وفاقی ٹیکس محتسب ایف بی آر افسران کے رویے سے نالاں

حال ہی میں ایف ٹی او نے اپنی سفارشات میں کہا کہ ایف بی آر افسران ٹیکس محتسب آفس پیراوائز کمنٹ بھیجتے وقت بے بنیاد اور بغیر کسی قانونی وجوہ کے وفاقی ٹیکس کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھاتے ہیں جوٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔

وفاقی ٹیکس محتسب کے مطابق ٹیکس افسران بے بنیاد اور غیر ضروری اعتراضات کی روش سے باز نہیں آتے۔(پکسا بے)

وفاقی ٹیکس محتسب نے ری فنڈ کی ایک شکایت کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل بیورو آ ف ریوینیو (ایف بی آر) افسران کےغیر ضروری اور بے بنیاد اعتراضات ٹیکس دہندگان کے لیے مسائل اور وقت کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں اور اس صورتحال میں ان کی شکایات کے ازالے میں زیادہ وقت بھی لگ جاتا ہے۔

قانونی طور پر ایف بی آر افسران وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے فیصلوں کے خلاف صدرِ پاکستان کو نظر ثانی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی 2018 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اکثر صدارتی  فیصلے ٹیکس محتسب کی سفارشات کی توثیق کرتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سونے کی کھربوں روپے مالیت کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات کے خلاف ایف بی آر کی نظرثانی درخواست خارج کی۔

 وفاقی ٹیکس محتسب نے سونے کی غیرقانونی تجارت پر ٹیکس حکام کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی تجویز دی تھی جس کے خلاف ایف بی آر نے صدر مملکت سے رجوع کیا تھا۔

صدر نے ایف بی آر کے دائر کردہ ریفرنس پر فیصلے میں کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے سوموٹو اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا اور سسٹم کی بہتری کے لیے یہ سفارشات قابل تعریف ہیں جن کا مقصد ٹیکس چوری روکنا ہے، نیز ٹیکس انتظامیہ ان سفارشات کے نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے جون 2018 میں سونے کی غیر قانونی تجارت اور کسٹم حکام کی بدانتظامی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

اسی طرح صدر نے  وفاقی ٹیکس محتسب  کی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کے بارے میں سفارشات کے خلاف کسٹم کوئٹہ کی نظر ثانی درخواست (اپیل) خارج کی۔

وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایف بی آر کو سفارش کی تھی کہ چیف کلیکٹر (انفورسمنٹ) کوئٹہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ضبطگی رپورٹس کی جانچ پڑتال کرے اور ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کی روک تھام نہیں کی بلکہ سمگلرز کی شناخت کو بھی خفیہ رکھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق وفاقی ٹیکس کی زرعی آمدنی کے استثنا سےمتعلق سفارشات کے خلاف ایف بی آر کی نظر ثانی کی درخواستیں بھی صدر مملکت نے خارج کی ہیں۔ صدر نے ایف بی آر چیئرمین کو ہدایت کی کہ وہ چیف کمشنر آئی آر حیدرآباد کو تصدیقی عمل مکمل کرنے اور ٹیکس دہندگان کے حوالے سے مناسب ترمیم شدہ احکامات دیں، جنہوں نے ٹیکس سال 2014، 2015، 2016 اور 2017 کے لیے زرعی آمدنی کے باعث استثنا کا دعویٰ کیا ہے لیکن قانون کے مطابق حمایتی شواہد اور 60 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

جون کے مہینے میں صدر عارف علوی نے وفاقی ٹیکس محتسب کی کسٹم کے ویباک سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کے متعلق سفارشات کے خلاف ایف بی آر کی نظر ثانی کی درخواست خارج کی تھی۔

ٹیکس محتسب نے اربوں روپے کے سمگل شدہ موبائل فونز کی ریکوری پر سوموٹو اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور کسٹم کے ویباک سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ 

حال ہی میں ایف ٹی او نے اپنی سفارشات میں کہا کہ ایف بی آر افسران ٹیکس محتسب آفس پیراوائز کمنٹ بھیجتے وقت بے بنیاد اور بغیر کسی قانونی وجوہ کے وفاقی ٹیکس کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھاتے ہیں جوٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔

ایسی سفارشات جن کا مقصد ادارتی اصلاحات ہوتی ہیں ان کے خلاف بھی ایف بی آر افسران صدر پاکستان کے پاس نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں۔حالانکہ صدر پاکستان نے سینکڑوں دفعہ یہ فیصلہ دیا ہے کہ ایف بی آر کی نظر ثانی کی درخواستیں غیر ضروری ہوتی ہیں۔

وفاقی ٹیکس محتسب کے مطابق تمام صدارتی فیصلوں کو نظر انداز کر کے ٹیکس افسران بے بنیاد اور غیر ضروری اعتراضات کی روش سے باز نہیں آتے۔ ایف بی آر کے افسران بجائے اپنی ذمہ داری پوری  کرنے کے، یا ٹیکس دہندگان کے شکایات کا ازالہ  کرنے کے، ٹیکس محتسب کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے پر مُصر نظر آتے ہیں۔

اس رویے کی وجہ سے  ٹیکس دہندگان کی شکایات مہینوں لٹکی رہتی ہیں۔

بین الاقوامی طور پر دیکھا جائے تو ٹیکس محتسب کا ٹیکس سسٹم میں بہت نمایاں کردار ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ٹیکس کلیکشن اور ٹیکس انتظامیہ کو درپیش مسائل کو ’ٹیکس وار‘ بھی کہا جاتا ہے۔  کسی ملک کو قرضہ دیتے وقت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اس کے ٹیکس نظام اور اس میں موجود بدانتظامیوں پر گہری نظر رکھے ہوتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی ویب سائٹ پر ’ہینڈ بک آف ٹیکس سمپلیفیکیشن‘ نامی کتابچے کے مطابق کسی ملک میں ایسے اداروں کا ہونا بہت ضروری ہے جو ٹیکس انتظامیہ پر نظر رکھے۔ یہ ادارے ٹیکس انتطامیہ سے الگ خودمختار ادارے ہوتے ہیں جیسے کہ عدلیہ،  ٹیکس محتسب،ایکٹرنل آڈٹ، ٹیکس پیئر ایسوسیشن  وغیرہ۔

ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی بنگلا دیش کے ٹیکس سسٹم میں کرپشن کی نشاندہی کی بنا پر بنگلا دیش کے پلاننگ منسٹر کو پارلیمنٹ میں ٹیکس محتسب بل لانا پڑا تھا کیونکہ 2005 میں ورلڈ بینک نے ٹیکس محتسب کی تعیناتی میں تاخیر پر 200 ملین ڈالرز کا قرضہ روکا تھا۔ بنگلا دیشی حکومت کو جولائی2005 میں ہنگامی بنیادوں پر ٹیکس محتسب ایکٹ لانا پڑا۔

آئی ایم ایف کے ایک لیگل ڈاکیومنٹ ’ہاؤ کین ان ایکسیسیو والوم آف ٹیکس ڈسپوٹس ڈیلٹ وید‘ کے مطابق ٹیکس محتسب کا دفتر ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس دہندگان کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے اور مسائل کے حل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

پاکستان کی بزنس کمیونٹی جو کہ ایک طرف حکومت  اور ایف بی آر کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتی ہے، دوسری طرف ٹیکس محتسب کے ادارے پر اعتماد کرتے نظر آتے ہیں اور ٹیکس محتسب کے ادارے کو مزید مضبوط کرنے کے خواہش مند ہیں۔ 

حال ہی میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینیئر مقصود انور پرویزنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب کے قانون اوررولز ریگولیشن میں ترمیم لاکر انہیں بزنس فرینڈلی بنایا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت