رابی کی ویڈیوز وائرل کرنے والے دو افراد کو ایف آئی اے کی تنبیہ

ایف آئی اے کے سائبر ونگ نے دونوں افراد کو ٹیلی فون پر خبردار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔

رابی پیرزادہ کا کہنا  ہےکہ بہت سی خواتین نے ان سے رابطہ کر کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے(ٹوئٹر)

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے اداکارہ، ماڈل اور گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نجی تصاویر اور ویڈیوز مختلف ویب سائٹس پر پھیلانے والے دو افراد کی نشاندہی کر لی ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جن دو لوگوں کی نشاندہی ہوئی ہے، انہوں نے تصاویر اور ویڈیوز کو مزید آگے پھیلایا ناکہ انہیں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

چند ہفتے قبل رابی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس کے بعد انہوں نے ایف آئی اے کو تمام سائٹس سے اپنی تصاویر اور ویڈیوز ہٹانے کی درخواست کی تھی۔

ایف آئی اے کے سائبر ونگ نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک ایک سو سے زائد لنکس بلاک کیے جبکہ درجنوں  سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ان تصاویر اور ویڈیوز کو ہٹایا ہے۔  

سرفراز چوہدری کا کہنا تھا وہ ان دونوں افراد کی معلومات افشا نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے دونوں کو ٹیلی فون پر تنبیہ کر دی ہے۔

دونوں افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے سوال پر سرفراز چوہدری نے واضح کیا کہ رابی نے اپنی درخواست میں صرف ویڈیوز اور تصاویر ہٹانے کی استدا کی تھی ناکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کسی کارروائی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرفراز کے مطابق، ایف آئی اے نے دونوں افراد کو خبردار کر دیا ہے لہذا امید ہے کہ وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ ’ہم اس انتظار میں ہیں کہ اگر رابی ان کے خلاف قانونی کارروائی کا کہیں گی تو ہم اس پر پورا ایکشن لیں گے۔‘

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے رابی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔

گذشتہ رات رابی نے یوٹیوب پرایک ویڈیو بیان میں بتایا تھا کہ ایف آئی اے حکام نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز آگے پھیلانے والے دو افراد عبداللہ اور عبدالرحمٰن کو شناخت کیا  ہے۔

رابی نے اپنے ویڈیو بیان میں مزید بتایا کہ ویڈیوز لیک ہونے کے بعد انہیں ماڈلنگ کی آفرز ملنا شروع ہو گئیں جنہیں انہوں نے مسترد کر دیا۔

وہ اپنے ویڈیو بیان  میں کئی بار اشک بار ہوئیں اور کہا جنہوں نے ان کی ذاتی ویڈیوز کو پھیلایا وہ بھی بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے اور انہیں بھی خدا سےمعافی مانگنی چاہیے۔

رابی کا کہنا تھا کہ بہت سی خواتین نے ان سے رابطہ کر کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

رابی کے مطابق کہ ان پر بہت سے الزام لگے کہ وہ اس طرح کی ویڈیوز وائرل کر کے ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں یا انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بولنے کی سزا دی گئی ۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی فن