ظلم کے خار ’زار‘ اور انصاف کے ’گل‘

یہ کوئی غیر تو نہ تھے۔ کوئی دشمن تو نہ تھے۔ اسی ملک کے باسی تھے۔ پاکستانی تھے۔ ہم مذہب تھے۔ سب سے بڑھ کر انسان تھے لیکن کیا واقعی انسان تھے؟؟؟؟

مسیحائی کے وہ مراکز جہاں بدترین جنگوں کے دوران بھی داخل ہونے والوں کو پناہ اور زندگی مہیا کی جاتی ہے (اے ایف پی)

منصف کا انصاف بلند ہو، مجرم سے کہا جاؤ، پھول لے کر جاؤ کہ شاید ان کی بھینی بھینی خوشبو مجرم کے کردار کی بدبو کو ڈھانپ لے۔ شاید ان رنگ برنگے خوشنما پھولوں سے ان آنکھوں کو تراوٹ ملے جو اس روز منظرِ عام پر آنے والے سیاہ کرداروں کے مناظر دیکھ کر اب تک پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔ اس کرخت دن کی چبھن پوری قوم کے سینے میں کانٹا بن کر تاحال پیوست ہے۔

شاید کہ ان پھولوں پر پڑی شبنم کی نرم بوندیں پولیس وین کو لگائی جانے والی آگ بجھا دیں۔ شاید کہ ان پھولوں پر رقصاں تتلیوں کا تصور کر کے اس ’وحشی‘ انسان کو شرم آئے کہ جو آگ لگی پولیس وین پر ہلاکو خان کے انداز میں فاتحانہ رقص میں مگن ہے۔ شاید کہ یہ پھول مجرموں کی طرف سے ریاست پر پتھراؤ کا بدل بن سکیں۔ شاید کہ یہ پھول مرہم بن سکیں ان زخموں کا جو مجرموں نے معاشرے پر لگا دیے۔ شاید کہ یہ پھول مسیحائی کر سکیں اس انسانیت سوز گھاؤ کا کہ جس میں پوری قوم اور پوری دنیا نے دیکھا کہ چند شرپسند اپنی ہمالیہ سے بلند حقیر اناؤں کی تسکین کی خاطر کیسے ایک ہسپتال پر حملہ آور ہوتے ہیں کہ جہاں جنگوں کے دوران بھی بمباری نہیں کی جاتی۔

مسیحائی کے وہ مراکز جہاں بدترین جنگوں کے دوران بھی داخل ہونے والوں کو پناہ اور زندگی مہیا کی جاتی ہے۔ وہ جگہیں جنہیں پیغمبر اسلام نے خاص تاکید کے ساتھ محفوظ قرار دینے کی تمام انسانیت کو تلقین کی۔ یہ کیسے انسان تھے یہ کیسے مسلمان تھے کہ پیغمبر اسلام محمد کی نا فرمانی کرنے تک سے نہ چوکے۔ بوسنیا کی جنگ کے دوران، ہسپتالوں پر دشمن کے حملوں کی جو سیاہ تاریخ رقم ہوئی وہ آج بھی انسانیت کو شرما دیتی ہے لیکن یہ لاہور میں کون لوگ تھے؟

یہ کوئی غیر تو نہ تھے۔ کوئی دشمن تو نہ تھے۔ اسی ملک کے باسی تھے۔ پاکستانی تھے۔ ہم مذہب تھے۔ سب سے بڑھ کر انسان تھے لیکن کیا واقعی انسان تھے؟؟؟؟  جو گھناؤنا کام انسان کے روپ میں چھپے ان چند درندوں نے کیا، خدا کی قسم درندے بھی کانپ جائیں۔۔۔ جیتے جاگتے لوگوں کو تو پھولوں سے بہلانے پھسلانے کی کوشش کی گئی لیکن جن جیتے جاگتے زندگی کی آس میں آکسیجن ماسک پہنے، آپریشن تھیٹر میں لیٹے مریضوں کو نوچ نوچ کر پل بھر میں موت کی گہری اندھی وادی میں دھکیل دیا ان تک پھولوں کے گلدستے کون پہنچائے گا؟؟؟؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منصف کا انصاف بلند ہو، ایک ہدایت یہ بھی کر دی جاتی کہ جو بچ گئے ان کے ہاتھوں میں گل دستے تھما دو اور جو مر گئے ان کی قبروں پر پھول بچھا دو تو تا قیامت انسانیت اس احسانِ عظیم کے بوجھ تلے دبی رہتی۔۔۔

سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے

چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری

یار دوست کہتے ہیں کہ اب کی بار بھی کچھ نہ ہو گا۔ مرنے والوں سے مارنے والے زیادہ طاقتور ہیں۔ دل نہیں مانتا لیکن پھر یار دوست یاد دلاتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کیا انصاف ہو گیا؟ سانحہ ساہیوال میں کیا انصاف مل گیا؟ نقیب اللہ محسود کو کیا انصاف مل گیا؟ سانحہ خروٹ آباد والوں کو انصاف ملا ؟؟ مشال خان کو انصاف ملا؟ سیالکوٹ کے دو بھائیوں کو انصاف ملا؟ شاہ زیب خان کو انصاف ملا؟ کتنے ہی سینکڑوں ایسے واقعات کراچی تا کوئٹہ تا خیبر بکھرے پڑے ہیں۔ کبھی انصاف ملا۔ لیکن اپنا تو وہ حال کہ

آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی

ہم ایسے سادہ لوح کہ ہر بار آ گئے

ہر بار جب بھی اس اسلام فلاحی مملکت خداد میں جہاں کہیں مظلوم پر ظلم ہوتا ہے، ہر بار دلِ خوش فہم کو امیدیں بندھ جاتی ہیں کہ بس اب کی بار ۔۔۔ اب کی بار تو انصاف مل کر ہی رہے گا۔ لیکن نہ زمین پھٹتی ہے نہ آسمان گرتا ہے۔ بس چند روزہ شور شرابے کی فیشن زدہ شوشا ہوتی ہے اور معاشرہ آدم خوری کے نئے شکار کی طرف رواں دواں ۔۔۔ زمیں پھٹتی ہے تو محض مظلوم کے لیے جس میں وہ مر کر گڑ جائے آسماں گرتا ہے تو محض مظلوم کے خاندان پر۔ لیکن ہماری بلا سے۔ پس ثابت ہوا کہ اس اسلامی فلاحی مملکتِ خداد میں مرنے والے سے مارنے والا زیادہ طاقتور ہے۔

قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی

مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر

یہی تو دلیل دی جا رہی ہے کہ ہسپتال پر حملے کا جواز موجود تھا۔ یہی تو دلیل فلسطین کے ہسپتال پر اسرائیلی حملوں کی ہوتی ہے۔ کیسا اخلاقی قحط الرجال ہے۔ کبھی سوچا نا تھا۔ ہر نئے واقعے کی صورت میں اس معاشرے کے نئے نئے عیب آشکار ہوتے ہیں۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے، زبانیں گنگ رہ جاتی ہیں ۔۔۔ لیکن اتنا تو ہوتا ہے کہ کچھ لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ علم و دانش، عقل و حکمت کی اعلیٰ مسندوں پر بیٹھے بونے دھڑام بوس ہونے لگتے ہیں۔ کہاں کی انسانیت، کہاں کی جمہوریت، کہاں کے اصول، چند کالے کوٹوں میں چھپے سیاہ کردار روز روشن کی طرح اظہر من الشمس ہونے کے باوجود اصرار ہو رہا کہ یہ تو ہم نہ تھے۔ شکوہ اوروں سے ہو رہا کہ بدمعاشی فریقِ خالف کی بھی دکھائی جائے۔

ڈاکٹروں کی طرفداری ہرگز نہیں لیکن سیلف ڈیفنس کو بدمعاشی کا نام محض آپ کی خواہش پر ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔ معذرت کے ساتھ۔۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں ینگ ڈاکٹرز بھی غیر قانونی حرکات کرتے رہے ہیں، تب اس کی بھر پور زور و شور سے مذمت کی اور خدا نا خواستہ آئندہ ایسی حرکات کی گئیں تب بھی اسی طرح آئینہ دکھاتے رہیں گے۔ جیسے آج چند وکلا کو دکھا رہے ہیں۔ آئینہ دکھانے میں یہی برائی ہے۔ جب اپنا بھیانک مکروہ چہرہ نظر آئے تو آئینہ توڑ دینے کا دل کرتا ہے۔ بھلا ہو اعتزاز احسن جیسی شخصیت کا کہ ببانگ دہل غلط کو غلط کہا۔

کوئی مصلحت، کوئی اگر مگر، کوئی چونکہ چنانچہ نہیں۔ بصد احترام حیرت تو اس قوم وعدالت عالیہ کی مسلسل خاموشی پر بھی ہے۔ ابھی چند ہی روز بیتے کہ ایک آئینی عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملے پر کیسے کرید کرید کر آئین اور قوانین کی کتاب کھنگال ڈالی۔ وکلا نے آئین اور قوانین کی سرعام دن دہاڑے دھجیاں اڑا ڈالیں، انسانیت کا قتل کر ڈالا لیکن ایسی خامشی کہ کان بہرے ہو گئے۔۔۔ شاید منظر بھوپالی نے ایسے ہی حالات کے لیے سچ لکھا تھا۔

آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں

یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ