہتر کام کر رہی ہے۔’ 

بلوچستان کے بعض تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ فی الحال سپیکر بلوچستان اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی ہے تاہم اگر ایسا ہوا تو مخلوط حکومت کے لیے مزید حکومت کرنا مشکل ہوجائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان