میدان میں مرغی کو کک مارنے پر کرویشیا کا فٹ بالر مشکل میں

جانوروں کے حقوق کی ایک تنطیم اس کھلاڑی پر کیس کرنے جارہی ہے جس نے میدان میں آئے مرغیوں کے ایک جتھے کا پیچھا کیا اور ان میں سے ایک کو کک مار کر ہلاک کر دیا۔

ریفری نے اس غیرمہذب رویے پر23 سالہ کھلاڑی کو ریڈ کارڈ بھی دکھایا (اے ایف پی)

کرویشیا میں جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک مقامی فٹ بالر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی جس نے گذشتہ اختتام ہفتہ گراؤنڈ میں ایک نیم پروفیشنل میچ کے دوران مرغی کو لات مار کر ہلاک کر دیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقع مشرقی کرویشیا میں گذشتہ اتوار کو پیش آیا جب مرغیوں کا ایک جتھا میدان میں آگیا۔

وہاں موجود کھلاڑیوں میں سے مقامی ٹیم این کے جیلنگراڈ کے کھلاڑی ایوان گیزڈک ان پرندوں کے پیچے بھاگا، ایک کو لات ماری اور اٹھا کر میدان سے باہر پھینک دیا۔

ریفری نے اس غیرمہذب رویے پر اس تئیس سالہ کھلاڑی کو ریڈ کارڈ بھی دکھایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک غیرسرکاری تنظیم اینیمل فرینڈز نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’ایک معصوم پرندے کے خلاف شرمناک اور بزدلانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ وہ ہڈیاں کچلے جانے والے درد کے ہاتھوں مر گئی۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس پلیر کے ’ایک جانور کو تشدد کے ذریعے مجرمانہ طور پر ہلاک کرنے‘ کے فعل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

اگر اس کھلاڑی پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں ایک سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔

گیزڈک نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جانوروں سے پیار کرنے والے شخص ہیں جنہوں نے خود بھی کئی پالتو جانور رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’میں مرغیوں کے پیچھے بھاگا کہ انہیں میدان سے بھگا سکوں اور ٹانگ چلائی لیکن غلطی سے وہ مر گئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مرغیاں باقاعدگی سے میدان میں گھستی رہتی ہیں اور گند کے علاوہ میچ بھی رکوا دیتی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال