بلوچستان اور سندھ کے ساحل پر نایاب بلینکٹ آکٹوپس

میرین فشریز کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق انہیں بلینکٹ آکٹوپس کہا جاتا ہے چونکہ ان کی دم لمبی اور بلینکٹ کی طرح ہوتی ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق رواں ہفتے بلوچستان اور سندھ کے ساحل پر 0.8 میٹر لمبے بلینکٹ آکٹوپس ملے ہیں۔ ان آکٹوپس کا ریکارڈ ڈبلیوڈبلیوایف کے تربیت یافتہ ماہی گیروں کی طرف سے سامنے لایا گیا۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بلیکنٹ آکٹوپس پائے گئے ہیں۔ بلینکٹ نسل کے یہ آکٹوپس گھوڑا باری، ارماڑہ اور کیپ ماؤنٹ میں دیکھے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہی گیر سعید بادشاہ نے 7 دسمبر کو یہ آکٹوپس اورماڑہ کے ساحل سے 45 ناٹیکل میل کی دوری پر پکڑا اور بعد میں اسے واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔

دوسرا آکٹوپس ماہی گیر امیر بخش نے 8 دسمبر کو سندھ کے ساحل پر پکڑا، یہ ایک میٹر لمبا تھا، جب کہ تیسرا آکٹوپس ماہی گیر حسنات خان نے 9 دسمبر کو سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے سے پکڑا۔ تیسرا آکٹوپس 0.8 میٹر لمبا ہے، اسے بھی بعد میں بحفاظت سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔ 

واضح رہے کہ ڈبلیوڈبلیوایف کے تربیت یافتہ ماہی گیروں نے اس سے قبل بھی کچھوے، وہیل، شارک، سن فش سمیت بہت سے نایاب آبی جان دار پکڑ کر دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیے تھے۔ 

میرین فشریز کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق ’ہم نے بلینکٹ آکٹوپس کے حوالے سے نشاندہی کی تھی جو سب ٹراپیکل اور ٹراپیکل سمندر میں پائے گئے۔‘

محمد معظم کے مطابق انہیں بلینکٹ آکٹوپس کہا جاتا ہے چونکہ ان کی لمبی دم اورجلد بلیکنٹ کی طرح ہوتی ہے۔

مادہ کی لمبائی دو میٹر ہوتی ہے جب کہ نر نسبتاً چھوٹی اور لمبائی میں 2.4 سینٹی میٹرتک ہوتی ہے۔

ڈائریکٹر وائلڈ لائف ڈاکٹر بابر خان کے مطابق یہ دریافت ہمیں مدد دے گی کہ ہم ان کی نسل کے بارے میں مزید تحقیق کرسکیں۔   

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات